106
کیسے رہیں نہ لوگ یہاں سب ڈرے ہوئے
اس شہر میں ہیں چور سپاہی ملے ہوئے
دہلیز پر ہیں اب بھی نگاہیں دھری ہوئیں
اک عمر ہو گئی ہے کسی کو گئے ہوئے
چہرے پہ حسرتوں کی سیاہی ملی ہوئی
آنکھوں میں زرد شام کے سائے بھرے ہوئے
کون اِس اندھیری رات میں نکلا ہے شہر سے
کاندھوں پہ اپنے درد کی گٹھری رکھے ہوئے
پردیس میں جوان گرا ، اور گر گئے
گاؤں میں دو لرزتے ہوئے ہاتھ اُٹھے ہوئے
ثبین سیف
