خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکراچی کیلئے تخریبی پیکیجز
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کراچی کیلئے تخریبی پیکیجز

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 23, 2022
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 23, 2022 0 تبصرے 39 مناظر
40

ملک کو چلانے والے جب اس بات سے مبرا ہوجائیں کہ جس سرزمین کی آبیاری پر انہیں تعینات کیا گیا ہے ،جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے انکے کسی عمل سے اسے نقصان تو نہیں پہنچ رہا ۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہ میں ارباب اختیار ایسے ہی ملتے رہے ہیں کہ جواجتماعی یا ملکی مفاد ات پر اپنے ذاتی یا انفرادی مفادات کو ترجیح دیتے رہے ہیں ۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح ;231; سے جب پوچھا گیا کہ اجلاس میں چائے یا کافی پلانی ہے تو انہوں نے جو جواب دیا وہ حقیقت میں ایک پالیسی (حکمت ِ عملی)کی واضح دلیل تھا ، آپ ;231; نے فرمایا کہ چائے یا کافی اپنے اپنے گھروں سے پی کر آئیں ۔ بظاہر یہ ایک انتہائی معمولی سی بات تھی لیکن یہ واضح دلیل واشگاف بیانیہ تھا کہ عوام کے پیسے سے حکمران چائے تک پینے کے مجاز نہیں ہوسکتے ۔ سماجی ابلاغ کی مرہونِ منت ایسے بے تحاشہ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جن سے بانیانِ پاکستان کے ان اعمال سے پردہ اٹھتا ہے جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو خود مختیار اور با اختیار بنانے کیلئے ذاتی مفاد ات کو بالائے طاق رکھنا پڑے گا، وہ عظیم لوگ تھے اپنی ذاتی شان و شوکت کو صرف اسلئے قربان کردیا کے پاکستان کی عوام اپنے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں دیکھ کر مایوس نا ہوجائے ۔ بانیانِ پاکستان قوم کی تربیت اصولی راہوں پر استوار کرنا چاہتے تھے، انصاف کا بول بالا چاہتے تھے اور مدینے کی ریاست جیسا نظام مصطفے ﷺ چاہتے تھے ۔ ملک نے اڑان بھی بھری اور دنیا کو اپنے وجود سے متاثر بھی کیا ، کئی ممالک کو انکے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد بھی کی، جو آج دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ معلوم نہیں کہاں سے ہمارے ملک کی بنیادوں میں بدعنوانی کی دیمک چمٹ گئی جبکہ پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا خون شامل تھا ۔ بس پھر کیا تھا ہم نے جیسے تنزلی کا سفر شروع کر دیا ہمارے حکمران تو ذاتی حیثیت میں خوشحال ہوتے چلے گئے لیکن پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبدتا ہی چلا گیا ۔ سیاسی حکمران ہوں یا عسکری پاکستان نے سکھ کا سانس نہیں لیا ، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارا ملک دنیا کے گدھوں کی نظر میں تر نوالا سمجھا جانے لگا ۔ یہ بھی خدا کی خاص رحمت ہے کہ ہماری افواج اور ہماری قوم وطن عزیز کی طرف اٹھنے والی ہر بری نگاہ کو نوچنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر اس کام کیلئے وہ کسی رہنمائی کے بھی محتاج نہیں ہوتے ۔

پاکستان بہت سارے شہروں ، گاءوں دیہاتوں کا ایک خوبصورت گل دستہ ہے لیکن اس گلدستے میں لاہور، پشاور اور کوءٹہ اہم شہر ہیں جن کی بہتری کیلئے صوبائی حکومتیں ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی اپنا حصہ ڈالتی ہے ۔ ان سب سے بڑھ کر پاکستان کا معاشی مرکز اور کبھی روشنیوں کے شہر کے نام سے جاناجانے والا شہر کراچی ہے جس کی حیثیت اس لئے بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہ بندرگاہ رکھنے والا شہر ہے ، درحقیقت تو پاکستان کا یہ وہ شہر ہے کہ جس کیلئے سندھ کی صوبائی حکومت کیساتھ ساتھ دیگر صوبوں کی حکومت کو بھی چاہئے کہ و ہ اپنے سالانہ بجٹ میں کچھ رقم مختص کرے اور ساتھ ہی وفاق بھی سالانہ بنیادوں پر اس شہر پر خطیر رقم خرچ کرنے کیلئے آگے آئے ۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ پورے پاکستان سے لوگ روزگار کیلئے اس شہر کا رخ کرتے ہیں اور تقریباً تو ایک دفعہ آنے کے بعد یہیں کے ہوجاتے ہیں کیونکہ کراچی شہر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں بندہ بھوکا اٹھتا ضرور ہے لیکن بھوکا سوتا نہیں ہے ۔ اس صورتحال کی پیش نظر شہر کا حال کسی ایسے گلاس کی طرح ہوچکا ہے کہ جس کی گنجائش پوری ہوچکی ہے اور اب وہ اپنے اطراف یا گردونواح کی خرابی کا باعث بن رہا ہے ، یہ وضاحت بہت آسان اور سادہ انداز میں بیان کی گئی ہے جبکہ زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہیں ۔ خوشبوءوں اور روشنیوں کا شہر اب بدبودار اور تاریک زدہ ہوچکا ہے ، شائد یہاں یہ مثال صادق آتی ہے کہ اجڑگئے وہ باغ جس کے ہزار مالی تھے ۔ یہاں یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ اب وہ وقت ہوچکا ہے کے کراچی کا نام تبدیل کردیا جائے کیونکہ کراچی کے نام کے ساتھ جو خوبصورتی جڑی ہے وہ اب کراچی میں کہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ۔ اس ساری بدحالی کی ذمہ داری کسی ایک کے کھاتے میں نہیں ڈالی جاسکتی البتہ جو کراچی کے وارث بنے تھے وہ ضرور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں ۔ شہر کراچی کے نوجوانوں کو ایک منظم سازش کے تحت تعلیم سے دور کیا گیا تاکہ وہ اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کے اہل ہی نا ہوسکیں ، جس کا منہ بولتا ثبوت آج کا کراچی ہے ۔ شہرِ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بہت فعال ہیں اسکے باوجود دن دہاڑے لوٹ کھسوٹ اور جان لینی جیسی خوفناک وارداتیں عام ہورہی ہیں ۔

عروس البلاد شہر کراچی گزشتہ دو دہائیوں سے انتہائی زبوں حالی کا شکا رہے، ایسا بھی نہیں کہ شہر ِقائد نے پاکستان کی معیشت میں اپنے قلیدی حصے کو روک دیا ہو یا کم کیا ہو، ایسابھی نہیں کہ شہر کی خوشحالی کیلئے گلی محلوں کی بحالی کیلئے سبز باغ دیکھانے والوں کو اپنے قیمتی ووٹ نا دئیے ہوں ، سب کچھ کرنے کے باوجود شہر کراچی کسی لاوارث کی مانند اپنے بد ترین شب و روز دیکھ رہا ہے ۔ کسی نے کراچی کی بدحالی پر رحم کھایا اور اربوں روپے دینے کا وعدہ کیا پھر کسی نے ایسا ہی کیا نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ملک کا سب سے بڑا ریوینو پیدا کرنے والے شہر کی بحالی کیلئے نا تو وفاق کے پاس پیسے ہیں نا ہی صوبے کے پاس لیکن صوبائی حکومت کا ایک ایک رکن اربوں کھربوں کا مالک ہے ۔ شہر کراچی میں پیدا ہونے والے اسی شہر میں رہنے والے اب ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے سے رہتے ہیں ۔ کراچی بدحال ہی نہیں بلکہ ایک انتہائی غیر محفوظ شہر بھی ہے ، راہ چلتے یہ انتظاربھی رہتا ہے کہ کب، کہاں سے کون آئے گا اور ہم سے ہماری زندگی سمیت سب لوٹ کر لے جائے گا، جب لوگ کشیر ، افغانستان یا فلسطین کی بات کرتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ وہاں مزاحمت کرنے پر شھادت تو ملتی ہے وہاں اپنے اپنے دشمن کا واضح پتہ تو ہے لیکن ہمارے شہر کراچی میں کچھ پتہ نہیں کون کررہا اور کون کروا رہا ہے ۔ کراچی کی بحالی کا نام لے کر دئیے جانے والے پیکیجز دراصل کراچی کیلئے تخریبی پیکیجز ہیں ، جو ایک کے بعد ایک ملتے ہی چلے جارہے ہیں ۔ یہاں بلدیاتی انتخابات کا بھی تذکرہ کرتے چلیں جو مسلسل التواء کا شکار ہورہے ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی کے ذاتی مفادا ت کو ان انتخابات کی وجہ سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ا

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سچائی کے پردے
  • آروو ایجوکیشن پریس
  • گردش کے انتخاب کی حالت میں مرگیا
  • بجوکا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
چالاک عورت
پچھلی پوسٹ
آکسفورڈ میں

متعلقہ پوسٹس

سو روپے 

اکتوبر 26, 2019

مقصد حیات

جون 20, 2024

رضیہ بٹ :شہر میں جو ہے سوگوار ہے آج

اگست 9, 2022

اُترن

اگست 30, 2019

’’نِت نئے نقش بناتے ہو مِٹا دیتے ہو‘‘

نومبر 6, 2020

غلام سے امامِ امت تک

جنوری 10, 2026

ہے بحرِ بے کَنار سے اَفزُود تیری یاد

اکتوبر 27, 2025

فرشتہ بھی نہیں آیا

نومبر 29, 2017

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں

جون 3, 2020

عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط

مئی 7, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جب اکیلے میں تجھے یاد کیا...

نومبر 4, 2025

محبت میں دَغا دوں گا

اپریل 1, 2020

بارِ گراں کا ماجرا چلتا رہا...

مئی 19, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں