خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکمہارن
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

کمہارن

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 31, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 31, 2021 0 تبصرے 66 مناظر
67

اس نے بابل، عکادی اور اشوری تہذیبوں کی جنم بھومی منطقۃ بین النہرین میں عرصہ درازتک بادیہ پیمائی کی۔ بیابانوں کی خاک چھانتے، دشت پیمائی کرتے, بلادالشراۃ اور سینائی سے ہوتے ہوئے وادی نیل پہنچی۔ یمن سے لے کر یونان تک گرد میں اٹی، کہیں غبارمیں اڑی، دھول مٹی ہم رکاب ہوئی اور کہیں اڑتی خاک اس کی ہمسفر۔ ‘سفراندر وطن’ میں، ہر جگہ، دھرتی کے انمول خزانوں سے کچھ نہ کچھ ساتھ لیا۔ اس آبلہ پائی کے صلے میں اسے نئی سے نئی راہیں سجھائی دیں۔ وہ سندھ طاس کے میدانوں سے دریاؤں کی گاد اور بھل لے آئی۔ ایودھیا، متھرا اور لمبینی کی چکنی مٹی بھی ڈھونڈھ لائی۔ اس کا پدارتھ ابھی بھی پورا نہیں ہوا تھا۔ کوٹیل سے اس نے چونا لیا۔ پہلے انسان کے مدفن گولگوٹھا یعنی کھوپڑی کی جگہ اور کیلوری پہاڑی سے بھی لومی مٹی لے آئی۔

اس مالیدہ میں دشت پاران کے ‘مینڈ لگا کر روکے گئے’ چشمے کا پانی ملا کر ساننا شروع کیا۔

برسات کی پہلی شام میں کھلنے والی رات کی رانی کی مد بھری سگندھ چرا لائی، دھکتے انگاروں پر پڑی صندل کی جلتی لکڑی کی نکہت مستانہ مچلتے دیکھی، توپکڑ لائی۔ مر، مصطکی، لون، لبان کو ملا کر بنائے گئے پاکیزہ تیل لگی مقدس زلفوں کی بھینی بھینی لپٹیں بھی لیں۔ سب ملا کردیکھا، مٹی کا سوندھا پن نہ بھایا۔

خوشبووں کے شہر ختن سے آہوئے تاتاری کی مشک لائی، مہنگے داموں عود ہندی خرید کر لائی، عنبرسر سے عبنر اشہب لا کراس مٹی میں ملایا، کچھ بھی دل کو نہ بھایا۔ پھر تلاش میں نکلی۔ کائنات کی ساری خوشبویں بیگانہ لگیں۔

پہلی مرتبہ رجولا ہوئے کنوارے لڑکے کے پسینے کو اس گوندھی ہوئی مٹی میں ملایا، باس ہر طرف پھیل گئی، تو سرشار ہو گئی۔ اس کے بےرنگ گالوں پر گلابوں کا رنگ نکھر گیا۔

جب مٹی کے اس ڈھیلے کو کمہارن نے اپنے ہاتھ میں اٹھایا تو یوں لگا پوری کائنات ہاتھ میں آگئی ہے۔

اس ڈھیلے کو چاک پر رکھ کر اسے گھما دیا۔ مشاق ہاتھوں نے کہیں سے دبایا، کہیں سے ابھارا۔ نرم و نازک انگلیوں نے مختلف پیکر، چھوٹے بڑے، تراش کر دیکھے۔ پھر گوندھا، رکھا، پھر گھمایا۔ بار بار تراشا۔ بہتر سے بہتر۔ کال چکر کے ساتھ وہ خود بھی گھوم گئی۔ لیکن یہ کیا؟ مقصود نظر نہ پا سکی، تصویر ابھرتے ابھرتے گم ہوجاتی۔ مجمع سی اکائی نکلتے نکلتے کہیں کھو جاتی۔ یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ اس کے اندر کوئی سایۂ متحرک مضطرب تھا، کوئی غیر محسوس آوازِ بازگشت تھی جو انوکھا پیکر ڈھونڈتی تھی۔ تصور میں موجود خیال کو قالب آرزو میں ڈھال نہ پائی۔

سالوں بعد ایک دن گھڑیال کی گھومتی سوئی کی طرح چکر کھاتے پہیے کے اوپر ایک اعلیٰ تصویر ابھر آئی۔ وہ عالم محویت اوراستغراق سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس حسین و دلکش چہرے پر نظر نہیں ٹکتی تھی۔ اس میں کوئی خاص بات تھی, ایک ایسی بات جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ شب و روز کی محنت رنگ لا رہی تھی۔ کام جاری رہا اور پھر اگلے کچھ دنوں میں ایک جوان مرد کا حسین مجسمہ تیار ہو گیا۔ خوشبو بھرا نور کا پیکر۔

اس کو نکھارنے کا کام پھر بھی جاری تھا۔ جب کبھی وہ تھک جاتی تو اسی کے سامنے سو جاتی خوابوں میں وہی مورت اس کے سامنے چلتی پھرتی نظر آتی۔ اس کے چہرے سے ٹپکتا نور کمہارن کی روح کو بھی منورکر دیتا۔ وہ اپنی ہی تخلیق کےعشق میں کھو گئی۔ اس کے گالوں پر بکھرے گلابوں کا رنگ گہرا ہو گیا۔

وہ ہوش میں بھی مدہوش ہی رہتی۔ بے خودی کےعالم میں اسے چھوتی تو نور میں رنگے ہوے برف پروردہ سراپا میں سختی و صلابت موجود پاتی۔ وہ پہروں اس کی طرف دیکھتی رہتی، باتیں کرتی، اپنے دکھڑے سناتی۔ سوچتی، مٹی کا یہ مجسمہ کب لچک پائے گا اور جھک کراسے اپنی پناہ میں لے گا؟ وہ اسی غم میں گھلی جارہی تھی۔ وہ پاگل ہو گئی تھی۔ عشق میں پاگل پن نہ ہو، دکھ نہ ہو، محویت نہ ہو تو اسے اختیار ہی کون کرے! دن ڈھلتے رہے، طلوع و غروب آفتاب کے ارغوانی مناظر بدلتے رہے، عشق کی لذت و سرشاری بڑھتی گئی۔

جذب و اغراق کی حالت میں کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا کہ وہ زندہ ہے، ہمیشہ سے ہی زندہ اور اس کی باتیں سن رہا ہے۔

مہینوں گذر گئے۔ اس رات چاند اپنے پورے عروج و شباب پر تھا۔ وہ شکوہ گو ہوئی "تو کب میری التجائیں سنے گا؟ تمہارے لب کیوں نہیں ہلتے؟” وہ بولتی گئی اور روتی گئی۔ روتے روتے آنکھ لگ گئی۔ صبح ہوئی تو دیکھا ہاتھوں میں نرمی آگئی تھی۔ رنگ بھی بدل گیا تھا۔ یہ دیکھ کراس کی التجاؤں میں جوش آگیا۔ سورج نے اسے حرارت بخشی۔ روشنی زندگی دیتی ہے، اس پربھی مہربان ہو گئی۔ وہ بھاگ کر اس سے ہم آغوش ہو گئی۔ مجسمے نے جھک کر اپنے گرم گرم ہونٹ کمہارن کے ماتھے پر رکھ دیے۔ گلابی گالوں کا رنگ سرخ ہوگیا۔

سال ہا سال بیت گئے یا یگ بیت گئے۔ وہ متوالی اپنے محبوب، اپنے دیوتا، اپنے آقا کی خدمت میں مست رہی۔ وہ اسکی پجارن تھی۔ اس کی ہر خواہش پر واری واری جاتی۔ اس کی محبت، نرمی گرمی حتیٰ کہ مار پیار سب ہنسی خوشی قبول کرتی۔ بادل کی طرح برستا تو وہ پیاسی دھرتی بن جاتی۔ طوفان کی طرح گرجتا تو بھاگ کر اسی کی آغوش میں پناہ لیتی۔ وہ بھی اس سے دور نہ جاتا۔ اس کے ساتھ رہتا، ہمیشہ اس کے اندر سمایا۔

وقت گذرتا گیا اور کمہارن بوڑھی ہوگئی۔ ہر فانی شے کی طرح اس نے بھی مٹ جانا تھا۔ کہنے لگی "میرے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ میرے بعد تیرے محلات کون سجائے گا؟ تو کہاں رہے گا؟”

بولا، "تیرے ہاتھوں نے مجھے بنایا۔ تیری سوچ نے مجھے نکھارا۔ تو ہی بتا؟”

کمہارن بولی "ہاں! میں تو نہیں جا سکتی لیکن آہوے تخیل پر سوار کر کے میں تجھے پہنچا دوں گی، یہاں سے دور، بہت دور، جہاں کوئی فانی نہ پہنچ سکے، کوہ اولمپس کی چوٹی پر۔ ہواوں کے دوش پر اڑتے، نور کی شعاوں پر تیرتے اڈایا پہاڑ پر۔ افق کے اس پار، چاند اور سورج کی حدود سے بھی اس پار۔ وہ اوپر، حد نگاہ سے بھی اوپر، جہاں مکین و مکاں کی شناخت اوجھل ہو جاتی ہے، لامکاں جو وہم و گماں سے بھی بالا ہے۔”

پھر کمہارن میرے آقا، میرے دیوتا پکارتی اس کے حضور ڈھیر ہوکر مکت ہو گئی۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اُسے معلوم ہے اُس کو پتہ ہے
  • یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو
  • ملنے نہ کبھی آیا جو ایک زمانے سے
  • انتہاری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شاعرِ وقت
پچھلی پوسٹ
رسم کے مت اسیر ہو جاؤ

متعلقہ پوسٹس

بھلے غموں سے نڈھال بھی تھا

مئی 19, 2020

ذرا ہور اوپر

دسمبر 30, 2019

نشّۂ غم ہے اور ہم ہیں بس

جون 13, 2020

سیاہ جھیل سی آنکھیں

جولائی 31, 2022

رشوت اور اس کےنقصانات

جون 5, 2020

شعبان کی پندرہویں

مارچ 20, 2020

کسی دن آؤ

نومبر 15, 2025

دل کی دنیا میں غم شناس آیا

مئی 11, 2020

خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے

مئی 23, 2020

دیوتاؤں کے دیوتا

اکتوبر 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محسن

جنوری 9, 2021

فصیل دل میں در کیا کہ...

جنوری 12, 2025

جیسے جیسے کر رہا ہوں عمرِ...

جنوری 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں