خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکایا پلٹ
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

کایا پلٹ

از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2021
از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2021 0 تبصرے 54 مناظر
55

سردی ہی سردی۔ دھند ہی دھند، کئی دنوں سے سورج نے منہ نہ دکھایا تھا۔ خنک ہواؤں کی سنگینی تن بدن میں سرایت کر رہی تھی۔ سرشام ہی اندھیرا پوری کائنات پر چھا جاتا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے دن نکلے صدیاں بیت گئی ہیں۔ زہرہ کا معبد سمندر کنارے آسمان کی بلندی کو چھوتی پہاڑی پر پھولوں کے کنج میں واقع تھا۔ سارا دن قربانیاں، ذبیحے اور نذرانے گزرانے والوں کا ہجوم دھکم پیل کرتا رہا تھا۔

شام ڈھلتے ہی معبد کو جانے والے راستے کی دیواروں، مہرابوں اور پہلو دار ستونوں پر لٹکتے سینۂ محبوب کی طرح تابندہ و فروزاں قمقمے رات کے بیکراں دھندلکے کو شکست دینے کو تیار تھے۔ پورے شہر نے پہاڑی کی جانب رخ کر لیا تھا۔ جامۂ دریدہ زیب تن کیے کنواریاں دف بجاتے معبد کا طواف کر رہی تھیں۔ نازک اندام پریاں جن کے عبائے ابریشم کے دامن کولہوں تک وا تھے، دف کی دھن پر رقصاں محو خرام تھیں۔ ان میں کچھ ایسی بھی تھیں جن کی عریانی ہی ان کا پیرہن تھا۔ ہر بوالہوس سگ دیوانا بن کر ان کی ایک جھلک، ایک لمس پانے کے لیے پاگل ہو رہا تھا۔

عشق کی افتادگیاں اور حسن کی بے نیازیاں جلوہ افروز تھیں۔ ہرطرف نظر باز چھچھورے، حسن کے دلدادگان پرے جمائے کھڑے تھے۔ پرہجوم راستوں پر مقامی زائرین، ملاح، مسافر، تاجر، امراء و غربا، شاہ و گدا سب حسن کی دیوی زہرہ کی مورتی کے سامنے ماتھا ٹیکنے اور ذی حیات دیویوں کے درشن کو وہاں پہنچ رہے تھے۔ اک ہجوم عصیاں، گاہ خیزاں گاہ افتاں، کشاں کشاں راہ کاٹتا معبد کی طرف رواں دواں تھا۔

وہ کون تھا؟ سب جانتے تھے کہ وہ مرد ہے، مرد کا بچہ بھی۔ اس کے آتے ہی سب نے خود کو کونوں کھدروں میں سمانا شروع کر دیا تھا۔ ہٹو بچو کی صدا نہیں، کوڑوں چھانٹوں کی گونج نہیں لیکن سب راستہ چھوڑ کر دیواروں کے ساتھ چپک گئے تھے۔ توانا و مضبوط پر شباب جسم، لمبی گھنی زلفیں جو مرمریں گردن کے گرد حلقوں اور نرم نرم گچھوں کی صورت میں حصار بنائے لٹک رہی تھیں۔ ریعان شباب کی روئیدگی رخساروں پر عیاں تھی۔ پر فسوں بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جو ایک پل بھی کسی جگہ پر ٹکتی نہ تھیں۔ بھاری مژگاں مدھ بھرے نینوں پر سایہ کیے ہوئے تھیں۔ ابروؤں کی محراب پرخمار آنکھوں کی خوبصورتی کو بڑھاوا دے رہی تھی۔ روں روں اور انگ انگ خردۂ مینا کا حکم رکھتا تھا۔ آتش تر، شعلۂ شباب، جلوۂ حسن اور گرمیٔ عشق کے عناصر اربعہ اس کی رگوں میں دوڑنے والے خون کو حرارت بخشے ہوئے تھے۔ اس ارض فانی پر سندرتا میں اس کا ہم پلہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ کوہ اولمپس پر بسنے والے دیوتا بھی اس سے شرماتے ہوں گے۔

جنسی ہیجان میں مدہوش وہ دوشیزاؤں، داسیوں، مرلیوں اور مقدس اچھوتیوں سے اٹھکھیلیاں کرتے معبد کی طرف ہی جا رہا تھا۔ گاہ بالوں کو چھوتا، لب لعلین کی رنگت چراتا اور گاہ نوخیز پستانوں کو دباتا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ جس کو بھی چھوتا ہیجان لمس کی کلکاریوں سے وہ مہک جاتی۔ پیرہن میں پنہاں اثمار شباب کو ٹٹولتا تو کومل دوشیزاؤں کے نیم سماوی گداز بدن لذت درد سے کراہنے لگتے۔ مرکزی دروازے پر پہنچا تو ایک داسی نے نم آلودہ زلف دراز سے اس کے منہ کو دھویا۔ ایک کنواری نے اپنے ململ کے پیراہن سے اس کے پاؤں صاف کیے۔ حوران معبد کی نگاہوں میں ہیبت و الفت کے جذبات کا امتزاج چھلک رہا تھا۔ سب دیدہ و دل فرش راہ کیے سامنے کھڑی تھیں۔ لیکن وہ معبد میں داخل ہو کر سیدھا زہرہ کے مجسمے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

عقیدت مندوں کے نذرانوں اور پھولوں سے آراستہ سنہری چبوترے پر ایستادہ قد آدم سے بھی بلند برہنہ اندام زہرہ دیوی ایک زندۂ جاوید ہستی معلوم ہوتی تھی۔ دایاں بازو کندھے سے تھوڑا اوپر ہوا میں لہرا رہا تھا جبکہ پہلو کے ساتھ جڑا بایاں بازو پیٹ اور کولہے کے گرد لپٹی مہین و باریک شال تھامے دیوی کے عیاں اندام کو نہاں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پروہت اعظم ہاتھ میں ایک سنہری طشت اٹھائے دیوی کی دائیں جانب کھڑا ہیرے جواہرات کے نذرانے وصول کر رہا تھا۔

گلے میں پہنا ہوا قیمتی ہار دیوی کے چرنوں میں رکھ کر بولا ”اے گل اندام، اے نقش فائق، محبوب جواں مرداں، تیرا پجاری، تیرا یہ پرستار آج خود کو تجھ پر قربان کرنا چاہتا ہے۔ اے حسن و عشق کی دیوی، اے انسانی جذبات میں سے سب سے اعلیٰ جذبہ، جذبہ محبت کی خالق، وہ محبت جسے آرزوئے بوس و کنار کہیے یا ہوس عشق، آج یہ دیوانہ اسی جذبے کے ساتھ تیرے قرب کا خواہش مند ہے۔ آج میری آرزو طلب تجھے اپنانا چاہتی ہے۔ مجھے اپنا ہم آغوش ہونے دے۔“

نذرانوں کو ٹھوکر مارتا، پھولوں کو مسلتا اس کے سیمیں ساق کا سہارا لے کر چبوترے پر سوار ہو گیا۔ معبد کے اندر سناٹا چھا گیا۔ مورتی کے عریاں بازوؤں کے لمس سے آشنا ہوتے ہوئے وہ اس کے اندام کے طول عرض کو ناپنے لگا۔ نیم وا ہونٹوں کو بوسہ دیا۔ بولا ”معبد کو خالی کر دیا جائے۔ آج میں دیوی سے اختلاط کروں گا۔“

پروہت اعظم کے ہاتھ والی تھالی نیچے گر گئی۔ ہیرے و جواہرات دور دور تک بکھر گئے۔ سب بھاگ کر باہر چلے گئے۔ پروہت حیرانی کا ستون بنا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

بولا ”دیوی تو پتھر ہے۔“
اس نے غصے سے پروہت کی طرف دیکھا۔
”یہ عورت بنے گی۔ یہ معبودہ اب معشوقہ بنے گی۔ میں کایا پلٹ بوٹی ساتھ لایا ہوں۔“
اس نے ہاتھ میں پکڑی کپڑے کی چھوٹی سی گانٹھ کو دیوی کے بازو پر باندھ دیا۔

”دیوی اپنے چاہنے والے کے لیے کایا کلپ کرے گی۔ وہ گوشت پوست کے روپ میں آئے گی۔“ وہ مجسمے کو ہیجان خیز طریقے سے چومتا جا رہا تھا۔

”یہ ممکن نہیں۔ آپ حکم کریں کنواریاں پیش کی جا سکتی ہیں ، ایسی کنواریاں جو حسن دوشیزگی سے مالامال ہیں۔ جن کی نرم و نازک ہیجان انگیز رعنائیاں ان کے پیراہن سے بھی پوشیدہ ہیں۔ وہ ایسی دولت جمال کی مالک ہیں جس کو پانے کی جنوں آمیز دھن میں کئی شاہ و وزیر کوڑیوں کے مول بک گئے ہیں۔“ پروہت نے اشارہ کیا اور درجنوں اچھوتیاں اس کے سامنے آ گئیں۔ اس نے ایک جھلک دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ پروہت نے نیا پانسہ پھینکا ”تجربہ کار کسبیاں بھی مل سکتی ہیں۔ وہ کسبیاں جو بوس و کنار کے عجیب و غریب ڈھنگ جانتی ہیں۔ جن کے حقائق حسن سے واقفیت حاصل کرتے کرتے ہزاروں دیوانے سامان زندگی کی تمام قوتیں کھو چکے ہیں۔“

بہت سی داسیاں، مرلیاں، رنڈیاں اس کے سامنے پیش کر دی گئیں۔ لیکن وہ اپنی دھن کا پکا تھا۔ نشے میں دھت آنکھیں بند کیے کسی طرف بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ بے بس پروہت بولتا جا رہا تھا۔

”دیوی تو پتھر ہے۔ آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ اس کے ہونٹ برف کی قاش ہیں۔ آپ کیوں پتھر سے سر ٹکرانا چاہتے ہیں۔“ کچھ دیر کے توقف کے بعد پھر درخواست کرنے لگا

”دیوی کی یہ مورتی، مرمر کی بنی یہ عورت، سب کے لئے متبرک ہے۔ یہ حسن و عشق کی حاملہ، عفت مجسم بھی ہے، پاکیزگی و پارسائی کی نگہبان ہے۔ یہ عصمت کی دیوی بھی ہے۔“

اس نے خشمگیں ہوئے بغیر دیوی کی شال اتار کر نیچے پھینک دی۔ کمر اور رانوں کے درمیانی حصہ کو چھوتا ہوا بولا ”جتنی بھی متبرک ہے یہ میرے لئے صرف تسکین جنس کا کھلونا ہے۔ یہ حسن کی دیوی ہے۔ یہ صرف عورت ہے۔“

کایا پلٹ بوٹی سے مجسمے میں تغیرات آنا شروع ہو گئے تھے۔ بے جان اعضاء نے رمقنا شروع کر دیا۔ پاؤں میں جان آئی تو وہ چبوترہ سے علیحدہ ہو گئے۔ سارا معبد جگمگا اٹھا۔ وہ دیوی کو نومولود بچے کی طرح گود میں اٹھا کر نیچے اتر آیا۔ آہستہ آہستہ زندگی کے سارے نقش و رنگ اس میں حلول کر گئے۔ اس نے زہرہ کو اپنی باہوں کے حصار میں لپیٹ لیا۔ کچھ دیر وہ کسمساتی رہی اور پھر نہایت پھرتی سے اس کی گرفت سے نکل گئی۔

”اے آلودہ جسم کے مالک تو پاکیزہ روح سے اتصال کے لائق نہیں۔“ وہ دیوانہ وار اس کی طرف بھاگا اور پوری طاقت سے اس کو پکڑ لیا۔ زہرہ نے ایک ہی جھٹکے سے اسے زمین پر گرا دیا۔ طیش میں آ کر کہنے لگی:

”تو لاکھ ہرکولیس سے شہ زور سہی لیکن اس سم آلودہ قوت مجہول کے بل بوتے پر مجھے نہیں پکڑ سکتا۔ میں مبتلائے محبت جاہل الہڑ دوشیزہ نہیں، تو مجھے خستہ و خراب نہیں کر سکتا۔ تو عام عورت کے مذاق عشق کا عادی ہے، میں نئی عورت ہوں۔ تیری ہی کایا پلٹ بوٹی کی بدولت میں گوشت پوست کی ہوتے ہوئے پتھر جیسی سخت ہوں۔ آنکھیں کھول کر دیکھ میں کون ہوں۔ زندہ جاوید جدید عورت، عصمت کی دیوی، متبرک دیوی، پتھر کی نہیں لیکن پتھر کی طرح سخت۔ تو چراغ آخر شب ہے جو کچھ دیر مشتعل ہو کر خاک ہو جائے گا۔ آنکھیں کھول۔“

نشئی مضمحل آنکھوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اسے دیکھ سکتیں۔ پلکوں پر لدے گناہوں کے بار سے بند ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ آگے بڑھی، سرشتہ گیسوؤں سے لمبی طلائی پن نکالی اور اس پتلی سلائی کو اس کی آنکھوں میں گھونپ دیا۔ پرسکون، واپس اپنے استھان کی طرف چل پڑی۔ نقش پا پر کھڑی ہو گئی اور اشلوک پڑھتی ہوئی دوبارہ پتھر کی بن گئی۔

”میری بیٹیو! صدیوں لمبی کالی رات بیت چکی ہے۔ دیکھو! پو پھوٹنا شروع ہو گئی ہے۔ نئی سحر کی روح پرور رنگینیاں رخ عالم پر بکھر رہی ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہی روپہلی دھوپ نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ گلابی کرنیں شبنم کے قطروں میں جگمگاہٹ پیدا کر رہی ہوں گی۔ قوس قزح کے رنگ بکھر جائیں گے۔ آنکھیں کھولو اوردیکھو نیا سویرا طلوع ہونے والا ہے۔“

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کوئی ارمان میرے دل کا نکلنے نہ دیا
  • مرثیہٴ حسین اور انقلاب
  • جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ
  • ہیرا منڈی : ایک بلبل ہزار داستان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے
پچھلی پوسٹ
سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

متعلقہ پوسٹس

نَفَسِ آفرینش

مئی 26, 2025

ابتداء اور انتہا تها میں

مئی 21, 2020

اے کاش کہ گزرا وقت کبھی اک بار ہمارے ہاتھ...

اگست 15, 2020

کچھ ایسے اگلے سفر کی تکان طاری ہوئی

دسمبر 12, 2021

کرونا وائرس اور پاکستان

مارچ 15, 2020

مکتوب چترالی بنام اقبال

نومبر 9, 2025

درد

فروری 4, 2022

منافقت سے بھری محبت

اکتوبر 12, 2020

اُڑان

جنوری 24, 2020

فیوڈل فینٹسی

دسمبر 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یک طرفہ محبت

دسمبر 6, 2019

ماں کا دل

مئی 20, 2020

سفر

دسمبر 13, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں