خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکورونا کی لہروں میں ڈولتی دنیا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کورونا کی لہروں میں ڈولتی دنیا!

از سائیٹ ایڈمن اپریل 11, 2021
از سائیٹ ایڈمن اپریل 11, 2021 0 تبصرے 59 مناظر
60

کورونا کی لہروں میں ڈولتی دنیا!

وقت اپنی روش پر چلتا ہوا گزرتا جا رہا ہے، وقت انفرادی حیثیت میں بہت سبک خرام اور مستحکم ہے، اسطرح کہ دنیا میں کچھ بھی ہوتا رہے یہ نہیں رکتا، انسان کے احساسات جذبات معلوم نہیں اس وقت کو کیا کچھ کہتے رہتے ہیں لیکن بلا کی مستقل مزاجی سے بغیر کسی کے سوال کا بروقت جواب دیئے گزرتا چلا جاتا ہے(وقت آنے پر جواب خود بخود مل جاتا ہے) اور یہاں تک کے وقت کو برا بھلا کہنے والے افراد گزر جاتے ہیں اور وقت ہمیشہ کی طرح سبک خرام گزرتاچلا جاتا ہے۔ انسان قدرت کی فراہم کردہ فطرتی عجائبات کا مظہر ہے، ہردن نئے نئے تجربات کرنے میں مگن ہے ان تجربات کیلئے اسے کسی کیمیائی تجزیہ گاہ کی بھی ضرورت نہیں۔ اس امر سے بھی کم ہی آگاہی رکھتے ہیں کہ وہ قدرت کی تخلیقات میں کس اعلی و عرفہ درجے پر فائز ہیں۔ یہی حضرت انسان کبھی کچھ کرتا ہے تو کبھی کچھ اور اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا الزام وقت پر دھر دیتا ہے۔ دماغ میں ایسی گرہیں لگ جاتی ہیں کہ یہ اپنی غلطی ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا اور نا ہی اپنی اصلاح کی راہ تلاش کرتا ہے۔ خالق کائنات کا کن سب کچھ ویسا ہی کرنے پر قادر ہے جیسا کہ آسمانوں میں سب ایک باضابطہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں، پھرعالی مرتبت ٹھرانے کا، فرشتوں سے سجدہ کرانے کا بھلا کیا فائدہ ہوا۔

دنیا اپنے وجود میں آنے کے بعد صفہ ہستی سے مٹائی گئی پھر آباد کی گئی، پھر مٹائی گئی پھر آباد کی گئی اور پھر مٹائی گئی پھر آباد کی گئی (یہ بھی معلوم نہیں دنیا ہر بار کس شکل میں رہی ہوگی)۔ مٹائے جانے کے اسباب قران پاک میں اللہ رب العزت نے واضح طور پر بتادئے ہیں اور جہاں تک عقل کام کرتی ہے ایک نقطہ جو ہربار مشترک رہا وہ تھا نافرمان، یعنی ہر قوم نافرمان تھی جبھی تو وہ کسی انفرادی نوعیت کے گناہ کی مرتکب ہوئی۔ قوموں کو خود کو انفرادی نوعیت کے گنا ہ میں مبتلا کیا تو وہیں نافرنی ساری غفلتوں میں نمایاں رہی۔ کسی کواللہ رب العزت کی عطاء کردہ طاقت کا زعم رہا، کوئی ایسے غافل ہوئے کہ کائنات کے فلسفہ حیات کو اڈھیڑ دیا، ایک قوم نے علم کی تمام حدیں عبور کرڈالیں اور ایک قوم ایسی تھی جو ہیر پھیر کی وجہ سے ماری گئی۔ اب ہمارے لئے سب کچھ واضح کر کے رکھ دیا یعنی بتا دیا کہ جس جس کے ساتھ جو ہوا وہ کیوں ہوا اور آپ ایسا کچھ نا کرنا کہ قہار کی صفت کو للکار بیٹھو، ہمارے پیارے نبی ﷺ کے طفیل رحمتوں و برکتوں کا سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے، حقیقت میں تو اس امت نے ہر وہ کام کر چھوڑا ہے جن میں سے ایک کرنے پر اللہ نے دیگر اقوام کو صفہ ہستی سے مٹا دیا تھاجو نشان ِ عبرت انگنت سالوں بعد زمین نے نمایاں کرنے شروع کردئیے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہے کے ہمارے بعد کوئی اور امت نہیں ہے اسلئے اب صرف قیامت آئے گی اور سب کچھ سمیٹ دیا جائے گا پھر جنت ہوگی یا پھر جہنم،بیچ کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔

کورونا کی پہلی لہر نے ساری دنیا کو کچھ وقت کیلئے تقریباً سہم جانے پر مجبور کردیا تھا اور معلوم نہیں کتنے لوگوں نے اسے دنیا کی آخیر تسلیم کر لیا ہوگا، منصوبہ سازوں نے بروقت اپنی نشتیں سنبھال لیں اور بیٹھ گئے کہ کس طرح سے ان حالات سے اپنی اجارہ داری کو مزید مضبوط کرتے ہوئے مزید الجھاؤ پیدا کیا جائے۔ قدرت نے موقع دیا اور کسی طرح سے دنیا نے کچھ طے شدہ تدابیر کے رحم و کرم پر حالات پر قابو پانے کا غیراعلانیہ عندیہ دے دیا۔ بہت سارے ممالک ابھی بھی ایسے ہیں جنہیں کورونانے جکڑا ہواہے اور روزانہ سیکڑوں زندگیاں لقمہ اجل بنتی چلی جا رہی ہیں۔ سمجھنے کی بات ہے کہ موت برحق ہے اور اسکی حقیقت صرف اور صرف وہی جانتا ہے جس نے تخلیق کیا ہے، اب موت نے کیسے اور کب آنا ہے یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا جبکہ سب یہ ضرور جانتے ہیں کے موت کیلئے وقت کی کوئی قید نہیں ہے، یہ کسی بھی عمر میں آسکتی ہے اسکے لئے طاقت اور کمزور کی بھی کوئی شرط نہیں ہے، موت نومولود کو بھی آجاتی ہے، ایک نوجوان بھی کو ساتھ لے جاتی ہے اور ایک عمر رسیدہ کو بھی، غرض یہ کہ موت نے اپنے طے شدہ وقت پر ہماری روح قبض کرنی ہے۔ رزق اور موت کا علم صرف اور صرف اللہ تعالی کو ہے۔ ایک طرف موت کی حقیقت تو دوسری طرف کورونا کا سرائیت کرتا ہوا خوف، ہم اسے کھلا تضاد کہہ سکتے ہیں۔ ہم اگر کورونا کی پہلی لہر کے اوائل کی بات کریں تو ہر ایک فرد خوفزدہ دیکھائی دے رہا تھااور تقریباً ذہنی اذیت میں مبتلا ہونے کے قریب تھے کہ حالات سے سمجھوتا کرتے ہوئے خود کو حالات کے حوالے کردیا گیا جو کہ ایک بہترین فیصلہ تھا۔ اس طرح سے پہلی لہر میں پاکستان اور پاکستانیوں نے دنیاکے مقابلے میں نسبتاً بہت کم نقصان پر چھٹکارا حاصل کر لیا۔ دوسری لہر سے اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ زیادہ نقصان پہنچائے گی جس کی وجہ موسمِ سرما تھا لیکن بفضل اللہ تعالی بہت بہترین وقت گزار دیا گیا۔ اب تیسری لہر جو موگرمیوں کی آمد کیساتھ آئی ہے جو تقریباً ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جیسے کہ پہلی لہر کے شروع میں کئے گئے مثلاً دفتروں میں حاضری پچاس فیصد، کہیں اس سے بھی کم اور کہیں تو کام گھروں سے کرنے پر اکتفا کیا گیا، بازاروں، شادی حالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر مجمع والی جگہوں کو تقریباً بند کروادیا گیا اور باقاعدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ کورونا کی لہریں اب رکتی سجھائی نہیں دے رہیں۔ کورونا ایک ایسی آزمائش کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جو اب زندگی کیساتھ چلے گا، نا اس سے بچاؤ کی احتیاطوں کے بغیر جیا جاسکتا ہے، جینا تو احتیاطوں کے ساتھ بھی آسان نہیں ہو رہا۔

کشتی یا ناؤ کے ڈولنے کی دو واضح وجوہات ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ وزن گنجائش سے زیادہ ہوجائے جو توازن کو برقرار رکھنے میں مشکل کا سبب بن سکتا ہے اور دوسری وجہ جس پانی میں کشتی تیر رہی ہے جیسے سمندر، دریا یا نہر کسی غیر متوقع صورتحال پیدا ہوجائے جو کہ اسکے تخلیق کرنے والے کے سوا کسی بشر کے بس کی بات نہیں ہوسکتی۔ دنیا کے لئے کورونا بھی کسی ایسی ہی صورتحال کی ترجمانی کرتا محسوس کیا جاسکتا ہے کیا کرہ عرض پر وزن بڑھ گیا ہے طبعی وزن بڑھ گیا ہے یا پھر بدعمالیوں کا نادیکھائی دینے والا بوجھ زمین سے نہیں اٹھایا جارہا اور دنیا کے کارخانہ قدرت کو یہ بات کسی بھی طرح سے زمین کے توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت نہیں ہورہی۔جیساکہ اوپر کی سطور میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کیا وجوہات تھیں کے جن کی بنیاد پر اللہ رب العزت نے دنیا کو ختم کیا اب اس تناظر میں دیکھیں تو دور حاضر میں ہر ہر وہ کام عام دیکھائی دے رہا ہے جو وہ وجوہات کی ترجمانی کر رہی ہیں جن کی وجہ سے قوموں پر سخت عذاب بھیجا گیا۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک کرشمہ تاریخ کے اوراق میں چمک رہا ہے کہ کس طرح سے اللہ نے وقت کے طاقت ور انسان ابراہا کو اسکی تمام زمینی طاقتوں کیساتھ ایک چھوٹے سے پرندے اور اسکی چونچ میں آنے والی کنکری سے ایسا کردیا جیسے بھوس۔مادی اعتبار سے چونچ اور کنکری کی ہیت کا خود اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دنیا کے فیصلہ سازوں کو قدرت کے سامنے سرنگوں کرنا پڑے گا جسکے لئے حتمی فیصلہ کرنا پڑے گا وگرنہ دنیا مزید کورونا کی ہر لہر پچھلی لہر سے زیادہ خطرناک ہوتی چلی جائے گی اور ساری حکت عملیاں ساری طاقتیں دھری کی دھری رہ جائینگی۔

لوگ مختلف وجوہات کی بنا ء پر خود کو موت کے حوالے کردیتے ہیں یعنی زندگی ان سے گزرنے کا ایسا خراج طلب کرنے لگتی ہے جو وہ اداکرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور بحالت مجبوری موت انہیں اپنی طرف بلا لیتی ہے اور خود کشی کی شکل میں موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ جن حالات میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی دھری کی دھری رہے گئی اور معیشت کسی ہچکولے کھاتی ناؤ کی طرح ڈولنا شروع ہوگئی تو پاکستان جیسے ترقی پذیر اور تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کا کیا ہوا ہوگا۔ ایک طرف تو مخیر حضرات نے دل کھول کر خرچ کرنا شروع کیا، ضرورت مندوں کی ضروتوں کو پورا کرنے کی کوششیں کیں، کچھ کو یہ احساس ہوا کہ شائد ایسے حالات میں خرچ کی گئی رقم سے وہ کچھ اپنی ابدی زندگی کیلئے کچھ سازوسامان جمع کرسکیں لیکن یہ سب وقتی حل ہوسکتے ہیں حالات کی سنگینی روزبروز بڑھتی ہی جارہی ہے معیشت تھوڑی سی مستحکم ہونی شروع ہوتی ہے کے کورونا کی نئی لہر سر پر اآدھمکتی ہے جو معیشت سے واپس اپنے خول میں چلے جانے کا تقاضا کرنے لگتی ہے۔ دنیا کو اس وقت کسی ایک ایسے متفق منصوبے کی ضرورت ہے جو بلا کسی تفریق تمام دنیا کے ممالک کیلئے قابل عمل ہوجس پرغیر مشروط ہم آہنگی ہو۔ ایک ایسا نظام جوبین المذاہب ہو، طاقتوراور کمزور کے درمیان فرق کو ختم کرے،جو آنے والی نسلوں کو بھوک و افلاس سے روشناس نا ہونے دے، اسلحے کی دوڑ ختم کی جائے اور فوری طور پر اسلحہ سازی کی صنعت کو روک دیا جائے تاوقت کے دنیا کے تمام انسانوں کو برابری کے حقوق بحال نا ہوجائیں، علوم ہر خاص وعام کیلئے یکساں ہوں، سب بیمار ایک تسلیم کئیے جائینگے، عدل کی ذمہ داری ہر فرد کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ یہ وہ چیدہ چیدہ عوامل ہیں جنہیں اقوام عالم ایک چارٹر کی صورت میں پیش کریں اور اس پر عمل کو یقینی بنائیں۔بہت ممکن ہے اسکے توسط سے آسمانوں میں رہنے والے اور کائناتوں کے تخلیق کار کو خوش کرنے کی ادنی سی کوشش ہوجائے اور وہ کورونا نامی آزمائش سے ہم انسانوں کی جان چھڑوادیں اور پھر دنیا کو ویسا بنادیں جیسا کے بنانے والا چاہتا ہے۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عمر بھر درد کا جو
  • ایک بےسود خواہش
  • اُلو کا پٹھا
  • جسدِ خاک اڑاتی رہی اِس طور ہَوا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
احترام رمضان
پچھلی پوسٹ
جان لیوا وبائیں اور مسلمان سائنسدان!

متعلقہ پوسٹس

پاکستان میں بہتی دوستی کی سرسوتی

دسمبر 11, 2022

زندگی رکتی تو نہیں

فروری 2, 2020

دل میں کتنے شور لے کر

مارچ 23, 2025

ابابیل

جنوری 22, 2020

حالات قابو میں نہیں ہیں !

مئی 3, 2020

پھیلے ہوئے غبار کا پھر معجزہ بھی دیکھ

مئی 2, 2020

خدا کی قسم تم ہمیں

جولائی 11, 2025

جاؤں جس سمت اِجازت ہے مجھے

جون 13, 2020

قلم کی نوک پہ رکھوں گا

جنوری 5, 2025

آہ! محمد سلیم اختر

فروری 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پریم چند کی افسانہ نگاری

نومبر 15, 2025

ہتّک

نومبر 15, 2019

سفر در سفر

نومبر 14, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں