خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباایلف شفق کا ناول: حوا کی تین بیٹیاں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزتحقیق و تنقیدسیمیں کرن

ایلف شفق کا ناول: حوا کی تین بیٹیاں

از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2020
از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2020 0 تبصرے 71 مناظر
72

” حوا کی تین بیٹیاں“ ایلف شفق کے قلم سے نکلا ایک اور عمدہ ناول ہے۔ ناول چار ابواب یا چار حصوں میں منقسم ہے اور ہر باب کے نیچے بہت سی چھوٹی چھوٹی سرخیاں ہیں۔ ایلف شفق کے ناولز کی ایک خصوصیت سامنے ابھر کر آتی ہے وہ ہیں مضبوط نسوانی کردار جو کہانی میں کسی مفعول یا بھرتی کے کردار نہیں ہوتے بلکہ وہ کہانی کے فاعل ہوتے ہیں، وہ ”عشق کے چالیس دستور“ کی ایلا ہو یا ”گیارہ منٹ اڑتیس سیکنڈ“ کی لیلی ہو یا پھر ”تھری ڈاٹرز اف ایو“ کے مضبوط کردار۔ یہ نسوانی کردار ناول کے نام کی وضاحت تیسرے باب میں جاکر کرتے ہیں ملاحظہ کیجیے :

”تین مسلمان عورتیں آکسفورڈمیں، گناہ گار، ایمان والی اور کنفیوزڈ۔ یہ صرف مونا ہی نہیں تھی جو اس عجیب بے تکے سماجی تجربے کے لیے چنی گئی تھی۔ بلکہ اب اسے سمجھ آیا، دوسری اس کی سوتیلی بہن پری بذات خود تھی“ صفحہ 315

جی یہ وہ تین حوا کی بیٹیاں ہیں جو اس ناول کے ٹائٹل کی ذمہ دار ہیں، گناہ گار، ایمان والی اور کنفیوزڈ۔ ناول خدا کے تصور اور مروجہ تصورات پہ عمدہ اور حساس بحث رکھتا ہے اور فلسفیانہ اپروچ رکھنے کے باوجود ناول ایک مضبوط کہانی لے کر چلتا ہے، یہی ایلف شفق کی خوبی ہے کہ ان کے کردار اس قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ بہت سہولت سے ان کے منہ سے سب کچھ کہلوا دیتی ہیں۔

ناول کا آغاز استنبول کی مصروف ترین سڑک پہ ٹریفک میں پھنسی پری اور اس کی بیٹی ڈینز سے ہوتا ہے جہاں ایک ناگوار حادثہ ان کا منتظر ہے کہ رش میں پچھلی سیٹ پہ پڑا بیگ ایک اٹھائی گیرا چرا لیتا ہے۔ دونوں ماں بیٹیوں کو ایک مینشن میں ایک دعوت کے لیے جانا ہے کہ راستے میں یہ مصیبت آ لیتی ہے۔ ناول میں فلیش بیک تکنیک سے جگہ جگہ کام لیا گیا ہے۔ اسی باب میں پری کے بچپن کی زندگی دکھائی گئی ہے اس کا باپ منصور اور ماں سلمی دو مختلف دنیاؤں کے لوگ ہیں۔ سلمی ایک کٹڑ مزاج اور شدت پسندانہ مسلم معاشرے کی عکاس ہے جبکہ منصور کے عقائد میں ایک کھلا پن ہے، ایک سیکولر اپروچ جو اکثر لادینیت کو چھو لیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ منصور اور سلمی کے درمیان ہر وقت جھگڑا اور جھڑپ رہتی ہے۔ منصور کا اپنی بیٹی پری سے یہ مکالمہ دیکھیے :

”تم دیکھو میری جان، منصور نے کہا: میں، بکتاشئی یا مولاوی یا میلامی صوفی روایات جیسا کہ ان کی انسانیت اور ان کے مزاح کا مداح ہوں۔ قدیم فلاسفی اس ملک میں ختم ہو چکی ہے صرف یہیں نہیں مسلم دنیا میں تمام جگہ اسے دبا دیا گیا، خاموش کر دیا گیا، یا ختم کر دیا گیا ہے۔ کس لیے؟ مذہب کے نام پہ یہ خدا کا قتل کر رہے ہیں۔ نظم و ضبط اور بالادستی کی خاطر یہ محبت بھول گئے ہیں“ صفحہ 87

اور پری اپنے باپ کے زیادہ قریب ہے جس کی خواہش ہے کہ اس کی بیٹی اعلی تعلیم کے لیے اکسفورڈ پڑھنے کے لیے جائے۔ اسی باب میں اس کا ایک بڑا بھائی امت اپنے بائیں بازو کے خیالات رکھنے اور ایک پستول گھرمیں رکھنے پہ گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

کہانی 1990ء کے استنبول سے یک دم 2016ء میں چلی جاتی ہے جہاں پری اپنے خاندان کے ساتھ مدعو ہے مگر راستے میں اس اٹھائی گیرے سے جھڑپ کے دوران اس کا نہ صرف ہاتھ زخمی ہو چکا ہے بلکہ کپڑے بھی ملگجے ہوچکے ہیں اور جہاں ’بے بی ان دی مسٹ‘ اس کی روحانی مدد کر کے اسے چھٹکارا دلاتا ہے۔ ’بے بی ان دی مسٹ‘ کیا ہے واقعی کوئی روحانی تجربہ، کوئی جن، کوئی واہمہ، مصنفہ مختلف اشارے دے کر اسے قاری کی صوابدید پر چھوڑ دیتی ہے۔

باب دوئم میں پری برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچ جاتی ہے جہاں اس کی پہلی ملاقات شیریں سے ہوتی ہے شیریں ایک دلیر نڈر شوخ اور بقول اس کے خود ایک ”گناہ گار“ ایرانی نژاد کردار ہے جس کی دوستی کا دائرہ وسیع ہے وہ اسے پروفیسر آزر کے سیمینار ”دی گاڈ“ کو جوائن کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ دوسرا باب آکسفورڈ میں بتائے دن اور پھر 2016 ء میں اس ڈنر کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ آکسفورڈ سے پری کو اپنے دوسرے بھائی کی شادی اٹینڈ کرنے واپس استنبول آنا پڑتا ہے جہاں شادی کے بعد ہونے والا ہنگامہ اس کا منتظر ہوتا ہے۔

اس کا بھائی اپنی بیوی کے کردار پہ شک کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کا خاندان دوشیزگی کا ٹیسٹ کروانے ہاسپٹل پہنچ جاتا ہے یہاں مصنفہ دوشیزگی پہ کھل کر اظہار خیال کرتی ہے۔ پری جو کہ خود بھی کنواری نہیں ہے وہ اس تماشے کو عجیب نگاہ سے دیکھتی ہے جہاں ڈاکٹرز بھی اس عمل کو حقارت سے دیکھتے ہیں کہ انہیں ان کا اصل کام کرنے دیجیے۔

باب سوئم کا اغاز پروفیسر آزر سے پری کی ایک دلچسپ صورتحال میں ملاقات سے ہوتا ہے۔ پروفیسر جو ایک انتہائی قابل غیر روایتی استاد ہے جو خدا جیسے موضوع پہ سیمینار منعقد کرتا ہے۔ جہاں وہ فلسفیانہ سیاسی، سماجی سائنسی تناظر میں بحث کرتا ہے یہاں ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کے کچھ ٹکڑے ملاحظہ کیجیے :

” ہاں وہ ناراض اور جارح ہے آزر نے کہا، ناراض اور جارح مزاج خدا کا مطالعہ نہیں کر سکتے“
اسی طرح پری کی وضاحت پہ آزر نے جواب دیا:
” تجسس مقدس ہے، عدم یقینی نعمت ہے، آزر نے کہا اس نے اپنے خیالات کو دہرایا جو وہ اپنے پینل میں واضح کرچکا تھا جہاں تک تمھارے خیالات کی وضاحت و صفائی کا تعلق ہے میں آکسفورڈ میں آخری آدمی ہوں گا جس کے پاس تمھیں آنا چاہیے“
آزر جو ایک غیر روایتی استاد ہی نہیں ایک سوشل سائنسدان ہے جو اپنے طلبا کے ذہنوں کو کسی لیبارٹری کی طرح استعمال کرتا ہے اور انہیں مختلف تجربات سے گزارتا ہے۔ سیمینار کے دوران وہ طلبا کو خدا کی ڈرائینگ بنانے کو کہتا ہے جب سب طلبا اپنا تصور بنا چکتے ہیں تو وہ انہیں کہتا ہے اب ”جو خدا نہیں ہے“ کو پینٹ کرو ملاحظہ کیجیے :
” کیا پہلی ڈرائنگ خدا کی ہے، دوسری ڈرائنگ جو خدا نہیں ہے، کو ابھارتی یا خارج کرتی ہے؟ آزر نے کہنا شروع کیا، ایک لمحے کے لیے سوچیے خدا جو قادر مطلق ہے ہر طرف موجود ہے۔ سب طاقتیں اور قوتیں اس کے لیے ہیں کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہی یا شی جو بھی وہ ہے برائی بھی اسی پہ مشتمل ہے یا یہ شر اس سے باہر کچھ ہے۔ ایک بیرونی قوت جس سے اسے (ہی یا شی ) لڑنا ہے اور خدا کیا ہے اور کیا نہیں ہے کے درمیان اصل رشتہ کیا ہے“ صفحہ 229

اسی طرح ایک موقع پہ آزر کہتا ہے:
” مختلف ڈسپلنز کو باہم بن کر دیکھو، نتیجہ نکالو، صرف مذہب پہ فوکس نہ کرو، بلکہ مذہب سے دور رہو یہ صرف منقسم اور گڑبڑ کرتا ہے، حساب، فزکس، میوزک، پینٹنگ، شاعری، آرٹ آرکیٹیکچر کی طرف جاؤ، خدا کی طرف مختلف اور دوسرے چینلز سے جاؤ۔“
پری اپنے پروفیسر کی طرف ملتفت ہو جاتی ہے مگر اس کے رویے بہت جگہ اسے ہرٹ بھی کرتے ہیں خاص طور پہ جب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ تینوں شیریں جس کا تعلق ایران سے ہے، مونا جو مصری امریکن ہے اور وہ خود جس کا تعلق ترکی سے ہے؛ ایک گناہ گار، دوسری مومن اور تیسری کنفیوزڈ ؛ آکسفورڈ کے ہوسٹل سے ہٹ کر جس رہاش گاہ میں اکٹھی ہوتی ہیں دراصل یہ آزر کی تجویز اور ایک سماجی تجربہ ہے جس میں ان تینوں کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ جہاں بہت جگہ شیریں اور مونا کا تصادم ہوتا ہے تو وہ اس سے متنفر ہو جاتی ہے۔
سال نو کی تقریب میں آزر کی جانب سے مدعو پارٹی کے باہر ایک لڑکے ٹرائے سے اسے پتہ چلتا ہے کہ آزر اور شیریں کا باہم افیر ہے۔ یہ پری کو توڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے وہ خود کشی کی کوشش کرتی ہے، آزر کے خلاف ایک انکوائری تشکیل دی جاتی ہے جہاں بہت سے الزامات ہیں جس میں پری کی خودکشی کو اس سے منسوب کیا جاتا ہے اور شیریں کے ساتھ اس کا افیر زیر بحث ہے جہاں پری کی گواہی اسے بچا سکتی ہے مگر پری اس گواہی کے لیے نہیں پہنچتی۔ ناول کے آخر میں آزر کی زندگی کی کہانی کو بھی کھولا گیا ہے۔ ایک ایسا انسان جو خداؤں کی طرح مقدس و ماورا دکھتا ہے اس کی زندگی کی کہانی عام بشری کمزوریوں سے پر ہے۔
اور پری جس نے آکسفورڈ میں اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیا، تمام تر بغاوت اور پرعزم ہونے کے باوجود شادی کر کے بقول اس کے اپنی ماں کے جدید ورژن جیسی زندگی گزار رہی ہے، دعوت جس میں وہ پہنچتی ہے وہ حادثہ جس میں آکسفورڈ میں کھنچی گئی تصویر جس میں وہ تینوں لڑکیاں اور آزر موجود ہیں دعوت میں زیر بحث آتی ہے جو اسے یادوں سے باہر نکل کر شیریں سے رابطہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ شیریں سے رابطہ کر کے وہ تمام اعترافات کرتی ہے کہ وہ اس سے جیلس ہو گئی تھی۔
شیریں اسے پروفیسر آزر سے رابطہ کرنے کو کہتی ہے۔ اور جب وہ آزر سے رابطہ کرتی ہے تو وہ مینشن میں ڈاکوؤں کے حملہ کردینے کے باعث ایک الماری میں چھپی ہوئی تھی۔ آزر جو اس سکینڈل کے باعث اکسفورڈ کو چھوڑ چکا ہے اور اپنی تصنیفات میں خود کو گم کرچکا ہے، ان کے درمیان گفتگو حاصل مطالعہ ہے۔ مجھے دوران قرات یہ محسوس ہوا کہ مصنفہ نے در اصل الماری میں بند پری کو اس کے نظریات کی قید میں دکھایا ہے۔ جس میں بند وہ خدا کو دیکھتی ہے۔
ناول ایک مضبوط اور عمدہ کہانی کے ساتھ خدا کی طرف، خدا کے مطالعے کے بغیر تمام تعصبات حتی کہ مذہب کو بھی خارج کر کے دیکھتا ہے۔ یہ ایک عمدہ کاوش ہے جو آپ کے ذہن کو کئی سوالات کی جانب مائل کرتا ہے۔ اس عمدہ ناول کا اردو میں ترجمہ ہونا چاہیے۔

سیمیں کرن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فَریب دَر آتَش
  • مولوی عبدالحق اور اُردو زبان
  • ٹیڑھی لکیر
  • زخم کھلتے ہی چلے جاتے ہیں اظہار کے ساتھ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
چاچا ناشکرا
پچھلی پوسٹ
سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ

متعلقہ پوسٹس

کیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟

اپریل 29, 2026

اچھوت لوگو

اپریل 16, 2023

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام

مارچ 29, 2026

کوشش و تقدیر

جون 7, 2026

بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار

دسمبر 28, 2021

کوئی بھی کام کاج ٹھیک نہیں

جنوری 12, 2025

یہ بات الگ ہے کہ ہوئی پشت خمیدہ

اکتوبر 16, 2025

چراغ کا قد بڑھانے والوں کی خیر یا رب

جولائی 11, 2021

دست ربّ قدیر کی جانب

اپریل 25, 2020

احتجاج کی پیچیدگی اور شہری تحفظ کا چیلنج

اکتوبر 11, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ترے بعد کوئی بھی غم اثر...

مئی 11, 2020

جس طرف دیکھو قیامت کا سماں...

جنوری 7, 2023

اب کے منظر سے ہٹا دوں...

جنوری 22, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں