108
میرے دیکھے سے کوئی بھی ہو سنبھل پڑتا ہے
پاؤں رکھتی ہوں جہاں راستہ چل پڑتا ہے
میں شب و روز تجھے ڈھونڈتے رہنے کی نہیں
اس طرح میری توجہ میں خلل پڑتا ہے
اس کو سمجھاتی بھی ہوں راستہ گھر کا ہر بار
وہ مگر اور کسی سمت نکل پڑتا ہے
میرے گلدان میں کھلتے ہیں ترے لمس کے پھول
میری شاخوں پہ ترے نام کا پھل پڑتا ہے
اس کو شوخی بھی میسر ہے فراوانی سے
وہ جو حالات کی مرضی سے بدل پڑتا ہے
تجدید قیصر
