خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباذات کا سناٹا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزلبنیٰ مقبول غنیمؔ

ذات کا سناٹا

از لبنیٰ غنیم جون 6, 2020
از لبنیٰ غنیم جون 6, 2020 0 تبصرے 58 مناظر
59

"ذات کا سناٹا”

نیوٹن کے پہلے قانونِ حرکت کی رو سے
"کسی بھی بیرونی قوت کی عدم موجودگی میں جو جسم حالتِ سکون میں ہوگا وہ ساکن رہے گا اور جو جسم حالتِ حرکت میں ہوگا وہ اسی رفتار سے  اپنی سمت میں حرکت جاری رکھتا ہے۔”
اسی طرح اکثر رات کے پچھلے پہر زندگی کے سب ہنگاموں سے دور گھڑی کی سوئیوں کے  ساتھ آپ کے اس سناٹے کے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور گھڑی ٹک ٹک کرکے وقت کو آگے بڑھا دیتی ہے لیکن آپ وہیں رُکے رہتے ہیں- پوری کائنات آپ کے اطراف چل رہی ہوتی ہے بس آپ رک جاتے ہیں- ٹھہر جانے کی یہ کیفیت صرف آپ خود ہی محسوس کر سکتے ہیں۔

دراصل یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جس میں سوچوں پر ایک جمود سا طاری ہوجاتا ہے اور سناٹا دھیرے دھیرے بہت اندر تک اترتا جاتا ہے- سناٹے کے اس مرحلے میں آپ اپنے محسوسات کو بظاہر بہت پیچھے چھوڑ دیتے ہیں- جو پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ان کی رفاقت بھی طبیعت کو گراں گزر رہی ہوتی ہے-

سناٹے کے اثرات شدید ہونے کی صورت میں یہ سناٹا دن کی مصروفیات میں بھی ذات کا حصار کیے رہتا ہے اور اس کیفیت سے واپس بغیر کسی نقصان کے نکل آنا اتنا آسان نہیں ہوتا-
جمود رفتہ رفتہ انسان کی تمام صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوشیوں، خوابوں، رشتوں اور محبتوں کے لئے زہرِ قاتل کا کام کرتا ہے اور  کسی دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ کر کھوکھلا کر دیتا ہے۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سناٹا کیوں اندر تک اتر آتا ہے جبکہ آپ ایک نارمل انسان کی طرح اچھا بھلا زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز بھی ہو رہے ہوں-
کوئی بے چینی، یا کچھ آنے والے وقت کے اندیشے آپ کو بے سکونی دے رہے ہوتے ہیں-

حساس لوگ سناٹوں کے سفر پر دوسرے لوگوں کی بہ نسبت کچھ جلدی چلے جاتے ہیں جبکہ حساس ہونے کے ساتھ ساتھ جو لوگ مضبوط بھی ہوتے ہیں وہ اپنی اس کیفیت کو اس قدر قابو میں رکھتے ہیں کہ اپنے اندر اچانک رونما ہونے والی اس تبدیلی کی بھنک سامنے بیٹھے اپنے قریبی شخص تک کو لگنے نہیں دیتے کہ ان کے اندر کیا جوار بھاٹا چل رہا ہے اور اندرونی موسم کتنا بدل چکا ہے-

سناٹا انسان کو ایک ایسی کیفیت میں لا کھڑا کرتا ہے کہ جس میں نہ کسی غم کا احساس، نہ غصّہ نہ شکوہ، نہ کوئی درد و رنج کی کیفیت اور نہ کوئی گماں باقی رہ جاتا ہے- روح تک اتر جانے والا سناٹا آپ کو ان تمام کیفیات سے بری الذمہ کر دیتا ہے-

بعض دفعہ بہت قریبی ساتھی، دوست، یا پیارا بھی آپ کو سناٹے کے اس خاموش سفر پر بھیجنے کا ذمہ دار ہوتا ہے-

شاید اس کی وجہ حد سے زیادہ اس پیارے سے توقعات کا وابستہ کرلینا ہوتا ہے- خود کو بہت اونچائی پر تصور کرتے ہوئے یہ امید لگا لینا کہ جو نہیں کہا گیا شاید وہ بھی سمجھا جائے گا-

جب امید ڈھے جاتی ہے تو اندر دور تک خاموشی اتر آتی ہے-اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ خود کوئی اظہار کرنا چاہتے ہیں اور مناسب انداز میں نہیں کرپا رہے ہوتے ہیں تو یہ تشنگی لی ہوئی کیفیت بھی آپ کو بے چین کر دیتی ہے- شاید اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ آپ کو وہ میڈیم، وہ ذریعہ نہیں مل پا رہا ہوتا ہے جہاں آپ اپنے اندر ہونے والی اس تبدیلی کو من و عن بیان کر سکتے ہیں- آپ کے اطراف ہجوم ہوتا ہے لیکن خال خال ہی کوئی اس قابل ہوتا ہے کہ جس سے ان سب ذہنی کیفیات کا برسبیل ہی سہی تذکرہ کیا جاسکے اور سامنے والا اس سب کو اسی پیرائے میں جا کر سمجھ بھی سکے-

آپ کی ان تمام کیفیت کو صرف اور صرف آپ کا وہ قریب ترین  ساتھی ہی سمجھ سکتا ہے کہ جس سے آپ کا دماغی اور روحانی براہِ راست تعلق ہو،  جو جسمانی طور پر آپ کے ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی آپ کے ساتھ  ساتھ ہوتا ہے-

جب ہم روحانی ساتھی کے ساتھ کی بات کرتے ہیں تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی میں آپ کے اندر رہنے والا وہ انسان جو آپ کے اندر موجود سارے رنگوں سے واقفیت رکھتا ہے ۔ اور وہی اندر کی دنیا کے مد و جزر کو سمجھ سکتا ہے۔اسکے کھو جانے کا احساس آپ کو ایسا کر دیتا ہے کہ جیسے آپ اپنے آپ میں نا رہے ہوں۔
کھو جانے کا احساس دراصل اندر کی روشنیوں کو معدوم کر دیتا ہے بس ایک گھنگھور سناٹا آپ کے وجود کو اندر سے کھانے لگتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے کہ جیسے سارے در بند ہو جاٸیں اور آپ پھر کو لگے کہ جیسے آپ واپس اُسی بے کیف دنیا کے عام سے باسی بن کر روشنی کی تلاش میں ادھر سے اُدھر بھاگ رہے ہوں۔

ذہنی سطح کا وہ لیول کہ جس پر جا کر آپ کی دماغی فریکوینسی اپنی جیسی فریکوئنسی سے  مل جاتی ہے۔ پھر لاکھ آپ دماغوں سے ملیں مگر آپ کو  وہی فریکوٸنسی اور وہی ردھم چاہیے ہوتا ہے جو کہ آپ کے اندر اُس لمحے میں پیدا ہونے والی اس مخصوص کیفیت میں لے جا کر آپ کی خود  سے ملاقات کرواتا ہے ۔

قدرتی طور پر ہر کسی سے آپ کا ذہنی ردھم نہیں مل پاتا ۔ بغیر بولے بات سمجھ جانے والی اس کیفیت کے ساتھ جب آپ اپنی جیسی ذہنی فریکوئنسی کے عادی ہو جاتے ہیں تو پھر کوئی اور دماغ آپ کو سمجھ نہیں آتا اور بےشمار لوگوں کے ساتھ رہ کر بھی آپ خود کو تنہا محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ دنیا آپ کو کبھی بھی اسی طرح سمجھ نہیں پا رہی ہوتی ہے جیسا کہ ذہنی مطابقت رکھنے والا روحانی ساتھی جس کا ساتھ آپ کو میسر ہو جائے تو آپ دنیا کو بہت اچھے سے سمجھنے لگتے ہیں۔

اسی طرح حساس لوگ اگر تخلیق کار بھی ہوں تو اپنے اس سناٹے کو اپنے فن کی جِلا کے لیے بہترین انداز میں استعمال کرتے ہیں، یہ کیفیت ان کے فن اور ہنر پارے کو زمانے کے لیے ایک شاہکار بنا دیتی ہے-
ان لوگوں کے برعکس ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس خاموش بیٹھنے کے بجز کوئی چارہ نہیں ہوتا اس طرح وہ تخلیق کی جہتوں سے کبھی روشناس نہیں ہوپاتے اور اپنی زندگی میں مزید یاسیت کی طرف چلے جاتے ہیں –

آپ کے اندر کا سناٹا آپ کی خود سے خود کی ملاقات کراتا ہے- خود احتسابی کا شفاف عمل بہترین طریقے سے سر انجام پاتا ہے کہ جس میں آپ خود ہی ملزم، خود ہی وکیل، خود ہی گواہ اور خود ہی منصف کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں اور ستم یہ کہ فیصلہ سنا کر سزا بھی آپ کو خود ہی بھگتنی ہوتی ہے-

خود احتسابی کے عمل سے گزر کر جو لوگ اپنے اوپر اس وقتی طور پر چھا جانے والی کیفیت کا استعمال مثبت طریقے سے کرتے ہیں وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے اپنی زندگی میں بہت کامیاب رہتے ہیں- اس کے برعکس جو لوگ خود کو جلد اس کیفیت سے باہر نہیں نکال پاتے وہ ایک مستقل یاسیت کا شکار رہتے ہوئے اپنی زندگی میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر لیتے ہیں- زندگی کی حرارت کو اسطرح محسوس نہیں کر پاتے جیسے کرنا چاہیے اور تمام عمر ڈپریشن جیسی کیفیت کا شکار رہتے ہوئے تنہائی کی دلدل میں دھنستے جاتے ہیں اور خود ساختہ تنہائی ہمیشہ سے لاعلاج رہی ہے-

لبنیٰ مقبول

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک ہی رہتا ہے الم صاحب
  • ظلم کی رات ڈھلنے کو ہے!
  • قومی ذمہ داریوں کے تقاضے اور ہم آہنگی
  • کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
لبنیٰ غنیم

اگلی پوسٹ
محو – گریہ ہے فلک جانے کہاں گم ہو گئیں
پچھلی پوسٹ
جب اک ستارا گرا اور جل گیا مجھ میں

متعلقہ پوسٹس

رونا دھونا ڈال نہ اے دل

مارچ 6, 2020

میں اچها ہوں سلامت ہوں

جولائی 11, 2021

روداد بابت اجلاس (حصہ دوئم)

اکتوبر 26, 2025

فرزانہ رانی اور ہرنیلہ کی گپ شپ

مئی 9, 2020

رنگ

اکتوبر 1, 2020

اور بنسری بجتی رہی

جون 14, 2020

آئیے خود سے سوال کریں

اپریل 7, 2020

ابتدا میں دکھ ہیں

مئی 31, 2024

ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں

نومبر 30, 2019

اردو میں ادبی تاریخ کی روایت

دسمبر 4, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مکاں نہیں ہے تو کیا ہے...

ستمبر 20, 2020

اے مرے حسیں لوگو!

نومبر 6, 2020

محسن خالد محسنٓ کی نظموں میں...

اپریل 29, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں