خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپنڈ کی دعوت اور ککڑ کی شامت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

پنڈ کی دعوت اور ککڑ کی شامت

از سائیٹ ایڈمن مئی 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 21, 2020 0 تبصرے 58 مناظر
59

پنڈ کی دعوت اور ککڑ کی شامت

آج ایک بھائی کی پلیٹ میں دیسی مرغے کی ٹانگ دیکھ کر ایک واقعہ یاد آگیا ۔ سوچا آپ سب کو بھی سنا دیتے ہیں ۔ ہمارے گھر میں بہت کم ایسا ہوا ہو گا کہ گوشت بازار سے آیا ہو ۔ گھر کا بکرا ذبح کر کے فریز کیا جاتا ۔لیکن یہ سب کچھ ہم نے اپنی آنکھوں سے کبھی ہوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔

گاوں سے گوشت اور دودھ لاہور آتا تھا ۔ آٹا ، چاول، کچھ دالیں مصالحے ۔ ہمکو یہ سب تفصیل سے اپنی adult age میں آنے کے بعد پتا چلا ۔ یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں گوشت خریدنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا ۔ چھوٹے دیسی چکن کی کڑھائی بنا کرتی اور ریٹائرڈ سپہ سالار ٹائپ کے مرغے کا شوربا ۔ لیکن ہم نے سپہ سالار صاحب کو کبھی پکنے کے بعد دیکھا نہیں تھا نہ ہی کھایا ۔

پہلے تو آپکو یہ بتاتے چلیں کے یہ آنکھوں دیکھا واقعہ ہے ۔ اوپر سے سسرال کا معاملہ تو ذرا نام پتہ بدل دیں گے ۔ ہمارا میکہ اور سسرال ایک ہی شہر میں ہے ، سمجھیں جھنگ ، چنیوٹ کی طرف ۔

میاں صاحب بہت چھوٹی عمر میں امریکہ تشریف لے آئے تھے تو کچھ معاملات میں انکی معلومات آج سے 20 ،21 سال پہلے صفر تھیں اور ہمارے دیور بھائی باس تھے ۔ خیر ہماری نانی ساس پاکستان آئیں اور دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ ہمارے بہت قریبی سسرالی انکل کی کال آئی اور ماں جی سے کہنے لگے ” اماں جی تسی تے بچے آج روٹی ساڈے کول کھاون آو ” ۔

اماں جی نے اپنی پوری کوشش کی کے بچت ہو جائے لیکن ایسے لگتا تھا وہ انکل ڈنڈے اور بندوقیں لے کر تشریف لے آئیں گے اور ہمکو گن پوائنٹ پر دعوت کھانا پڑے گی ۔ ہمارے دیور صاحب جنکا نام آپ بلند اختر فرض کر لیں اس واردات کا ایک اہم رکن ہیں ۔ ان سے رجوع کیا گیا ۔ ہم نے کال ملا کر دی اماں جی کی بات سن کر انکو بہت غصہ آیا بولے بھابھی جی ، اماں جی اور بھائی جان تیار ہو جاو ہم نے ضرور جانا ہے ۔

خیر سردیوں کے دن تھے ہم چل پڑے ۔ جب وہاں پہنچے تو اماں جی کا برا حال تھا کچی سڑک جھٹکے کچھ نہ پوچھیں اماں جی دل کے مریض تھے ۔ میزبان چاچا جی کی دو بیگمات تھیں اور ایک ہی گھر میں رہائش پذیر تھیں ۔

بھائی بلند اختر ہم سے عمر میں بڑے ہیں لیکن ہمکو بھابھی جی بلاتے ہیں کبھی نام نہیں لیا ۔ بیگم نمبر 1 کو اللہ نے کاکے سے نوازا تھا تو ذرا انکو پروٹوکول ذیادہ مل رہا تھا ۔ اماں جی چائے پانی پینے کے بعد آہستہ سے بولے کے اب ہم واپس چلیں گے ۔

شام ہو رہی ہے راستہ ٹھیک نہیں ۔ لیکن انھوں نے کہا آپکو کھانا کھائے بغیر جانے نہیں دیں گے بلکہ صبح ناشتہ کرا کے پھر بھیجیں گے ۔ اماں جی بولے کے میرا تو کھانا ہی پرہیزی ہوتا ہے ۔ لیکن نہ جی کسی کی ایک نہ چلی ۔

ہم انکے وڈے صحن میں چارپائیوں پر بیٹھے تھے ۔ کچھ دور ہی انکل میزبان اور انکی بیگم نمبر 2 نے ہمارے سامنے ہی یکے بعد دیگرے دو فوجی ٹائپ کے مرغے ذبح کیے ۔ اور بیگم نمبر 1 نے اپنا پیمپر لیس کاکا ہماری گودی میں ڈالا اور پاس ہی مٹی کے چولہوں میں آگ جلانی شروع کر دی ۔

تب تک ہماری آنکھوں میں آنسو آچکے تھے ۔ ایک تو سرمے والے کاکے کے ارادوں سے ڈر لگ رہا تھا اور دوسرے جو مرغوں کا قتل عام شروع ہو چکا تھا اس سے دل بھر آیا ۔ بیگم نمبر 1 نے اس کار عام سے فارغ ہونے کے بعد بالکل دو گھونٹ پانی سے ہاتھ دھوئے اور انکو رگڑ کر اپنی چادر سے صاف کرنے کے بعد ہمارے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئیں ۔

ہمکو خون کی شدید ہمک آ رہی تھی اور ایسے لگ رہا تھا کہ بے ہوش ہو جائیں گے بولیں تسی شہراں دے رہن والے ہو اس لئے تواڈے وچ طاقت کوئی نہیں ۔ بولیں میں ووہٹی کو سب رشتے داروں سے ملوانے لے جا رہی ہوں ۔ بھائی بلند اختر نے منع کر دیا وہ تھوڑا غصے میں آ گئیں لیکن انکل میزبان اٹھے اور کہنے لگے ابھی آیا ۔

انھوں نے مسجد میں اعلان کرا دیا کے ہمارے گھر فلاں فلاں مہمان آئے ہیں آ کر مل لو ۔ اس کے بعد جو ہوا نہ پوچھیں اماں جی نے ہمارے اوپر بھائی بلند اختر کی گرم چادر ڈال دی ۔ اور منہ ہی منہ میں انھوں نے سب خواتین کو پنجابی اور سرائیکی کی قریبا سب گالیاں نکالنی شروع کر دیں۔ ایک جتھا جب نمائش دیکھ کر نکل جاتا تو اماں جی کہتے ہائے میری کڑی تے منڈے نو ایناں نظر لا چھڑنی اے ۔

چل وے بلند اخترا نکل چلیے !!!! بھائی بلند اختر کہتے نہیں اماں جی ہن اینج نئیں ۔ خیر فوجی مرغوں کا پلاو اور سالن پک گیا ۔ ایک کمرہ جس کی چاروں دیواروں میں دو پٹ والے دروازے تھے اس میں ڈائننگ ٹیبل پر دسترخوان لگا کر ہمکو بٹھا دیا گیا۔

پلاو ، فوجی مرغے کا سالن ، تندوری روٹیاں ، رائتہ اور پتہ نہیں کسٹرڈ تھا یا کچھ اور کیوں کے وہ کسی نے بھی چکھا نہیں تھا ، لگا دیا گیا ۔ دروازے بند کر دئیے گئے ۔ اماں جی نے تھوڑے سے چاول اور مصالحہ لیا ، ہمیں بلند اختر بھائی نے زبردستی تھوڑے سے چاول اور رائتہ ڈال دیا ۔ اسکے بعد جو ہوا وہ اصل کہانی ہے ۔

پہلے انھوں نے سالن میں سے بوٹیاں نکال نکال کر کھانی شروع کیں۔ وہ بھی کچھ اس طریقے سے کہ ایک بوٹی نکال کر کہتے آبھائی جواناں یہ تیری سجی لت ہے ، یہ تیری کھبی لت ہے ۔ آبھائی یہ تیرا سینہ ہے ، یہ تیری پٹ کی بوٹی ہے ، صاحب اور ہم ہنس ہنس کر پاگل ہو رہے تھے ۔

وہ اچھی گرج دار آواز میں کہتے جواناں تیری وجہ توں سانوں گھر جاندیاں رات ہو جانی اے کتھے گیا اے تیرا دوجہ پٹ ۔ میں تیرے توں سارا حساب لینا اے سوہنیا ۔ انھوں نے گن گن کر پہلے سالن میں سے پورا مرغا ختم کیا پھر یہ ہی سین پلاو کے ساتھ ہوا ۔ آخر میں بہت گرجدار آواز میں بولے پلاو دے چاولاں دا چونکے آپس وچ پیار بہت سی اس لیے مینوں گردن تے سینے دی چھوٹی بوٹی نئی ملی ۔

چاول بہت نرم تھے ۔ ساتھ ہی دروازہ کھلا اور میزبان انکل کا ایک سپوت اندر آکر کہتا ہے چاچو جی او بوٹیاں وڈی امی اور چھوٹی امی جی نے لون چکھن لئی کھایاں سی ۔

ہم بہت ضبط سے بیٹھے رہے لیکن گاڑی میں بیٹھتے ساتھ ہی ہم سب کی ہنسی نہیں رک رہی تھی ۔ بات کچھ رہن سہن اور طریقے سلیقے کی بھی ہوتی ہے ۔ جن انکل کی بات ہو رہی ہے انکی قریبا 150 ایکڑ کے قریب زمین ہے ۔ انکی بیگمات ہر شادی بیاہ پر کم از کم 50، 60 تولہ each سونا پہنے نظر آتی ہیں ۔

لیکن طریقے سلیقے کی شدید کمی ہے ۔ خیر وہ انکا خلوص تھا جسکی ہم قدر کرتے ہیں ۔ ایک دفعہ وہ آنٹی ہماری پاکستان آمد پر تشریف لائیں بتاتے چلیں ہمارے میکے اور ان آنٹی کے سسرال کی آپس میں خاندانی ان بن ہے ۔ تو ہماری والدہ اس قبیلے کو ہمارے میاں صاحب اور نانی ساس مرحومہ کی وجہ سے برداشت کیا کرتیں تھیں ۔

اماں نے بہت شوق سے مرغ چنے اور آلو کی بھجیا بنوا رکھی تھی ہمارے میاں صاحب خصوصی فرمائش کیا کرتے تھے ۔ آنٹی نے بدنام کر دیا مہماناں تے جوائی پائی دے لئی آلو اور دال پکائی اے ۔ اللہ سبکو ہدایت دے۔ میاں صاحب آج بھی ہمکو وہ دعوت یاد کرا کے دھمکاتے ہیں ۔

ف ع

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اللہ والے
  • اخلاقی زوال
  • ماں
  • ہر جنگ میں احمد کے سدا ساتھ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاوں بھاجی
پچھلی پوسٹ
اسے بکھرے ہوئے لوگوں سے رغبت ہے

متعلقہ پوسٹس

وعدہ پورا ہوا

مئی 24, 2024

کافی

دسمبر 7, 2019

سورۃ الملک: مالک ہونے کا وہم

فروری 13, 2026

ہوا جیسے کوئی بندِ قبائے نسترن کھولے

اکتوبر 27, 2020

شبِ معراج

جنوری 17, 2026

جوتا مارو سالوں کو

دسمبر 20, 2019

ڈیجیٹل معیشت اور ہمارا بدلتا ہوا زمانہ

نومبر 21, 2025

اشعار کی صحت کے متعلق چھٹا کالم

اکتوبر 19, 2020

شمعِ اَخْلَاقِيَّت کا اجالا

جنوری 27, 2025

بیگانگی

جنوری 17, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بےجسم

مئی 23, 2023

بےنظیر بھٹو : جمہوریت کی ادھوری...

دسمبر 27, 2025

گاجر کا رس

جنوری 7, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں