473
آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے
یہ کس نے صحرا میں لا کر صحرا چھوڑ دیا ہے
جسم کی بوری سے باہر بھی کبھی نکل آؤں گا
ابھی تو اس پر خوش ہوں اس نے زندہ چھوڑ دیا ہے
ذہن مرا آزاد ہے لیکن دل کا دل مٹھی میں
آدھا اس نے قید رکھا ہے آدھا چھوڑ دیا ہے
جہاں دعا ملتی تھی اللہ جوڑی سلامت رکھے
میں نے تیرے بعد ادھر سے گزرنا چھوڑ دیا ہے
چاروں شانے چت مٹی پر گرا پڑا ہوں تابشؔ
جانے کس نے دوسری جانب رسہ چھوڑ دیا ہے
عباس تابش
