421
مکاں سے دور کہیں لا مکاں سے ہوتا ہے
سفر شروع یقیں کا گماں سے ہوتا ہے
وہیں کہیں نظر آتا ہے آپ کا چہرہ
طلوع چاند فلک پر جہاں سے ہوتا ہے
ہم اپنے باغ کے پھولوں کو نوچ ڈالتے ہیں
جب اختلاف کوئی باغباں سے ہوتا ہے
مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ عشق کا آغاز
اب ابتدا سے نہیں درمیاں سے ہوتا ہے
عروج پر ہے چمن میں بہار کا موسم
سفر شروع خزاں کا یہاں سے ہوتا ہے
زوال موسم خوش رنگ کا گلہ عاصمؔ
زمین سے تو نہیں آسماں سے ہوتا ہے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
