331
ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا
تجھ کو تری ادا سے زیادہ نہیں کہا
برتا گیا ہوں صرف کسی سیر کی طرح
تونے مجھے سفر کا ارادہ نہیں کہا
کہتا تو ہوں تجھے میں گل خوش نما مگر
خوش رنگ موسموں کا لبادہ نہیں کہا
رہتے ہیں صرف تنگ نظر لوگ جس جگہ
اس شہر بیکراں کو کشادہ نہیں کہا
باندھا ہر اک خیال بڑی سادگی کے ساتھ
لیکن کوئی خیال بھی سادہ نہیں کہا
میری بساط پر تو سبھی بادشاہ ہیں
میں نے کبھی کسی کو پیادہ نہیں کہا
وہ آسماں مزاج مسافر ہوں آج تک
میں نے تری زمین کو جادہ نہیں کہا
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
