625
پجیرو بھی کھڑی ہے اب تو ان کی کار کے پیچھے
عظیم الشان بنگلہ بھی ہے سبزہ زار کے پیچھے
کہاں جچتی ہے دیسی گھاس اب گھوڑوں کی نظروں میں
کہ سر پٹ دوڑتے پھرتے ہیں وہ معیار کے پیچھے
عجب دیوار اک دیکھی ہے میں نے آج رستے میں
نہ کچھ دیوار کے آگے ، نہ کچھ دیوار کے پیچھے
تعاقب یا پولِس کرتی ہے یا از راہِ مجبوری
کوئی گلزار پھرتا ہے کسی گلنار کے پیچھے
سرہانے سے یہ کیوں اٹھے ، وہ دنیا سے نہیں اٹھتا
مسیحا ہاتھ دھو کر پڑگیا ہے بیمار کے پیچھے
ہوا خواہان سرکاری تو بس پھرتے ہی رہتے ہیں
کوئی سرکار کے اگے کوئی سرکار کے پیچھے
بڑے نمناک ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے
کوئی دیوار گریہ ہےترے اشعار کے پیچھے
انور مسعود
