خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکورنا کے دنوں میں کرنے کے کام
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

کورنا کے دنوں میں کرنے کے کام

اردو کالم از روبینہ فیصل

از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2020 0 تبصرے 390 مناظر
391

کورنا کے دنوں میں کرنے کے کام

بالکل ٹھیک ہے۔۔جی بھر کر دعائیں کریں۔نہ ماننے والوں کا یہی اصرار تھا نا کہ تو نظر نہیں آتا، اب تو خدا نظر آرہا ہے، ذرے ذرے میں تو اس تشویش کی وجہ سے جتنے بھی سجدے جبینوں میں تڑپ رہے تھے،سب کر دیں۔۔۔خدا کے ننانوے ناموں میں ” قہا ر” فقط ایک ہی نام ہے، مگر قہر کی ایک جھلک ہی کافی ہے اور وہ بھی ایک ذرے کے ذریعے۔۔ اس کے قہر سے پناہ مانگ لیں اور خدا سے ناطہ جوڑ لیں۔۔یہ سب کہہ رہے ہیں۔۔ بالکل ٹھیک۔۔مگر بنیادی سوال وہیں کا وہیں کھڑا ہے کہ کیا رب کو واقعی انسان کے صرف سجدوں سے غرض ہے؟ اور جب اسے محسوس ہو اکہ سجدے ذرا کم ہو گئے ہیں تو وہ اپنا قہر برسانے لگا؟
سوچئیے!! آجکل سوچنے کے لئے بہت وقت ہے۔ جواب آپ کو اپنے اندر سے ہی ملے گا۔۔ رب تو کہتا ہے اس کا گھر انسان کا دل ہے اور وہ اس کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔۔ تو سب لوگ مسجدوں، مندروں، گرجا گھروں اور گردواروں کو خدا کا گھر قرار دے کر صرف اس کی آرائش اور اسے ہی آباد کر نے میں کیوں لگ گئے۔۔بلاشبہ،ہر جگہ کی طرح ان مخصوص قرار دی گئیں مقدس جگہوں پر بھی خدا موجود ہوتاہے مگر انہیں آباد کرنے کے لئے انسانوں کو برباد کر و گے یا صرف انہی کو خدا کی رضا کا ذریعہ سمجھ لو گے تو خدا اپنے ننا نونے ناموں میں سے فقط ایک” قہار” چن لے گا۔۔
حضرت بابا فریدنے کہا تھا اسلام کے پانچ نہیں چھ رکن ہیں،چھٹا روٹی ہے۔ وہ روٹی جو ہر ایک تک پہنچنی چاہیئے۔۔
وبائے کرونا کے یہ دن وہ ہیں جنہوں نے تمام انسانوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ پو ری بنی نوع انسان کے مقاصد اور عزائم ایک دن کی روٹی لانے، پکانے اور کھانے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔۔” کل کا دن بھی بھرے پیٹ کے ساتھ گزر جائے،”یہ سوال غریب کا تو تھا ہی آج امیر کا بھی یہی سوال اور فکر ہے۔ہر رات بڑے بڑے سرمایہ داروں کے بڑے بڑے خوابوں کی جگہ پیٹ بھرنے کے لئے ایک غیر یقینی صورتحال والے کسی بھی بھوکے ننگے کے چھوٹے چھوٹے خوابوں نے لے لی ہے۔اگر سب گروسری سٹورز بند ہو جائیں تو کیا ہو گا؟کسان کھیتوں میں اناج، مکئی، چاول اورپھل سبزیاں نہ اگا سکیں توکیاہوگا؟جن پرندوں اور جانوروں کا ہم گوشت کھاتے ہیں، وہ دستیاب نہ ہوں تو کیا ہوگا۔۔۔کل کیا ہو گا؟
اس کا جواب نہ محکمہ موسمیات کے پاس ہے، نہ کسی ملک کے سربراہ کے پاس اور نہ کسی معیشت دان، ڈاکٹر یا سائنسدان کے پاس ہے بالکل کسی ان پڑھ، غریب انسان کی طرح۔۔۔ سب یکساں لا علم، بے بس اور ایک جیسے اندیشوں میں گھرے،ایک جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ یک رنگی۔۔۔۔ایسے میں جب مقابلہ بازی کرنے کے لئے اور کچھ نہیں بچا، نیچا دکھانے والی دوڑ ختم شد ہے تو اندر کے تقوی کا مقابلہ شروع کر دو، اپنی روح کی صفائی شروع کر دو اور اس کے لئے اپنے اندر کے دیمک کو رگڑ رگڑ کر صاف کر ڈالو جن کی ترتیب کچھ یوں ہے:
تکبر اور جھوٹی انا (غور سے دیکھئے گا آپ خود کو عاجز کہتے ہیں مگر سچ بتائیں، خود سے سچ بولیں، کیا آپ ہیں؟ نہیں، آپ کی جھوٹی انا آپ کے قد سے بھی بڑی ہو تی ہے)۔حسد (آپ کہتے یہی ہیں کہ میں کیوں حسد کرنے لگا مگر غور کریں گے تو ایسا نہیں ہے، آپ بہت سوں سے بہت سے مقامات پر ہر وقت حسد کر رہے ہو تے ہیں)،منافقت(اس کی تشخیص سب سے مشکل کام ہے کہ ہم پور پور اس دلدل میں دھنسے ہو ئے ہیں کہ ہمارا معاشرہ،ہماری ٹریننگ سب اسی چھتری کے تلے ہو تی ہے، اس کو اپنے اندر کھوجنا اور اسے تسلیم کرنا اور پھر اس سے جان چھڑانا، کرونا سے جان چھڑانے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے،کہ یہ ایک دفعہ داخل ہو جائے تو پھر انسانی دل میں مرنے تک زندہ رہتا ہے)،دھوکہ،(ہماری فطرت کا دوسرا نام ہی جھوٹ اور دھوکہ بن چکا ہے،دوسروں سے تو دور کی بات ہم خود سے جھوٹ بولتے ہیں اور سب سے بڑا دھوکہ ہم خود کو دیتے ہیں حالانکہ خدا کو پانے کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ یہ ہے کہ خود سے ایماندار ہو جا و۔)۔ اپنے اندر جھاتی مار کر ان موٹی موٹی برائیوں کو تلاش کریں، گردن سے دبوچیں اور خود سے الگ کر کے کہیں دور پھینک آئیں۔
ہم دوسرا اہم کام جو کر سکتے ہیں،کہ خدا ہم سے خوش ہو جائے، وہ یہ ہے کہ ان لوگوں سے معافی مانگ لیں، جن کاہم نے جانے انجانے میں دل دکھایا ہے اور معافی مانگنے کے لئے لفظ معذرت یا سوری ہی ضروری نہیں بلکہ ایک میسج، ٹیسٹ یا وائس یا فون کال انہیں اس طرح کی کر دیں کہ ان کا حال چال بھی پوچھیں اور اپنا بھی بتائیں۔۔ اور یہی عمل ان لوگوں کے ساتھ بھی کریں جن کے بارے میں آپ کو لگتا ہے کہ انہوں نے آپ کا اعتماد توڑا، یا آپ کا دل دکھایا ہے۔۔انہیں اپنی ایک مسکراہٹ بھرے میسج سے یا کال سے یہ اطمینان دلوادیںcorona کہ آپ کا دل صاف ہے، ایسا کرنے سے بال دوسرے کی کورٹ میں چلی جائے گی۔ آپ نے اپنے رب کو راضی کرنے کی طرف قدم بڑھا دئیے ہیں اب آپ کے گنہگار یا جن کے آپ گنہگار ہیں، اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ آپ کا ستقبال کیسے کرتے ہیں،وہ اگر ابھی تک دلوں پر پتھر باندھے بیٹھے ہیں یا ان کو اس وسیع کائنات میں اپنی بے وقعتی اور بے بسی کا اندازہ نہیں ہوا تو وہ آپ کی محبت، خلوص اور درگزری کے جذبے کو شک اور حقارت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ایسا کر کے وہ آپ کا کوئی نقصان نہیں کریں گے بلکہ روٹھے رب کو منانے کا نادر موقع کھو دیں گے؟
پھر اپنے قلم سے روحانی علاج کے اس نسخے میں ایک اور چیز لکھ لیں کہ اس وقت اپنی روح کے ڈاکٹر بھی آپ خود ہیں اور روٹھے رب کو منانے والے مذہبی سکالر بھی آپ ہی ہیں۔۔ سب فیصلے آپ کے ہاتھ میں ہیں۔۔
آپ کی الماریوں میں ڈھیروں کے حساب سے کپڑوں، زیورات،میک اپ، جوتوں، ٹائیوں اور پرسوں کا حشر تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں اس سے فطرت کے وسائل کی مساوی اور منصفایانہ تقسیم پر یقین لے آئیں۔۔کوئی بھی حکومتی نظام ہو، آپ ضرورت سے زیادہ کسی بھی چیز کی ذخیرہ اندوزی کوخود پر حرام کر لیں۔
وبا کے دنوں میں کرنے کی ایک اور عملی چیز ہے جتنا بھی ہو سکے، کسی غریب،کسی سفید پو ش، رشتے دار یا اجنبی کی ان کے ہاتھ پھیلانے سے پہلے مالی مدد کریں۔۔۔اس سے نہ ان کی عزت نفس مجروع ہو گی اور نہ آپ کی انا کے غبارے میں بے جا ہوا بھرے گی، اور خدا خوش ہو گا۔۔ بہت خوش۔
وبا کے دن،یہ وہ دن ہیں جب سب انسانوں کا ایک ہی مسئلہ ہے۔۔جھوٹی انا،، جھوٹی عزت، جھوٹے نام، کی بجائے کسی کی بھی خودداری کو مجروع کئے بغیر کسی کی بھی مدد کر سکیں تو ضرور کریں۔۔ مان لیں اور جان لیں کہ اس سے زیادہ عذاب کے دن آپ کی زندگیوں میں پھرکبھی نہیں آئیں گے۔ اور جو لوگ ان عذابوں میں خدا کی مخلوق کے لئے آسانیاں اور محبتیں بانٹیں گے وہ وہی ہو نگے جن کے دلوں پر خدا نے مہریں نہیں لگائیں۔ اور جو آج بھی اپنی جھوٹی انا،حسد اور منافقت کے حصار میں خود کو سچا اور دنیا کو جھوٹا کہتے رہیں گے، وہ لاکھ سجدے کریں، لاکھ گڑگڑائیں، ان کے دل کے قفل نہیں کھلیں گے۔۔۔
مان لیں!! کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ صرف اور صرف اس کی بنائی ہوئی مخلوق کے دل سے ہو کر گزرتا ہے۔اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب کی رضا اس کے بچوں کی خوشی میں ہی ہے۔ خدا کو خوش کرنا ہے تو اس کے بچوں کو خوش کرو۔۔ اس نے وسائل میں نا انصافی نہیں کی بانٹنے والوں نے کی تھی، جتنا ہو سکے انصاف اور عدل کرنے والے خدا کی زمین پر انصاف اور عدل شروع کر دو۔مرنا تو سب نے ہی ہے مگر آج جس طرح موت بازاروں اور گلیوں میں دندناتی پھر رہی ہے،یہ موت کے ساتھ ساتھ ایک سبق بھی لئے پھر رہی ہے۔ وہ سبق ہے انسانیت کا۔۔ جو آج اسے پڑھ گیا اور یاد رکھ گیا وہی خدا کے قرب کو پا گیا۔۔ موقع اچھا ہے ایسی آزمائشیں بار بار نہیں آتیں۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں
  • خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟
  • پھاہا
  • نجات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ساتھ تمہارا اگر ملے
پچھلی پوسٹ
بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

متعلقہ پوسٹس

ڈھکا چہرہ

جنوری 24, 2020

اسلام میں خواتین کا مقام اور پردہ

مئی 17, 2024

ملک کی ترقی میں رکاوٹ کہاں ہے؟

نومبر 3, 2024

کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں

جنوری 25, 2020

جوڑوں کا درد

ستمبر 18, 2025

ماحولیات کا دن اورماحولیاتی نظام کی بحالی!

جون 5, 2021

ماسی گُل بانو

نومبر 2, 2019

شفیق الرحمٰن: اردو مزاح کا لازوال ستارہ

ستمبر 19, 2025

بیرسے ذائقہ بھی فائدہ بھی

نومبر 28, 2021

لاجونتی

فروری 2, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایران میں احتجاجی طوفان

جنوری 12, 2026

پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس

دسمبر 6, 2025

ہارتا چلا گیا

مئی 16, 2015
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں