418
جس ایک پل میں جدا ہو گیا تھا تو مجھ سے
وہ ایک لمحہ گزارا ہے کتنے سالوں میں
گمان کیا کیا تری لکنت زبان سے ہے
جواب ڈھونڈ رہا ہوں ترےسوالوں میں
میں اپنی ذات کا ادراک تجھ سے جاہتا ہوں
تلاش کرتا ہوں خود کو ترے حوالوں میں
وہ خال و خد تیرے مجھ پر عیاں ہوئے ہیں کہ بس
میں کھو گیا ہوں گئے وقت کی مثالوں میں
وہ درد دل ہے کہ ضعف بدن کے ہوتے ہوئے
کوئی زمیں پہ گرے تو اسے سنبھالوں میں
سید عدید
