خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد خان لودھی

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے

عابد خان لودھی کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 9, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 9, 2020 0 تبصرے 392 مناظر
393

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے

کرونا اللہ تعالیٰ کادنیاپر عذاب ہے۔ اور خدا تعالی کے ساتھ لڑا نہیں جا سکتا بلکہ بچا جا سکتا ہے۔ عجیب ذہنیت ہے ان افلاطونوں کی جو ایسے نعرے بناتے ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے جیسے چند روز قبل ایک نعرہ آیا میرا جسم میری مرضی۔ جب اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنا ہوتا ہے تو خدا ان لوگوں کے ذہن پھیر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب اس وقت نازل ہو تا ہے۔ جب بے راہروی عام ہو جاتی ہے انسان خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگتا ہے۔ ظلم وبربریت انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ پچھلی چند دہائیوں سے مسلمانوں پر انتہائی ظلم و ستم ہو رہا تھا۔ میانمار برما میں زندہ مسلمانوں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ کشمیر کئی سالوں سے ظلم کی چکی میں پس رہا تھا۔ اب 300 دنوں سے مکمل لاک ڈاؤ ن میں ہے۔ سن کیانگ کے مسلمان ہوں یا عراق کے۔ ایران پر کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیاں لاگو ہیں۔ شامی مسلمانوں پر تو ظلم و استبداد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب شام میں افراتفری ہو گی تو تو پوری دنیا کا امن غارت ہو جائے گا۔ اور یہ بات پتھر پر لکیر ہے اور اسے ہو نا ہی تھا۔ پاکستان کی مثال لیجئے بنارسی ٹھگ ریاست مدینہ کا نام لے کر دن رات جھوٹ بولتا ہے۔ شراب کی ایک بوتل کو جائز قرار دینا۔ایک چیلا اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بنارسی ٹھگ نے کہا ہے کہ چرس اور افیون کی فیکٹریاں لگاؤ۔ عورتوں کے حقوق کی آڑ میں بے حیائی کو فروغ دو۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک طریقہ کار تھا۔ کہ ٹیلی وژن اور ریڈیو کے پروگراموں کا آغاز اللہ تعالیٰ کے پاک کلام سے ہو تا تھا۔ اب مارننگ شوز نے ان کی جگہ لے لی۔ مذاکرات کے پرگرام میں عورتیں مغربی لباس میں آتی ہیں۔ اس میں جو ہم کر سکتے تھے کرنا چاہیئے تھا۔ جس سے اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہوتے۔ہمیں بھی حضور اکرم ﷺ کی حدیث پاک پر عمل کرنا چاہیئے تھا۔ کہ ہم بھی اپنے شہروں کو بند کر دیتے مگر ہم نے ذاتی مفادات کی خاطر بیماری کو اپنے ملک میں آنے دیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کے بھی مرتکب ہوئے۔
کرونا کاآغاز چین کے شہر وہان سے ہوا۔بیاسی ہزار کے قریب لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اور تقریباً 3500کے قریب اموات ہوئی ہیں۔ چینیوں نے فوری بھانپ لیا تھا کہ شائدمسلمانوں پر ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے یہ آفت ان پر آن پڑی ہے۔ انہوں نے کرونا سے لڑنے کی بجائے۔ اس سے بچنے کو ترغیب دی اور چینی صدر نے مسجدوں میں جا کر مسلمانوں سے معافی مانگی۔اور رسول اکرم ﷺ کی حدیث کے مطابق اس شہر کو بند کر دو جس میں بیماری آئی ہے۔اس شہر میں نہ کوئی داخل ہو اور نہ کوئی اس شہر سے باہر جائے۔ پہلا کام چینیوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث پاک پر عمل سے شروع کیا۔ اور اس وباء کو چین سے بھگانے کے لئے دعائیں کروائیں۔ حالانکہ چین معاشی اور افرادی لحاظ سے دنیا کی سپر طاقت ہے۔انہوں نے بھی کرونا سے لڑنے کو ترجیح نہیں دی۔کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ اور ہمارے گناہوں کی سزا ہو سکتی ہے۔ اور چینی حکومت نے اعلان کیا کہ آج سے حلال اور حرام میں تمیز کی جائے گی۔ یعنی چین میں سور۔کتا۔بلی۔چمگادڑ۔اور بہت سی حرام چیزیں کھائی جاتی تھیں۔ انہیں منع کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اعلان کیا گیا ہے کہ جن چیزوں کو اسلام کھانے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ استعمال کی جائیں اور جن سے منع فرماتا ہے۔ ان سے پرہیز کریں یہ تھا کرونا سے بچنے کا طریقہ کہ چینیوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لی۔
امریکہ برطانیہ اور یورپ کے لوگ خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگے تھے۔ ان کے بقول ہم نے ایٹم بم سے بچنے کے طریقے بھی ایجاد کر لئے ہیں۔ اب ہمیں کسی خوف اور آفت کا فکر نہیں۔امریکہ کا حرامی بچہ اسرائیل جو فلسطینیوں پر ہر وقت ظلم و ستم کا بازار گرم رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں پر بھی ظلم سے بعض نہیں آتے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ وباء کسی مظلوم کی آہ و زاری کا نتیجہ ہے۔ غور سے دیکھیں کہ جہاں بے حیائی اور بے راہروی اور مسلمانوں پر ظلم زیادہ ہے وہاں متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اور اموات کی شرع بھی انتہائی بلند ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جنہوں نے کشمیریوں اور فلسطینیوں کا مذاق اُڑایا۔ اور شامیوں پر ظلم کئے۔ ان کو بھی اپنی پالیسیوں کو دھرانا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی ہو گی۔ ورنہ ان پر سے یہ عذاب ٹلنے والا نہیں۔
مسلمانوں کو کیسے حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ حضرت عمر ؓ کے دور میں صحابہ نے شکائت کی کہ دریا بھر گیا ہے۔ آپ ؓ نے دریا کو خط لکھا۔ کہ کیا عمرؓ زمین پر انصاف نہیں کر رہا۔ اور صحابہ ؓ سے کہا کہ اسے دریا میں جا کر پھینک دو۔ خط کا دریا میں پھینکنا تھا کہ دریا کی لہریں ختم ہو گئیں۔ اور دریا معمول پر آ گیا۔
پہلی صدی ہجری عقبہ بن نافع ؓ ، چند صحابیوں ؓ اور تابعین کی خواہش ہوئی کہ شمالی افریقہ میں کوفہ، بصرہ اور مدینہ کی طرح کا شہر آباد کیا جائے صحابہ کرامؓ اور تابعین نے علاقے کا جا ئزہ لیا۔ پہاڑوں کے دامن میں ایک علاقہ جہاں زندگی کے آثار پورے تھے۔ مگر جنگلی جانور وں میں شیر چیتے بھی۔لوگوں کی جان ضائع ہونے کا خطرہ بھی تھا مگر شہر تو بسانا تھا۔ حکمران کے ایمان کی طاقت دیکھو۔ جنگلی جانوروں کو لکھتے ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سپہ سالار عقبہ بن نافع کی طرف سے جو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے جہاد کرنے اور یہاں اللہ کو کلمہ بلند کرنے آیا ہے۔ اے جنگل کے جانورو اور درندو، ہم اسعلاقے میں مسلمان مجاہدین کا شہر بسانا چاہتے ہیں۔ تم بھی اللہ کی مخلوق ہو اور ہم بھی اللہ کا حکم نافذ کرنے نکلے ہیں۔ لہٰذ ا اللہ کے نام پر میری التجا ہے۔ کہ تم سب درندے یہاں سے نکل جاؤ۔ یہ خط لکھ کر عقبہ ؓ نے کہا کہ جنگل میں جا کر کسی درخت پر آویزاں کر دو۔ ایسا کر دیا گیا۔روائت ہے کہ تین دن تک وہاں سے جانور نکلتے رہے۔ شیرنیوں سمیت کئی جانور دیکھے گئے۔ کہ ان کے منہ میں ان کے بچے تھے۔ اور وہ سب نکل کر جنگل خالی کر رہے تھے۔ تین دن میں جنگل خالی ہو گیا۔ اور وہاں قروان شہر کی آبادی شروع کر دی گئی۔ یہ شہر اسی علاقے میں پہلا اسلامی شہر تھا۔ اور علم کا مرکز بنا۔ اور اگر آج بھی کوئی مرد مجاہد یا سپہ سالار کرونا سے التجا کرے کہ اے کرو نا تیرا اور ہمارا رب ایک ہے۔ تجھے اللہ نے اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے۔ اس لئے کہ اللہ کی زمین ظلم سے بھر گئی۔ انکاریت کلچر بن گئی۔ الحاد کی تبلیغ زوروں پر۔ زمینی طاقت کے بل بوتے پر انسان خود کو نا قابل شکست سمجھنے لگا۔ خدا کی دی ہوئی عقل سے خدا کو ہی چیلنج کرنے لگا۔ مریخ، چاند اور سمندروں کو مسخر کرنے کے بعد خود کو خدا کا نائب سمجھنے کی بجائے فرعون بن بیٹھا۔ انسانی آبادیاں خون میں نہلا دیں۔ اور مخلوق پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ تب اے کرونا تو ہمیں ہماری اوقات بتانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ آؤ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں سے معافی کی التجا کریں۔ پچھلے دنوں چوہدری شجاعت حسین نے بہت بہترین فارمولا دیا تھا۔ کہ وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف مدینہ منورہ جائیں اور اپنی گستاہیوں کی معافی مانگیں۔ اللہ تعالیٰ اس وباء کو دور فرمائیں۔ آمین

عابد خان لودھی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء
  • ذمہ دار کون؟
  • قدموں تلے میں سارا سمندر لئے ہوئے
  • تھالی کا بینگن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سدھارتھ
پچھلی پوسٹ
کپتان

متعلقہ پوسٹس

زاہم : خواب دیکھنے والی سندھ کی بیٹی

اکتوبر 12, 2025

کاش ایسی تقدیر نہ ہوتی

ستمبر 19, 2020

باغ سے جھولے اتر گئے

مئی 11, 2020

پریم چند مرتے کیوں نہیں؟

جنوری 24, 2020

ہو گیا جب زبان پر قابو

دسمبر 17, 2021

لہجہ اُداس آنکھ میں پرچھائیں

مئی 19, 2020

لب پر کوئی شکوہ نہ گلہ

اگست 8, 2025

پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو

اگست 23, 2020

ہوا چلی تو بے کلی

نومبر 3, 2024

سفید چولے میں لپٹے سیاہ کاروں نے

جنوری 23, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رفوگر

جون 14, 2020

نثری نظم یا نثر میں شاعری

مئی 27, 2024

تعاقب

جون 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں