365
کسی کا خواب کسی کا قیاس ہے دنیا
مرے عزیز یہاں کس کے پاس ہے دنیا
یہ خون اور پسینے کی بو نہیں جاتی
نہ جانے کس کے بدن کا لباس ہے دنیا
ہمارے حلق سے اک گھونٹ بھی نہیں اتری
بس ایک اور ہی دنیا کی پیاس ہے دنیا
مرے قلم کی سیاہی کا ایک قطرہ ہے
مری کتاب سے اک اقتباس ہے دنیا
ذوالفقار عادل
