399
زیست میں غم ہیں ہم سفر پھر بھی
تا اجل کرنا ہے بسر پھر بھی
ٹوٹی پھوٹی ہوں چاہے دیواریں
اپنا گھر تو ہے اپنا گھر پھر بھی
چاہے انکار ہم کریں سچ کا
ہووے ہے ذہن پر اثر پھر بھی
دل مچلتا ہے ان سے ملنے کو
ہم چراتے رہے نظر پھر بھی
ہے یقیں تم ہمیں نہ بھولو گے
اک زمانہ گیا گزر پھر بھی
ہیں یہ الفاظ دل لبھانے کے
کاش شاید یوں ہی مگر پھر بھی
ایلزبتھ کورین مونا
