کلیم باسط کی ایک اردو غزل
ٹیگ:
Kaleem Basit
- آپکا اردو بابااردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط
بات کڑوی ہو تو پھر بات بدل دیتا ہے
از کلیم باسطاز کلیم باسطکلیم باسط کی ایک اردو غزل
- آپکا اردو بابااردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط
بہم تھے یار، چلا دورِ جام رات ہوئی
از کلیم باسطاز کلیم باسطکلیم باسط کی ایک اردو غزل
- آپکا اردو بابااردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط
اڑ گیا عشق، کہا کیسے نہیں کھلتا در
از کلیم باسطاز کلیم باسطکلیم باسط کی ایک اردو غزل
- آپکا اردو بابااردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط
سر تال ہے پر تار میں وہ تان نہیں ہے
از کلیم باسطاز کلیم باسطکلیم باسط کی ایک اردو غزل
- آپکا اردو بابااردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط
شب ہے، مگر افق پہ ستارہ نہیں کوئی
از کلیم باسطاز کلیم باسطکلیم باسط کی ایک اردو غزل
کلیم باسط کی ایک اردو غزل
- آپکا اردو بابااردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط
تصویر کے پنجرے میں پرندہ نہیں دیکھا
از کلیم باسطاز کلیم باسطکلیم باسط کی ایک اردو غزل
کلیم باسط کی ایک اردو غزل
- آپکا اردو بابااردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط
دریا کو کناروں میں سمٹ جانے کا دکھ ہے
از کلیم باسطاز کلیم باسطکلیم باسط کی ایک اردو غزل
- 1
- 2
