335
صفحے پلٹ رہا ہوں میں شعر سنا رہا ہوں میں
اپنا یقین اس طرح خود کو دلا رہا ہوں میں
کھونا تھا جس کو کھو چکا رونا تھا جتنا رو چکا
خود سے مذاق کر کے اب خود کو ہنسا رہا ہوں میں
عمر گزر گئی مری ہجر کی تلخیوں میں دوست
پھر بھی کسی کو وصل کے خواب دکھا رہا ہوں میں
یہ بھی خبر نہیں مجھے کوزہ گری کے شوق میں
خود کو ہی توڑ توڑ کر کس کو بنا رہا ہوں میں
شہر بھی بس ہی جائے گا لوگ بھی آ ہی جائیں گے
چھاؤں بنانے کے لیے پیڑ اگا رہا ہوں میں
تیرا خیال آ گیا وقت وصال آ گیا
سو ترے انتظار میں گھر کو سجا رہا ہوں میں
جانے یہ کیسا خوف ہے جس کے سبب مرے ندیمؔ
یاد جسے نہیں کیا اس کو بھلا رہا ہوں میں
