475
اس ضرورت کو سمجھتا هی نہیں
وه محبت کو سمجھتا هی نہیں
جیسے بُت هو کوئی پتھر سے بنا
رنج وراحت کو سمجھتا هی نہیں
توڑتا جاتاهے یوں پُھول کے وه
جیسے فطرت کو سمجھتا هی نہیں
دُرنایاب هے وه شخص مگر
اپنی قیمت کو سمجھتا هی نہیں
فرانسس سائل
