خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکلر بلائنڈ
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسمیع اللہ خان

کلر بلائنڈ

ایک اردو افسانہ از سمیع اللہ خان

از سائیٹ ایڈمن فروری 17, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 17, 2020 0 تبصرے 457 مناظر
458

تمہیں معلوم ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ کلربلائنڈ بیماری کا شکارہیں؟نہیں تم بتاؤ ۔ہر بارہ میں سے ایک مرد اورہر دوسومیں سے ایک عورت رنگوں میں پہچان نہیں کرسکتی۔اس کی کیاوجہ ؟جناب!رنگ دیکھنے کی صلاحیت ’’ایکس‘‘کروموسومز میں ہوتی ہے جب کہ مرد میں ایک ایکس اورایک وائے کروموسوم ہوتے ہیں اورعورت میں دونوں کروموسومز ہی ’’ایکس‘‘ہوتے ہیں ۔ ایک کام نہ کرے تو دوسرا کروموسومز کام کرتاہے اورعورت درست دیکھ سکتی ہے ۔لیکن ایک بات اوربھی ہے ۔وہ کیا؟مجھے آج سمجھ آئی کہ سیدوارث شاہ نے کیا فرمایاتھا۔جی !کیافرمایاتھا۔’’زن،زر،تلوار،گھوڑاچارے تھوک کسے دایارناہیں‘‘۔اوبھائی
!اس بات سے اس محاورے کا کیا تعلق۔ ہے ناں!کیاہے ؟عورت میں دو’’ایکس‘‘کروموسومزہوتے ہیں ناں؟جی !ہوتے ہیں ۔یہ بات ثابت ہے اورجوثابت ہے سب سے بڑاسچ وہی ہے۔
بس!اسی لئے تو یہ مردکی نسبت اپنے سے جڑے رشتوں کوزیادہ تعدادمیں’’ایکس‘‘کردیتی ہے ۔ ہاہاہاہا ۔۔۔ یار توبھی ناں بے وفائی کے تذکرے ہی لئے پھرے گا۔ابے چول بے نیاز ہوجا۔اس میں کچھ نہیں رکھا۔۔اچھاکوئی ایسا مشہورشخص بتاؤ جو رب کی رنگ دیکھنے جیسی نعمت سے محروم ہو۔امریکہ کے بیالیسویں صدرولیم جیفرسن کلنٹن یعنی بل کلنٹن ۔اچھا اور؟فیس بک کے مالک مارک زکربرگ۔،ہووی مینڈل ،میٹ لوئر ،دنیا کے پہلے ملٹی میڈیاسٹاربنگ کراس بے اورمشہورامریکن ٹی وی براڈ کاسٹر ہوگ ڈاؤنز بھی اسی محرومی کاشکارتھے۔سنا ہے یہ لوگ لال اورسبز رنگ کی پہچان نہیں کرپاتے ۔ہاں !بالکل ایساہے ۔اچھا یہ لوگ اندھے ہوتے ہیں کیا؟نہیں تو۔یہ جیسے بھی ہوتے ہیں لیکن دل کے اندھوں سے بہترہوتے ہیں۔یہ دل کے اندھے کیسے ہوتے ہیں ؟بھائی چھوڑوتمہارے کام کی بات نہیں ۔کیوں میں کوئی شودرہوں ؟لو مجھے کیاپتہ۔
کیوں ؟تمہیں کیوں نہیں پتہ؟کیا نہیں جانتے مجھے؟جی !جانتاہوں مگر ضروری تونہیں کہ بندہ بات لب پر بھ لے آئے ۔بس جس کو جو چاہیئے ہوتاہے دے دیتاہوں ۔مجھے سے ہر کوئی اپنی طلب کے مطابق لے جاتاہے ۔جو کچھ میرے بس میں ہو یامیرے پاس ہووہ دان کردیتاہوں،کنجوسی نہیں کرتا۔میں شودرنہیں ہوں۔یاریہ آج ہم شودرشودرتو نہیں کھیل رہے ؟نہیں نہیں۔شودرکوئی نہیں ہوتا۔یہ کوئی ذات تھوڑی ہے ۔میں نے برہمنوں میں بھی شودردیکھے ہیں اورشودروں میں بھی برہمن دیکھے ہیں ۔جیسے وہ اہل سرائیکی کہتے ہیں ناں’’گدْرواں وچ ای لعل سیاپوں ہوندے ہن‘‘(پرانے کپڑوں کوملا کراوپر نیچے رکھ کربچوں کیلئے ایک نرم سابستربنایاجاتاہے)۔ساتویں جماعت میں جب میں نے اٹھارہویں صدی کے مغل حکمرانوں کے حالات زندگی پڑھے تو ’’سید برادران ‘‘ کے حالات پڑھ کر حیران ہوا،جنھوں نے یکے بعد دیگرے بہادرشاہ،جہاندارشاہ،فرخ سیررفیع الدرجات اوررفیع الدولہ کواقتدارکی مسندپر بٹھایااورظلم وستم کے پہاڑ توڑے۔بقول شاعر
کسی سے شام ڈھلے چھن گیا تھا پایہ تخت
کسی نے صبح ہوئی اورتخت پایاتھا
فرخ سیر نے ہر بات مانی مگر اس کی آنکھیں تک نکلوادیں۔ایک مرتبہ تو یہ جب ایک مغل شہزادے کو بادشاہ بنانے اس کے محل پہنچے تو اس کی ماں ان کے پاؤں پڑگئی کہ میرے چہیتے پر ظلم نہ کرو،بادشاہی کسی اورکودے دویہ تاج نہیں موت کاپروانہ ہے۔دادا جی سے ناچیز نے پوچھاکہ ہم تو سیدوں کے اوصاف کے گرویدہ ہیں مگریہ کیاماجراہے تو کچھ یوں گویاہوئے
اے ہورسید ، او ہور سید
او لولاک دے مالک سید
اے ڈھگیاں دے چورسید
بعدازاں اسی قسم کے ’’سیدوں‘‘کاذکرکشمیری تاریخ میں بھی ملا وہ بھی ’’بادشاہ گر‘‘تھے اورسلطنت کی تباہی کا بیڑاانھی کے سرجاتاہے۔بات دورنکل گئی۔ماجرایہ ہے کہ ہر جاہرنسل ہرعلاقہ میں ہرطرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ان میں کلر بلائنڈ بھی ہوتے ہیں اوردل کے اندھے بھی ۔ یہ سید برادران دل کے اندھے تھے۔سازشیں کرتے تھے،بادشاہوں کے امراء کے کان بھرتے تھے ۔سب کو الگ الگ رکھتے تھے تب ہی محلاتی سازشوں میں کامیاب رہتے تھے وگرنہ سب مل بیٹھتے تھے تودوسرے ہی دن ان کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوجاتا۔یہ لوگ رشتوں اور خلوص سے عاری ہوتے ہیں ۔مشین کی طرح مکینیکل نظام کے تحت چلتے ہیں ۔تلوارکاسامزاج رکھتے ہیں جوسامنے آیاکاٹ کررکھ دیا ۔نہ ان کے ساتھ چلنے والے محفوظ نہ دوررہنے والے ۔درحقیقت انھیں ملکیت کانشہ ہوتاہے جسے جدیددورمیں ایک مرض سمجھا جاتا ہے۔
اچھا یہ کلر بلائنڈکاکوئی حل ؟جی آج کل لینز ملتے ہیں جس سے یہ سورج ڈھلنے کے بعد قدرے بہتردیکھ سکتے ہیں۔او!اچھا!لیکن یار وہ ایک بندہ میرے ساتھ سے گزرا۔پھر؟جب وہ ساتھ سے گزراتولائٹ آف ہوئی؟پھر؟اس نے پہچانااورپھر مُڑکردیکھا۔اوبھائی تجسس میں کیوں ڈالتے ہو۔پتہ ہے یہ اذیت ناک ہوتاہے۔ایک بندہ مجھے بھی اسی طرح تجسس میں ڈال کر غائب ہوتاتھایہ تو بھلاہومیری چھٹی حس کا کہ مجھے پہلے ہی دن اس کے اندازتخیل کاپتہ چل گیاوگرنہ کوئی معصوم ہوتاتولتاڑاجاتا۔وجہ؟وہ اپنے مقاصدکی خاطراستعمال کرتاسب کو ۔پھر تم ہوئے استعمال ؟ہاہاہاہاہا۔وہ خود ہی استعمال ہوگیا۔اچھا!اس کی کوئی بات بتلا۔یاروہ جب اس سے سلام دعاہوئی ناں تو ایک دن میں نے کہا’’جو دے اس کا بھی بھلاجو نہ دے اس کابھی بھلا‘‘توپھر ؟تووہ کہتاکہ نہیں جو دے اس کوبھی نقصان پہنچاؤ اورجونہ دے اس کو بھی نقصان پہنچاؤ۔یہ اسی کے الفاظ ہیں کیا؟نہیں۔اس کے الفاظ بتا۔نہیں یاراس کے الفاظ نہیں۔کیوں ؟کیاوہ ۔۔؟ہاں!یار۔وہ میرے معیارکے بلکہ ہر ذی شعورکے لیول کے نہیں۔میں نے پھربات کارخ موڑدیاتاکہ جس لائن پراس کی ذہنیت چل رہی اس پر مزید گفتگونہ ہو۔ویسے لیول سے یادآیاکہ لوگ اپنالیول بڑھانے کیلئے کیسے کیسے پاپڑبیلتے ہیں۔۔اللہ کی پناہ۔جب کہ حقیقت میں اخلاقی لحاظ سے لیول کے ساتھ خود بھی کھجورمیں اٹک چکے ہوتے ہیں۔اچھا !بھاشن نہ دے ۔
ہاں !توبات ہورہی تھی کلربلائنڈکی۔جنگ عظیم دوم میں جب کلربلائنڈسپاہیوں کوشدیدخطرات سے دوچارہوناپڑاتو اس کے بعد ان کی فوج میں شمولیت پر پابندی عائد کردی گئی۔اب بھی فوج کے مخصوص شعبہ جات میں یہ بھرتی کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ میدان جنگ میں کارآمد نہیں ۔ ہورڈسا۔جی ایک عام انسان کی آنکھ ایک ملین رنگ دیکھ سکتی ہے لیکن کلر بلائنڈکی ایک قسم ہے ’’سپروژن‘‘یہ لوگ سوملین سے زائد رنگ دیکھ سکتے ہیں۔ریڈرزڈائجسٹ اپنے ایک مضمون میں ایک*super vision*کونسیٹااینٹیکونامی عورت کاتذکرہ کرتاہے جسے سوملین سے زائد رنگ نظرآتے ہیں۔رات کے وقت ہمیں آسمان پرایک ہی رنگ نظرآتاہے لیکن ’’سپروژن ‘‘کاشکارمختلف رنگ دیکھتے ہیں۔جورنگ ہمیں گرے یعنی خاکستری نظرآتاہے یہ ان لوگوں کوفیروزی نظرآتاہے۔ہمارے اوران کے دیکھنے کااندازمختلف ہوا؟جی !توپھریہ عظیم ہوئے ؟ہاں!اکبر بھی اوراصغربھی ۔بھائی وہ کیسے؟اب دیکھوناں جب ایک رنگ کی جگہ ہزاررنگ دکھائی دیں گے توبندہ کسی پر کیاا عتبار کرے گا۔جب خاکستری رنگ فیروزہ دکھائی دے گاتو یہ خاک یقین کریں گے ،انھیں ہرشخص جھوٹ بولتانظرآئے گاجب کہ درحقیقت ان کی اپنی آنکھ ’’حقیقی‘‘رنگ دیکھنے سے قاصرہوگی اوربے یقینی سے بڑھ کرکوئی عذاب نہیں۔
اورکچھ؟ابھی۔۔۔توبہت کچھ باقی ہے۔یہ توٹرائل ہے۔۔اچھا!جی۔ہاں!جی۔جن لوگوں میں پیدائشی یہ بیماری نہیں ہوتی وہ بھی بعدازاں اس کا شکارہوسکتے ہیں ،یہ ضروری نہیں کہ یہ وراثت میں ملے بلکہ عمررفتہ کے ساتھ ساتھ کسی موڑ پر بھی آلیتی ہے ۔ممکن ہے جسمانی نقصان یاکسی آنکھوں کی بیماری کے بعداس کا بھی سامناکرناپڑے۔بچوں کی نسبت بڑوں میں یہ بیماری جلد تشخیص ہوسکتی ہے۔توتم نے کی تشخیص کبھی ؟ارے رے رے۔۔میں کوئی ڈاکٹرہوں ۔جو بیچارے ڈاکٹرہیں وہ خود روتے ہیں ۔کس بات پر؟ہربات بے بات پر۔اچھا یہ بتا کہ یہ پکی بات کہ یہ وراثتی نہیں ۔ہاں!لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔توتم بھی شرائط مانتے ہو؟ہاں!اگرجائزہوں تومان بھی لیتاہوں۔کسی کی؟کس کی بھی ۔چاہے اپناہویاغیرہو۔دل رکھنے کیلئے مان لیتاہوں۔اچھا !وہ بتاؤ۔کیا؟شرائط۔اچھا!۔یہ بیماری باپ کے ذریعے بیٹوں میں منتقل نہیں ہوسکتی لیکن ماں کے ذریعے منتقل ہوسکتی ہے۔اف!!!ماں۔۔۔ہاں!ماں ۔
بیس سے زائد ایپ ایسی ہیں جو کلربلائنڈ بندے کو رنگ پہچاننے میں مدددیتی ہیں۔بعض ایسی ایپ ہیں جو تصویرکے رنگ پہچاننے میں بھی مدددیتی ہیں کہ یہ حصہ اس رنگ کاہے یہ اُس رنگ کاہے۔پھل خریدتے وقت اورکھانا کھانے کے وقت انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے کیونکہ بعض پکوان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ذائقے کے ساتھ ساتھ ان کودیکھنے کامزہ اپناہوتاہے۔پھر اس بیماری کا شکارتین اہم رنگوں سے نابلد ہوتے ہیں جوکہ پھلوں میں سب سے زیادہ ہیں۔کون سے؟سبز،لال اورپیلا۔یہی وجہ ہے کہ ٹریفک سگنلز میں بھی یہ پہچان نہیں کرپاتے اورڈرائیونگ ان کیلئے بہت مشکل ہوتی ہے۔اچھا یادآیا۔کیایادآیا۔وہ۔کیاوہ؟یاروہی بات۔ابے کون سی بات؟وہ لائٹ والی۔کیا؟جب وہ بجھی تھی۔کون؟لائٹ یاکوئی مونث؟نہیں!روشنائی۔توپھر؟اچھا!اچھاوہ جو تم واقعہ بتارہے تھے ۔چلوبتاؤ۔یار وہ جب لائٹ بجھی وہ بندہ ساتھ سے گزرا۔کتنے تھے وہ لوگ ؟دو۔پھر؟بہت تیزی سے گزراجیسے بجلی گزرتی۔مطلب تیزہے وہ؟ہاں دودھاری تلوار۔اپنے آپ کو بھی کاٹ بیٹھتاہے۔اچھا پھر؟مُڑمُڑکردیکھتاگیا۔کیوں؟پتہ نہیں کیوں؟شایدماضی میں اندھیرے سے کوئی یادمنسلک ہویاپھر پیدائشی خوف۔اچھا پھر؟پھر بولاکہ آپ پر کالارنگ جچتاہے۔توتم نے کیاجواب دیا۔میں نے تو سبز رنگ کاجوڑاپہن رکھاتھا۔شاید اس کا میسج غلط جگہ آگیاتھا۔کسی کالے جوڑے والے کوکرناہوگاپھر بھول کرمجھے کردیاہوگا۔جب ساتھ سے تمہارے گزراتوتمہیں ہی کیا ہو گا۔اوبھائی !سفرمیں توبندہ ہزاروں کے ساتھ سے گزرتا ہے۔ہاں!گزرتاہے لیکن خامشی سے توکوئی کوئی گزرتاہے ناں ۔ہاہا ہا۔ اچھا!پھر ؟بس مجھے سمجھ آگئی کہ بیچاراکلربلائنڈہے ۔پھرکیابتایااس کو؟نہیں!میں آئینہ ہوں اورآئینہ ہرایک کو اتناہی بتاتاہے جتناوہ حقیقت کو دیکھنا چاہتاہے ۔ابھی چھتیس گڑھ کے تیسرے وزیراعلی بھوپیش بگھیل نے نریندرمودی کو آئینہ بھیجاہے توتھاراکیاخیال ہے کہ مودی صاحب کو وہ نظرآئے گاجو یہ کانگریس کاممبر دکھاناچاہتاہے۔ہرگزنہیں۔اچھا توتم نے جواب دیا؟کوئی جواب نہیں دیا لالے ۔کیوں؟کیونکہ حدیث مبارک ہے :کسی کے منہ پر تعریف کرناکھنڈی چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے‘‘۔دوسرے وہ سپروژن کابھی شکارتھامیں کیوں جواب دیتا۔اچھا فیرمیں چلا۔اچھاجائیں۔۔۔۔

ازسمیع اللہ خان

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مادی و معنوی ترقی و کمال
  • سگریٹ اور فاؤنٹین پن
  • شہرِ آسیب کی غُلامی ہے
  • دل تو بس خواہشات کرتا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مینارِمحبت کا شہزادہ
پچھلی پوسٹ
جذبات

متعلقہ پوسٹس

ایک ماں کی ڈائری سے

جنوری 26, 2026

فوٹو گرافر

جنوری 13, 2020

ضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد

دسمبر 6, 2025

جو بھی ہوتا ہے تِرا حال گُزارا کر لے

نومبر 18, 2025

آن لائن شاپنگ کی دراز رسی

اکتوبر 10, 2025

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

اور شیر آ گیا

جون 10, 2020

تمھارے ساتھ وہ گزرا ہوا

جولائی 6, 2025

ہزار شعر

مارچ 6, 2023

ایک لاش کا مقدمہ زندستان میں

نومبر 8, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جھوٹن

دسمبر 28, 2019

فوبھا بائی

جنوری 15, 2020

گزارش

مارچ 31, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں