449
یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے
ہم لوگ فقط ضربت کاری نہیں رکھتے
قیدی بھی ہیں اس شان کے آزاد تمہارے
زنجیر کبھی زلف سے بھاری نہیں رکھتے
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت
آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے
جیتے ہیں مگر زیست کو آزار سمجھ کر
مرتے ہیں مگر موت سے یاری نہیں رکھتے
مہمان سرا دل کی گرا دیتے ہیں پل میں
ہم صدقۂ جاری کو بھی جاری نہیں رکھتے
تنہا ہی نکلتے ہیں سر کوئے ملامت
ہم راہ کبھی ذلت و خواری نہیں رکھتے
عباس تابش
