365
ہمیں راس آئی نہیں زندگی
ہر اک موڑ پر ہم پہ ہنستی رہی
زمیں آسماں ہم سے تھے اجنبی
ہمیں مل کے روتی رہی بےبسی
کہاں کون پاؤں تلے آ گیا
زمانے نے مڑ کر نہ دیکھا کبھی
مرے چارسُو تھی گھٹن اس قدر
کہ ہر سانس لگتی رہی آخری
امر بیل تنہائی کی عمر بھر
مرے قلبِ ویراں سے لپٹی رہی
مقدر میں سب کچھ جو طے ہو چکا
تو پھر کیوں کسی پر ہنسے آدمی
منزہ سید
