690
عجیب بات یہ ہوئی کہ ساتھ بھی نہیں رہے
ہمارے ہاتھ اب ہمارے ہاتھ بھی نہیں رہے
وہ زندگی گزارنے کی بات کر رہے تھے اور
ہمارے پاس آئے ایک رات بھی نہیں رہے
کچھ اس طرح چھپاؤ میں کہیں دکھائی بھی نہ دوں
کچھ اس طرح مٹاؤ میری بات بھی نہیں رہے
ہمارا دن بچھڑ گیا کوئی خوشی نہیں ملی
اداسیاں بھی چھین لو کہ رات بھی نہیں رہے
نئی روایتوں میں ڈھل رہی ہے میری نسلِ نو
کزن جو بن رہے تھے اب مسات* بھی نہیں رہے
تمہارے دکھ محبتیں ہمارے دکھ روایتیں
شجر بھی سب اکھڑ گئے ہیں پات بھی نہیں رہے
طلب تمہاری خیر تھی تمہیں تلاشِ ذات تھی
اور آج تم تو صاحبِ صفات بھی نہیں رہے
ہمیشگی کے شوق میں عجیب حال ہے کہ ہم
دوام بھی نہیں رہے ثبات بھی نہیں رہے
ندیم بھابھہ
* مسات ۔ خالہ زاد سرائیکی
