453
شور ایسے مچا رہے ہو تم
جیسے دنیا چلا رہے ہو تم
چاک پر شکل کیسے بنتی ہے
کوزہ گر کو بتا رہے ہو تم
آنکھ میں ایک خواب تک نہيں ہے
اور آنکھیں دِکھا رہے ہو تم
کون سے سُر تمہیں سکھائے تھے
اور کس لَے میں گا رہے ہو تم
یہ کہانی مری بُنی ہوئی ہے
اور مجھی کو سنا رہے ہو تم
کون سے شہر میں پڑاﺅ ہے
کس کا بستہ اٹھا رہے ہو تم
آدمی ہو کہ پھول ہو کیا ہو
آگ میں مُسکرا رہے ہو تم
شاعری ہو نہيں رہی ہم سے
اور آنسو بہا رہے ہو تم
عمران عامی
