خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمیرا قیمہ بنا دیجیے
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرمستنصر حسین تارڑ

میرا قیمہ بنا دیجیے

از سائیٹ ایڈمن جون 20, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 20, 2026 0 تبصرے 1 مناظر
2

میں ٹولنٹن مارکیٹ کی چھوٹے گوشت کی دکان پرکھڑا اپنی باری کا انتظارکررہا تھا اورکچھ اس قسم کے ’’جذباتی‘‘سوال جواب سن رہا تھا۔
’’نسیم بھائی! پہلے میرا قیمہ بنا دیجئے‘‘ایک خاتون کہہ رہی تھیں۔

’’بہن جی آپ فکر ہی نہ کریں میں آپ کا ایسا قیمہ بناؤں گا کہ آپ یاد کریں گی۔۔۔!‘‘
’’ذرا جلدی کریں نسیم بھائی!‘‘

’’بس آپ کھڑی رہیں۔ آپ کے کھڑے کھڑے میں آپ کا قیمہ بنادوں گا‘‘
’’قیمہ روکھا بناؤں یا موٹا۔۔۔‘‘

’’روکھا ٹھیک رہے گا لیکن میں ذراجلدی میں ہوں‘‘
’’بہن جی یہ قریشی صاحب کا قیمہ ہے یہ والا جو میں کوٹ رہا ہوں اس کے بعد انشاء اللہ آپ کا قیمہ بنے گا۔‘‘

’’نسیم صاحب۔۔۔ مغزچاہئے مل جائے گا۔‘‘ ایک صاحب دریافت کرتے ہیں۔
’’کیوں نہیں جناب۔۔۔ یہ ہمارے لیڈران کرام تھوڑی ہیں بکرے ہیں ان میں بہت مغز ہے ابھی دیتا ہوں۔‘‘

’’اورمیرے گردوں کا کیا ہوا؟‘‘ ایک آوازآتی ہے۔
’’یہ والے!‘‘نسیم کا بھائی جو شکل سے ہیرو لگتا ہے چند گردے فضا میں بلند کرتے ہوئے کہتا ہے ’’آپ کے گردے ہیں۔۔۔ ابھی نکالے ہیں، بنا کر دیتا ہوں۔‘‘

’’اورمیری ران۔۔۔‘‘
’’یہ رہی آپ کی ران بالکل نرم اورتازہ تازہ‘‘

’’اورمیری سری۔۔۔‘‘
’’ابھی توڑتا ہوں۔۔۔‘‘

’’ایک صاحب جوآرڈردےکرجاچکےتھے واپس آکر پوچھتے ہیں‘‘، ’’یارابھی تک میرا گوشت نہیں بنایا۔۔۔‘‘
’’اوہوآپ یہ بتائیں کہ آپ کی بوٹیاں کیسےکاٹوں۔۔۔! چھوٹی یا بڑی۔۔۔ میں پانچ منٹ میں آپ کا گوشت بناتا ہوں جناب۔۔۔ ہم آپ کا گوشت نہیں کاٹیں گے تو اور کس کا کاٹیں گے۔۔۔‘‘

بالآخرمیری باری آتی ہے اورمیں ایک مختصرسا آرڈرہوں۔
’’تارڑصاحب‘‘نسیم مسکراتے ہوئےکہتا ہے ’’اتناگوشت توپورےمحلےکے لیےکافی ہوگا کیا کریں گےاتنےگوشت کودیگ پکائیں گے؟‘‘

’’بھائی آپ براہ کرم جگتیں نہ کریں اورگوشت بنادیں۔۔۔ اور یہ والی بوٹی تو اچھی نہیں ہے! یہ نہ ڈالنا‘‘
’’یہ والی۔۔۔؟‘‘ وہ بوٹی کواٹھا کراس کی نمائش کرتا ہے ’’یہ والی تو بڑی جذباتی بوٹی ہے تارڑ صاحب۔۔۔‘‘

نسیم اپنےگوشت کےبارےمیں ’’جذباتی‘‘ کا لفظ بےدریغ استعمال کرتا ہے۔۔۔ مثلاً جناب یہ گردہ ملاحظہ کیجئے بالکل جذباتی ہے۔۔۔ یہ چانپ جوآپ دیکھ رہے ہیں۔جذباتی ہورہی ہے آہستہ آہستہ یہ ران تو خیر ہے ہی جذباتی۔۔۔ ویسے میرے پاس غیر جذباتی گوشت بھی ہے لیکن آپ کو مزہ نہیں آئے گا۔۔۔ وہ سامنے والا بکرا جو لٹک رہا ہے وہ شہنشاہ جذبات ہے اور بکری جو ہے یہ ملکۂ جذبات ہے اس کی ٹانگ پیش کروں؟‘‘
گوشت کے بارے میں کالم لکھناغیرادبی سا فعل ہے لیکن کیا کیا جائے یہ مہنگا ہوتا جارہا ہے اوراس کے ساتھ ہی لوگوں کی ’’مسلمانی‘‘ کم ہوتی جارہی ہے گوشت اورمسلمان لازم وملزوم ہیں۔۔۔ ہمارے گاؤں میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زیادہ گوشت کھانے سے ایمان مضبوط ہوجاتا ہے لوہے کی طرح۔۔۔ ظاہر ہے کہ اگر گوشت مہنگا ہوگا تو کم کھایا جائے گا اوراسی تناسب سے ’’مسلمانی‘‘ کم ہوتی جائے گی میں بھی اسی لیےفکر مندہوں۔۔۔ گوشت کی قیمتوں میں یکدم اضافہ ہوگیا ہے اور کہیں سے احتجاج کا ایک لفظ سنائی نہیں دیا۔۔۔ سگریٹ مہنگے ہوجائیں تو چھوڑ دو چائے مہنگی ہوجائے تو کم پیو۔ آٹا مہنگا ہو جائے تو کیک کھا لو لیکن گوشت تو کم نہیں کھایا جاسکتا۔۔۔ مجھے چونکہ گوشت کی قیمتوں میں اضافے کی خبر نہ تھی اس لیے میں نے جیب میں پڑی رقم کے مطابق آرڈر دیا اور پھر بعد میں بل زیادہ بننے پر خوب خوب شرمندہ ہوا۔۔۔ تو پھرآج گوشت کابیاں چلتا رہے چھوٹے گوشت کی مارکیٹ سے باہرآجائیے۔ پنجاب پبلک لائبریری کے سامنے بڑے گوشت کی مارکیٹ ہے۔۔۔ یہاں بھی علم اور گوشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس مارکیٹ کے اندر بھی دکاندار تقریباً ایک ہی علاقے اورایک ہی خاندان سے متعلق ہیں۔۔۔ ایک مرتبہ میرے والد صاحب جو انتہائی حساس طبیعت کے مالک ہیں۔ گوشت خریدنے آئے تو قصاب نے ایک بوٹی اٹھا کر کہا، ’’چودھری صاحب بالکل بچے کی بوٹی ہے بھون کر کھائیے گا مزہ آجائے گا۔۔۔‘‘ وہ دن اور آج کا دن والد صاحب کبھی بڑا گوشت خریدنے نہیں گئے۔۔۔ یہاں پرگوشت کےعجیب وغریب شوقین نظر آتے ہیں۔۔۔ ایسے شوقین جو پلاؤ کے لیے الگ گوشت منتخب کرلیتے ہیں اور کریلے پکانے کے لیے الگ ان میں وہ حضرات بھی شامل ہوتے ہیں جو صرف سری پایوں کی تلاش میں یہاں آتے ہیں۔۔۔

گوشت کھانامسلمانوں کی اورخاص طورپرپاکستانی مسلمانوں کی فطرت ثانیہ ہے وہ خوشی کا اظہارکرنا چاہے تو بھنا ہوا گوشت کھائیں گے یا شکرانے کے طورپرایک دوبکرے حلال کردیں گے۔
اگر فوتیدگی ہوجائے تو بھی مہمانوں کی تواضع آلوگوشت سے کی جائے گی۔میرے ماموں اللہ بخشے کہا کرتے تھے کہ بالکل گلا ہوا نرم گوشت کس کام کا گوشت وہ جو نوچ نوچ کر کھایا جائے۔۔۔

ایک چھوٹا سا قصہ ہے۔۔۔ جس میں گوشت کے بارے میں ہی کچھ بیاں ہے۔ میں اس وقت تقریباً 16۔15 برس کا تھا اور پہلی مرتبہ ولایت جارہا تھا۔ جہاز میں میرے برابر کی نشست پرایک مولانا براجمان تھے وہ خاصے معصوم تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ کیوں چچا جان آپ کس سلسلے میں انگلستان جارہے ہیں تو کہنے لگے! بیٹا میں کافروں کو مسلمان کرنے جارہا ہوں میں نے پوچھا آپ کو انگریزی آتی ہے؟ کہنے لگے نہیں جس نے مسلمان ہونا ہوگا اسے خودبخود میری زبان کی سمجھ آجائے گی۔۔۔ ان دنوں ابھی جیٹ مسافربردارطیارے اڑان نہیں کرتے تھے چنانچہ پنکھوں والا جہاز بڑے مزے سے ہواؤں اور بادلوں سے اٹکھیلیاں کرتا منزل کی جانب جاتا تھا۔ ہم کراچی سے چلے اور پھر تہران، قاہرہ، ایتھنز وغیرہ میں رکتے روم پہنچے۔ روم میں دو گھنٹے کا سٹاپ تھا اور ایئر لائن کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مسافر حضرات ائیر پورٹ کے ریستوران میں جاکر اپنی پسند کا کھانا تناول فرمائیں۔ بل کمپنی کے ذمہ ہوگا۔ اس اعلان پر مسافر حضرات بے حد خوش ہوئے۔ میں بھی خوش ہوا اور مولانا تو بے حد خوش ہوئے کیونکہ ہمیں شدید بھوک لگی تھی۔
ریستوران میں بیٹھے تو ایک خوبرو اطالوی خاتون ہاتھ میں مینو پکڑے ہمارے قریب آگئی۔۔۔ مولانا کھانسے اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا میں چونکہ ابھی بچہ تھا اس لیے مجھے کھانسی بالکل نہ آئی۔ میں نے اپنے لیے ایک عدد روسٹ چکن ’’مولانا آپ کیا کھائیں گے؟‘‘ میں نے اپنے مسافرچچاجان سے ’’پوچھا‘‘ اس گوری گوری لڑکی سے کہو کہ میرے لیے صرف ابلی ہوئی سبزیاں لے آئے کیونکہ گوشت تو یہاں پرحلال نہیں ہوگا۔ انہوں نے منہ بنا کر کہا۔

اب میں تو اس معاملے کے بارے میں غور نہیں کیا تھا کہ یہاں گوشت کس قسم کا ہوتا ہے اور مجھے بھوک بھی بہت لگی ہوئی تھی بہرحال میں نے ان کا آرڈر بھی دے دیا آدھے گھنٹے کے بعد ویٹرس خوراک لے آئی۔۔۔ ایک ٹرالی میں میرا روسٹ مرغ ابھی تک روسٹ ہو رہا تھا اس کی خوشبو پورے ریستوران میں پھیلی تھی۔ مرغ کے گرد انڈے اور آلو کے قتلے اور سلاد وغیرہ بہاردکھا رہے تھے۔ یہ سب کچھ میرے آگے رکھ دیا گیا۔۔۔ پھر ویٹرس واپس گئی اورایک چھوٹی سی پلیٹ لاکر مولانا کے آگے رکھ دی۔ اس میں ایک ابلی ہوئی گاجراورایک دو آلو تھے سفری چچا جان نے گاجریں کھانے کی کوشش کی لیکن ان کی نظریں میرے روسٹ مرغ پر سے اٹھائے نہ اٹھتی تھیں۔میں مزے سے کھاتا جارہا تھا اور وہ مجھے دیکھتے جارہے تھے بالآخرانہوں نے گرج کر کہا ’’برخوردار‘‘
’’جی جناب!‘‘ میں نے گھبرا کرجواب دیا۔

’’یہ ہوٹل والی زنانی کو کہو کہ میرے لیے بھی یہی مرغ لے آئے یہ شکل سے حلال لگتا ہے۔‘‘
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ گوشت کھانے کے شوق ہم بعض اوقات اپنی مسلمانی کو بھی خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔

لاہور کے ایک بہت ہی معروف ڈاکٹر صاحب اکثر بازار جاکر ایک بکرا خرید لاتے گھر جاکر اسے خود ذبح کرتے گوشت بناتے خود ہی بھونتے اور پھر اپنے بیٹوں کے ہمراہ ایک ہی نشست میں اسے نوش کرجاتے۔۔۔ موصوف فرمایا کرتے تھے کہ گوشت ہونا چاہئے۔ چاہے گدھے کا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
میں نے مکان بنایاتوایک مزدورتقریباً روزانہ شام کو مزدوری کی رقم وصول کرتا اس کا گوشت خریدتا اور بھون کر کھا جاتا۔

میں خود اگرچہ کھانے پینے کا بہت زیادہ شوقین نہیں ہوں لیکن گوشت کھائے ہوئے اگر دو چار دن گزر جائیں تو جمائیاں آنے لگتی ہیں۔ دنیا بے رنگ نظر آنے لگتی ہے اور اپنے مسلمان ہونے پر شبہ ہونے لگتا ہے۔۔۔ لیکن اب تو قیمت زیادہ ہونے سے ایسا لگ رہا ہے کہ قیمہ بکرے کا نہیں ہمارا اپنا بن رہا ہے۔۔۔ ہمارے گردے نکالے جارہے ہیں اور مغز کھایا جارہا ہے۔۔۔ اور وہ دن دور نہیں جب ہم گوشت کی دکان پر جاکر قصائی کے آگے لیٹ کر کہیں گے ’’براہ کرم میرا قیمہ بنا دیجئے۔‘‘

مستنصر حسین تارڑ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دنیا اور آخرت کی زندگی میں توازن
  • پاکستان کی قوت اور عالمی وقار کا سفر
  • وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے
  • کاش اس دنیا سے برائی ختم ہو جائے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں
پچھلی پوسٹ
محبوب محبت سے نہیں قسمت سے

متعلقہ پوسٹس

غازی علم دین: شہید رسالتﷺ

دسمبر 4, 2025

آبِ گُم – شہر دو قصہ​

دسمبر 16, 2019

قومی زبان اُردو کے نفاذ کا ادھورا سفر

ستمبر 19, 2025

اللہ کے محبوب اور مقرب بندوں سے نسبت

دسمبر 6, 2024

عورت کے حقوق

اپریل 1, 2023

ٹی ٹی پی کا بڑھتا ہوا سایہ

نومبر 21, 2025

وہ جو قرض اک تھا زبان پر

فروری 20, 2020

لحاف

نومبر 2, 2019

ایک پھول کم پڑ جائے گا

جنوری 12, 2026

بسم اللہ ۔۔۔اللہ اکبر

دسمبر 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

شہباز خواجہ شاعری

جون 22, 2026

ماتم

جون 22, 2026

ہجر

جون 22, 2026

جستجو

جون 22, 2026

واپسی

جون 22, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

21 شہادتیں اور ایک قوم کی آنکھوں میں...

جون 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • واپسی

    جون 22, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یہ جو ٹینشن ہے، دشمن ہے...

مئی 25, 2024

دیوتاؤں کے دیوتا

اکتوبر 2, 2020

چڑ چڑانے کی بات کرتے ہو۔۔۔۔!!!

جون 25, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں