خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریریک طرفہ محبت
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

یک طرفہ محبت

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2019 0 تبصرے 714 مناظر
715

یک طرفہ محبت

یک طرفہ محبت اوربھیک میں کچھ فرق نہیں،ہے بھی تو کم از کم مجھے نظر نہیں آتا۔ پاکستانی ڈراموں میں حلالہ اور زنائے محرم انسسٹ کے بعد جو سب سے زیادہ چیز دکھائی جاتی ہے وہ ہے یک طرفہ محبت۔ اور زیادہ تر یہ ذمہ داری صنف ِ نازک کے کندھوں پر ڈالی جاتی ہے شائد یہی سوچ کر کہ وہ اعصابی طور پر مردوں سے کہیں ذیادہ مضبوط ہو تی ہیں۔ ہر دوسرے پاکستانی ڈرامے میں لڑکا کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے جو رج کے حسین ہے اور معصوم بھی، ظرف بھی بڑا اور دل بھی کشادہ۔ دوسری طرف اُسی لڑکے کو کوئی اور لڑکی پسند کرتی ہے جس کے ضرورت سے ذیادہ تیکھے نین نقش کے ساتھ ساتھ مزاج بھی تیکھا مگر وہ لڑکی،اس لڑکے کو جو کسی اور کو پسند کرتا ہے کے پیچھے پاگل ہے اپنی تمام تر خوداعتمادی کے باوجود وہ اس لڑکے کے پیچھے یہ جانتے ہو ئے بھی کہ وہ اس پر لعنت بھی نہیں ڈال رہا، ماری ماری پھرتی ہے۔ کسی کسی ڈرامے میں تو مائیں بھی لڑکیوں کی اس بے غیرتی میں بھر پور ساتھ دیتی دکھائی جاتی ہیں، جیسے آج کل مائیں بچیوں کو سسرال میں نہ بسنے کے سارے طریقے سمجھا کر بھیجتی ہیں، ان کی ہدایات کی روشنی میں مجال ہے کسی لڑکی کا گھر بس جائے، جن کا بچ جا تا ہے وہ لڑکے کا صبر ہو تا ہے۔
کسی کسی ڈرامے میں، اگر مائیں لڑکیوں کو غیرت دلانے کی کوشش بھی کرتی ہیں کہ:”بے غیرتے وہ لڑکا تجھے منہ نہیں لگاتا تو کیوں اس کے پیچھے مری جارہی ہو۔” مگر لڑکیاں ان کے منہ پر چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ” مجھے وہی لڑکا چاہیئے بس وہی۔”زمین پر لیٹ کر ٹانگیں مار تے ہوئے “اوں اوں ” والا کام نہیں کرتی ہیں باقی لوازمات تقریبا ایسے ہی ہو تے ہیں۔”نہ دید نہ لحاظ۔
اور کچھ ڈراموں میں ایک لڑکی اور دو لڑکے اسی طرح کی آگے پیچھے والی دوڑ میں شامل نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے ڈراموں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا ایشو محبت، محبت میں ناکامی، محبت میں کامیابی اور پھر نظر کا لگ جانا، بلکہ کئی ڈراموں میں تو بات کالے جادو تک جا پہنچتی ہے۔جو پسند ہے اسے حاصل کرنے کے لئے کالا جادو بھی کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے ڈراموں کے حساب سے اس کے علاوہ پاکستان میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ اشفاق احمد نے شائد سفر د ر سفر میں لکھا ہے کہ جب فلموں میں ایک شہری بابو کو ایک دیہاتی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے تو یہ سب دیکھ کر مجھے ابکائی سی محسوس ہو تی ہے کہ دو لوگ جو آپس میں ٹھیک طرح سے بات نہیں کر سکتے جن کی بول چال رہن سہن مختلف ہے وہ ایک ودسرے سے محبت کیسے کر سکتے ہیں؟ بالکل اسی طرح مجھے ایسی یک طرفہ محبت بلکہ جنون دیکھ کر ابکائی محسوس ہو تی ہے کہ جب ایک انسان آپ کو پسند ہی نہیں کرتا، دوستی اور محبت تو پھردور کی بات ہے تو آپ کیسے اس کے لئے پاگل ہو سکتے ہیں یا اس کو حاصل کرنے کی خواہش ہی کر سکتے ہیں۔
یک طرفہ محبت کا کوئی وجود ہی نہیں،محبت تو ہے ہی دو ہاتھوں کی تالی، ایک ہاتھ سے تو بس تھپڑ پڑ سکتا۔ اور تھپڑ کھانے والے کیسے تھپڑ مارنے والے کو اسی کی طرح بے رخی کا تھپڑ کیوں نہیں مارتے؟۔محبت کے بارے میں دو باتیں طے شد ہیں اصلی محبت نہ تو مجبور ہو تی ہے اور نہ یک طرفہ۔۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی بات ہے تو اس کا نام محبت نہیں کچھ اور ہو نا چاہیئے، جیسے کہ ضد، ہوس،ڈھٹائی، بے غیرتی،بے حسی، خود غر ضی۔۔ مگر محبت ہر گز نہیں۔
محبت تو دو دلوں کے درمیان بہنے والا ایک میٹھا سا دریا ہے۔ جس میں سکون ہے، احساس ہے، بے غر ضی ہے، آپسی احترام ہے، اپنے سے ذیادہ دوسرے کی پروا کرنا اور سب سے بڑھ کر ذہنی مطابقت ہے۔ ایک کی ہنسی دوسرے پر گرے تو قہقہ بن جائے،ایک کا آنسو نکلے تو دوسرے کی بھی آنکھ بھر آئے۔۔ ایک ہی منظر کو دونوں ایک ہی طرح دیکھیں، ایک ہی لطیفے پر اکھٹے ہنس سکیں ایک ہی بات پر رو سکیں۔۔ کتاب، موسیقی اور نظارے۔۔۔
محبت ذلت نہیں خود توقیری کا نام ہے۔ یک طرفہ محبت کرنے والے خود کی عزت نہیں کرتے اس لئے جس سے محبت کا دعوی کرتے ہیں وہ بھی پاؤں تلے روند دیتا ہے۔۔ محبت، سب سے پہلی اپنی عزت بھی ہے۔ جس قوم کو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ سجھایا گیا اس قوم کو خود کو عزت دو کا نعرہ سکھایا ہوتا تو آج انہیں ووٹ کو عزت دینا بھی آچکا ہو تا۔۔سیاست کہاں سے آگئی۔۔سیاست بھی اسی یک طرف یا دو طرفہ محبت کا نام ہے۔
جیسے low self esteem)) بے توقیرے لوگ یک طرفہ محبت کرتے رہتے ہیں اسی طرح ذلتوں میں گھرے لوگ، ان لیڈروں کی محبت میں گرفتار رہتے ہیں جو نہ ان کی محبت کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کی محبتوں کے قابل ہو تے ہیں۔اندھی،محبت نہیں ہو تی انسان ہو تے ہیں۔۔کسی کو یہ احساس دلائے بغیر کہ ہم یا ہماری محبت کوئی گری پڑی چیز نہیں جسے تم نے ٹھوکروں میں رکھ چھوڑا ہے آپ اس سنگدل پتھر سے محبت کئے جاؤ تو یہ آپ کے ساتھ ساتھ لفظ محبت کی بھی تذلیل ہے۔ دنیا میں ہر رشتہ باہمی لین دین کی بنیاد پر باعزت طریقے سے کھڑا ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کسی کے لئے کچھ کرتے ہیں اور بدلے میں اس کے پاس آپ کو دینے کو کچھ نہیں سچ بھی نہیں، خلوص بھی نہیں اور وہ بس آپ کو ٹرخا رہا ہے یا اس شوق میں مبتلا ہے کہ اس کے پیچھے چاہنے والوں کا ہجوم لگا رہے تو اس کا کیا جا تا ہے۔ دوستوں یاروں میں پھڑ مارنے کو ایک اور کہانی مل جائے گی۔ ایک پاپولر لیڈر ہو نے کا اعزا ز مل جائے گا۔ وہ تو گائے ہے چارہ تو یک طرفہ محبت کرنے والے بن رہے ہیں جنہیں کھا کر وہ تو توانا ہو جائے گی،مگر یہ ایک شٹ(فضلے) کی صورت ضائع ہو جائیں گے۔ توچاہے جانے والے پر نہیں ایسی محبت کرنے والوں کے لئے رکنے کا مقام ہے،رک کر سوچنے کا مقام ہے۔۔۔ وقت ِ نماز ہے۔۔ رکوع میں جاؤ اور پوچھو اس رب سے کہ انسان کو خودی کے ساتھ پیدا کیا تھا تو نفس کی خاطر یہ ذلت کیوں ساتھ کر دی،،ساتھ کر دی تو ہمیں اس پر قابو پانا کیوں نہ سکھایا؟۔ حضرت موسی کی طرح،دل تودہکتے کوئلے کو چمکتا دیکھ کر اسے بھی منہ میں رکھنے پر اکسائے گا۔۔
ہماری قوم سالوں سے یک طرفہ محبت میں مبتلا ہے۔۔ جس سے محبت کرتے ہیں اسے ساتویں آسمان پر بٹھا دیتے ہیں۔۔ وہ آسمانوں پر پہنچ کر خود کو خدا نہ سمجھے تو کیا سمجھے،پھر وہاں پہنچتے ہی وہ خود کو کسی کا جواب دہ نہیں سمجھتے۔۔ وہ لیڈر ہیں خدا نما۔۔ یا بالکل ہی خدا بن بیٹھتے ہیں۔۔وہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹ بھی کہیں تو اسے سچ مانو۔۔ ان کے آگے کیا جج، کیا پولیس، کیا افسر کیا صحافی سب سر بسجود ہیں۔وہ ٹھینگا دکھا جاتے ہیں محبت کرنے والے اس ٹھینگے کو پوجنے لگتے ہیں۔۔ ان قبروں کی پرستش شروع ہو جاتی ہے جہاں وہ ان کا خون چوسنے کے بعد مر کر دفن
ہو تے ہیں۔ ان محبت کرنے والوں کا بس چلے تو وہ ان کی قبروں کے بجوؤں کی منت سماجت کر لیں کہ ہمارا گوشت نوچا جائے اور ہمارا خون چوسا جائے، ہمارے مائی باپ کو بخش دیا جائے۔۔ حالانکہ ان کے جسموں میں بھی انہی بے توقیرے لوگوں کا خون ہوتا ہے۔۔
ساڈا سائیں، میڈا سائیں، ساڈا آقا، ساڈا بادشاہ، ساڈا شیر، ساڈا شہزادہ۔۔آپ کے بچے ہمارے سردار، ہمارے آقا، ہمارے مائی باپ۔۔ ان کے بچوں کے بچے ہمارے آقا۔۔ ہم غلام ہمارے بچے غلام ان کے بچے بھی غلام۔۔ ہم غلام ابن ِ غلام۔۔ آپ آقا ابن ِ آقا۔۔۔ محبت اندھی، خودی نام کی نہیں، ذلت سو فیصد۔۔۔۔
یک طرفہ محبت کا صدیوں سے کھیلا جانے والا یہ ناجائز کھیل کب ختم ہو گا۔۔میں شرطیہ کہتی ہوں جس دن ختم ہو گا اسی دن انقلاب آئے گا۔۔کیا کوئی سیاسی، مذہبی یا سماجی ٹھیکدار اس یک طرفہ محبت پر حرام کا فتوی لگائے گا؟اس غیر فطری اختلاط سے جس بھی” عفریت “کا جنم
ہو تا ہے وہ “ناجائز” اور بازاری زبان میں ” باسٹرڈ “ہو گی۔یہ سب علتیں، یہ سب مصیبتیں یہ سب نخوستیں اسی غیر فطری رحجان کی وجہ سے جنم لے رہی ہیں جن سے ہمارا معاشرہ لتھڑ چکا ہے۔
خود کی قدر کر نے والے کبھی بھی ایسی بے معنی اور ذلت آمیز محبت کا دم نہیں بھر سکتے۔۔ محبت تو مان دیتی ہے، ایک قابل ِ بھروسہ رشتہ مانگتی ہے۔۔ سچا وعدہ اور سچ مانگتی ہے۔۔ وہ نہیں تو دوستی کیا،محبت کیا۔۔شادی کا بندھن بھی ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کے رہ جاتا ہے اور انسان ایک ذرہ۔۔ بس۔ کاش ان ڈراموں میں لڑکوں،لڑکیوں کو محبت کے نام پر خود کی تذلیل نہ سکھائے جائے تو پاکستانی معاشرے میں بھی “خود توقیری “کی جڑیں پھیلنے لگیں، لوگوں کی عزت نفس بحال ہو اور جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے یا تذلیل کرنے والوں کی محبت کا دم بھرنے کی بجائے ان کا منہ نوچنا اور ان کے منہ پر تھوکنا سیکھ جائیں۔۔۔ تو ووٹ کی بھی عزت بحال ہو جائے گی، مگر جناب ِ عالی!! اس سے پہلے ووٹر کو اپنی عزت کرنا سکھانا ہوگا، اسے اپنے آپ سے محبت کرنا سکھانا ہو گا کہ جس سے وہ محبت کرتا ہے وہ بھی اس سے محبت کر رہا ہے یا فقط خانہ پری یا استعمال ہی کر رہا ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی کا بل
  • بسم اللہ
  • شہزادی کے بہ منت الفاظ
  • اُترن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
طاقچے میں پڑی ہوئی آنکھیں
پچھلی پوسٹ
مس مالا

متعلقہ پوسٹس

گوادر کا در کُھلا

اپریل 27, 2021

لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!

مارچ 11, 2021

زندگی اک کھلی کتاب ھے

دسمبر 26, 2025

غربت میں جکڑا بچپن

ستمبر 25, 2025

وہ آکاس سے تارے چرا لایا

مارچ 26, 2023

خودکشی

فروری 2, 2020

مصلحت خداوندی

نومبر 15, 2024

کیا اتنا کافی ہے؟

دسمبر 4, 2019

عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟

جولائی 18, 2024

کیلیں

فروری 15, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لاوارث

جون 14, 2020

پتھروں کی گواہی

دسمبر 23, 2024

میر صاحب کا زندہ عجائب گھر

مئی 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں