خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسینیٹر عرفان صدیقی: ایک عہد کا اختتام
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سینیٹر عرفان صدیقی: ایک عہد کا اختتام

از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2025 0 تبصرے 42 مناظر
43

قومیں اپنے مفکرین، اہلِ قلم اور سنجیدہ آوازوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، شائستگی اور متانت کے ذریعے ایک پوری نسل پر اثر ڈالا۔ وہ محض ایک صحافی یا کالم نگار نہیں تھے بلکہ ایک عہد کی علامت تھے جس میں علم، شرافت اور دلیل کو وقار حاصل تھا۔

عرفان صدیقی کی زندگی کا آغاز تدریس سے ہوا۔ انہوں نے تعلیم و تعلم کے میدان میں اپنا نام بنایا اور بعد ازاں صحافت کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کا سفر استاد سے کالم نگار، اور کالم نگار سے سیاستدان تک پُر وقار اور باعزت رہا۔ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو سنجیدگی، شائستگی اور ایک متوازن رویہ تھا جو آج کے شور و غوغا میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

بطور کالم نگار عرفان صدیقی کا نام "نقطہ نظر” کے ذریعے شہرت یافتہ ہوا۔ ان کے کالم نہ صرف عوام بلکہ اہلِ دانش کے درمیان بھی توجہ کا مرکز بنتے تھے۔ وہ مسائل پر بات کرتے وقت محض تنقید نہیں کرتے تھے بلکہ اسباب اور حل دونوں پر روشنی ڈالتے تھے۔ ان کی زبان میں نرمی، جملوں میں رچاؤ اور انداز میں گہرائی تھی۔ ان کے کالموں میں ایک ایسے دانشور کی جھلک نمایاں تھی جو قوم کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ نئے لکھنے والوں کے لیے ان کا اسلوب ایک مثالی نمونہ ہے جس میں علم و ادب کے ساتھ ساتھ کردار کی جھلک بھی ملتی ہے۔

بطور مشیر عرفان صدیقی نے وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ قومی امور کے میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنی شائستگی اور بردباری کے باعث پارلیمنٹ کے ہر طبقے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود ان کا لہجہ کبھی تلخ نہیں ہوا۔ ان کی گفتگو میں مکالمے کی روایت جھلکتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) میں ان کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جو جذبات کے بجائے استدلال کے ذریعے اپنی بات منواتے تھے۔

ان کی شخصیت کا انسانی پہلو بھی بہت نمایاں تھا۔ وہ نرم گفتار، منکسر المزاج اور علم و ادب سے گہری وابستگی رکھنے والے شخص تھے۔ اساتذہ، طلبہ اور اہلِ قلم میں ان کا احترام خاص طور پر محسوس کیا جاتا تھا۔ وہ تعلقات میں خلوص اور رویے میں نرمی کے قائل تھے۔ یہی اوصاف انہیں دوسروں سے ممتاز بناتے تھے۔

عرفان صدیقی کی وفات سے ایک عہد ختم ہوا۔ یہ خلا صرف سیاست میں نہیں بلکہ قلم کی دنیا میں بھی شدت سے محسوس کیا جائے گا۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جو علم اور کردار دونوں کو یکجا کرتے تھے۔ ان کی تحریری میراث ہماری قومی فکری تاریخ کا قیمتی حصہ ہے۔ ان کے خیالات آج بھی اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ اختلاف کے باوجود تہذیب برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

ان کی زندگی کی اصل میراث علم، فہم اور شرافت پر مبنی سیاست و صحافت ہے۔ انہوں نے قلم کو عزت دی اور سیاست کو شائستگی۔ آنے والی نسلوں کے لیے وہ ایک ایسے کردار کی مثال ہیں جس نے دلیل، صبر اور وقار کے ساتھ اپنی بات کہی۔

ان کی ذات میں استاد کا وقار، ادیب کی نرمی، اور سیاست دان کی فراست یکجا تھی۔ وہ ہر مجلس میں احترام سے سنے جاتے تھے کیونکہ ان کے الفاظ میں تجربے کی خوشبو اور نیت کی سچائی ہوتی تھی۔ وہ کبھی بلند آواز میں بولنے کے قائل نہ تھے، لیکن ان کے الفاظ میں ایسی گہرائی تھی جو دلوں کو چھو لیتی تھی۔ عرفان صدیقی کی تحریریں محض رائے نہیں بلکہ ایک تربیت تھیں۔ ان کے ہر کالم میں قاری کے لیے سوچنے، سمجھنے اور خود کو سنوارنے کا پیغام ہوتا تھا۔

ان کی جدائی نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ معاشرے کو سنجیدہ، شائستہ اور مہذب آوازوں کی کتنی ضرورت ہے۔ آج جب اظہار کی دنیا شور سے بھری ہوئی ہے، عرفان صدیقی جیسے لوگ خاموشی کے اندر بھی معنی پیدا کرتے تھے۔ ان کے جانے سے جیسے ایک چراغ بجھ گیا ہو جو راستہ دکھاتا تھا۔ ان کے قاری، شاگرد اور چاہنے والے ہمیشہ ان کی تحریروں میں ان کی موجودگی محسوس کرتے رہیں گے۔

عرفان صدیقی کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ ان شخصیات میں سے تھے جو کردار سے زیادہ بولتے نہیں، مگر عمل سے اپنی پہچان چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا نام آنے والے وقتوں میں علم، اخلاق اور وقار کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ چلے گئے لیکن ان کی تحریری خوشبو اور فکری ورثہ ہمیشہ باقی رہے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ترقی کا ابلیسی ناچ
  • ڈاکٹر محمد دین تاثیر اور اُردو زبان
  • کراچی کے بلدیاتی نہیں بد نیتی انتخابات!
  • چائے پانی کو یہاں پر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
موج رود غم ہستی کو سہارا کر کے
پچھلی پوسٹ
علامہ اقبال — ایک روشن ستارہ

متعلقہ پوسٹس

رنج کا جب سے یہ خُوگر ہو گیا

دسمبر 12, 2021

یہ سال بھی آخر بیت گیا

دسمبر 29, 2019

ایلون رابرٹ کارنیلیس

جنوری 1, 2020

تم اگر سیکھنا چاہو … مجھے بتلا دینا

اپریل 23, 2020

ملکی سالمیت اور سیاسی انا

اپریل 3, 2022

دونوں جہاں سے آگیا کرکے ادھر اُدھر کی سیر

جون 8, 2020

صرف انسان اور کچھ بھی نہیں

نومبر 26, 2025

اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا

جنوری 28, 2020

عالمی سطح پر جنونیت کیا گل کھلا رہی ہے

اکتوبر 9, 2017

کہانی اِس لئے آگے نہ بڑھ سکی میری

مئی 4, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

نومبر 29, 2020

کھمبیاں جمع چھچھورے اور میڈیا انفلوئنسرز

نومبر 16, 2025

ہوا کی زد میں آ گئیں...

جون 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں