خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسینیٹر عرفان صدیقی: ایک عہد کا اختتام
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سینیٹر عرفان صدیقی: ایک عہد کا اختتام

از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2025 0 تبصرے 87 مناظر
88

قومیں اپنے مفکرین، اہلِ قلم اور سنجیدہ آوازوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، شائستگی اور متانت کے ذریعے ایک پوری نسل پر اثر ڈالا۔ وہ محض ایک صحافی یا کالم نگار نہیں تھے بلکہ ایک عہد کی علامت تھے جس میں علم، شرافت اور دلیل کو وقار حاصل تھا۔

عرفان صدیقی کی زندگی کا آغاز تدریس سے ہوا۔ انہوں نے تعلیم و تعلم کے میدان میں اپنا نام بنایا اور بعد ازاں صحافت کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کا سفر استاد سے کالم نگار، اور کالم نگار سے سیاستدان تک پُر وقار اور باعزت رہا۔ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو سنجیدگی، شائستگی اور ایک متوازن رویہ تھا جو آج کے شور و غوغا میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

بطور کالم نگار عرفان صدیقی کا نام "نقطہ نظر” کے ذریعے شہرت یافتہ ہوا۔ ان کے کالم نہ صرف عوام بلکہ اہلِ دانش کے درمیان بھی توجہ کا مرکز بنتے تھے۔ وہ مسائل پر بات کرتے وقت محض تنقید نہیں کرتے تھے بلکہ اسباب اور حل دونوں پر روشنی ڈالتے تھے۔ ان کی زبان میں نرمی، جملوں میں رچاؤ اور انداز میں گہرائی تھی۔ ان کے کالموں میں ایک ایسے دانشور کی جھلک نمایاں تھی جو قوم کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ نئے لکھنے والوں کے لیے ان کا اسلوب ایک مثالی نمونہ ہے جس میں علم و ادب کے ساتھ ساتھ کردار کی جھلک بھی ملتی ہے۔

بطور مشیر عرفان صدیقی نے وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ قومی امور کے میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنی شائستگی اور بردباری کے باعث پارلیمنٹ کے ہر طبقے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود ان کا لہجہ کبھی تلخ نہیں ہوا۔ ان کی گفتگو میں مکالمے کی روایت جھلکتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) میں ان کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جو جذبات کے بجائے استدلال کے ذریعے اپنی بات منواتے تھے۔

ان کی شخصیت کا انسانی پہلو بھی بہت نمایاں تھا۔ وہ نرم گفتار، منکسر المزاج اور علم و ادب سے گہری وابستگی رکھنے والے شخص تھے۔ اساتذہ، طلبہ اور اہلِ قلم میں ان کا احترام خاص طور پر محسوس کیا جاتا تھا۔ وہ تعلقات میں خلوص اور رویے میں نرمی کے قائل تھے۔ یہی اوصاف انہیں دوسروں سے ممتاز بناتے تھے۔

عرفان صدیقی کی وفات سے ایک عہد ختم ہوا۔ یہ خلا صرف سیاست میں نہیں بلکہ قلم کی دنیا میں بھی شدت سے محسوس کیا جائے گا۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جو علم اور کردار دونوں کو یکجا کرتے تھے۔ ان کی تحریری میراث ہماری قومی فکری تاریخ کا قیمتی حصہ ہے۔ ان کے خیالات آج بھی اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ اختلاف کے باوجود تہذیب برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

ان کی زندگی کی اصل میراث علم، فہم اور شرافت پر مبنی سیاست و صحافت ہے۔ انہوں نے قلم کو عزت دی اور سیاست کو شائستگی۔ آنے والی نسلوں کے لیے وہ ایک ایسے کردار کی مثال ہیں جس نے دلیل، صبر اور وقار کے ساتھ اپنی بات کہی۔

ان کی ذات میں استاد کا وقار، ادیب کی نرمی، اور سیاست دان کی فراست یکجا تھی۔ وہ ہر مجلس میں احترام سے سنے جاتے تھے کیونکہ ان کے الفاظ میں تجربے کی خوشبو اور نیت کی سچائی ہوتی تھی۔ وہ کبھی بلند آواز میں بولنے کے قائل نہ تھے، لیکن ان کے الفاظ میں ایسی گہرائی تھی جو دلوں کو چھو لیتی تھی۔ عرفان صدیقی کی تحریریں محض رائے نہیں بلکہ ایک تربیت تھیں۔ ان کے ہر کالم میں قاری کے لیے سوچنے، سمجھنے اور خود کو سنوارنے کا پیغام ہوتا تھا۔

ان کی جدائی نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ معاشرے کو سنجیدہ، شائستہ اور مہذب آوازوں کی کتنی ضرورت ہے۔ آج جب اظہار کی دنیا شور سے بھری ہوئی ہے، عرفان صدیقی جیسے لوگ خاموشی کے اندر بھی معنی پیدا کرتے تھے۔ ان کے جانے سے جیسے ایک چراغ بجھ گیا ہو جو راستہ دکھاتا تھا۔ ان کے قاری، شاگرد اور چاہنے والے ہمیشہ ان کی تحریروں میں ان کی موجودگی محسوس کرتے رہیں گے۔

عرفان صدیقی کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ ان شخصیات میں سے تھے جو کردار سے زیادہ بولتے نہیں، مگر عمل سے اپنی پہچان چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا نام آنے والے وقتوں میں علم، اخلاق اور وقار کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ چلے گئے لیکن ان کی تحریری خوشبو اور فکری ورثہ ہمیشہ باقی رہے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کئی اسرار ہوتے ہیں
  • آنکھوں کے راز اور خول
  • وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا
  • قسم سے کتنا ڈری ہوئی تھی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
موج رود غم ہستی کو سہارا کر کے
پچھلی پوسٹ
علامہ اقبال — ایک روشن ستارہ

متعلقہ پوسٹس

کتے

دسمبر 13, 2019

دیمک زدہ کمرے ہیں

مارچ 8, 2025

اپنے کتبے بنا رہے ہیں ہم

نومبر 14, 2021

غم پرندہ جو پہلی اڑانوں سے

دسمبر 26, 2024

کہیں مل جائے وہ خوشبو تو کہنا

جون 12, 2020

ہمیشہ خیر رہے ، دن ہرے بھرے جائیں

مئی 4, 2020

خاموشی کا جادو

نومبر 24, 2024

تلافی

جون 14, 2020

روشنی

دسمبر 10, 2019

کتبہ

دسمبر 6, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

درد بے لگام ہو گئے

دسمبر 11, 2022

ماسی

فروری 3, 2020

نہ ملتا ان کا سنگِ در...

دسمبر 17, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں