خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباٹیکنالوجی کی ترقی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ٹیکنالوجی کی ترقی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 8, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 8, 2025 0 تبصرے 67 مناظر
68

ٹیکنالوجی کی ترقی اور انسان کی فکری ذمہ داری
دنیا ایک تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ ہر صبح ایک نئی ایجاد، ایک نیا تجربہ، ایک نیا چیلنج لے کر آتی ہے۔ انسان کے ہاتھ میں ایسی طاقت آ گئی ہے جس کا تصور کبھی محض کہانیوں میں ہوتا تھا۔ آج وہ اپنے ذہن کی توسیع ایک ایسے نظام کے حوالے کر چکا ہے جسے ہم "مصنوعی ذہانت” کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ذہانت اب زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکی ہے۔ تعلیم سے لے کر صحافت تک، معیشت سے لے کر طب تک، قانون سے لے کر مواصلات تک، ہر جگہ ایک غیر مرئی ذہانت اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ذہانت انسان کے شعور، احساس اور ضمیر کا متبادل بن سکتی ہے؟

یہ حقیقت کسی بحث کی محتاج نہیں کہ مصنوعی ذہانت نے کام کے انداز بدل دیے ہیں۔ آج وہ نتائج لمحوں میں سامنے آ جاتے ہیں جن کے لیے کبھی انسان دن رات محنت کرتا تھا۔ اعداد و شمار کی ترتیب، رپورٹوں کی تیاری، زبانوں کا ترجمہ اور تحریروں کی تنظیم، سب کچھ ایک نظام خودکار انداز میں انجام دیتا ہے۔ مگر اس حیران کن کارکردگی کے ساتھ ایک خوف بھی جنم لیتا ہے۔ اگر انسان اپنی فکری نگرانی کھو بیٹھے تو یہی سہولت زنجیر بن جاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی خوبی اس کی رفتار ہے، مگر یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔ یہ ڈیٹا پر کام کرتی ہے، احساسات پر نہیں۔ یہ معلومات کو جمع تو کر سکتی ہے مگر معنی کو محسوس نہیں کر سکتی۔ ایک مشین لاکھوں جملے بنا سکتی ہے لیکن ایک آہ، ایک خاموشی یا ایک تھکن بھری نظر کا مفہوم نہیں سمجھ سکتی۔ میں نے کئی ایسی تحریریں دیکھی ہیں جو بظاہر مکمل تھیں مگر بے روح لگتی تھیں، جیسے ان میں دل کی دھڑکن موجود ہی نہ ہو۔ یہی فرق ہے جو انسان کو مشین سے ممتاز کرتا ہے۔

طبی دنیا میں بھی مصنوعی ذہانت تیزی سے قدم جما رہی ہے۔ وہ مریض کے پرانے ریکارڈ دیکھتی ہے، بیماری کی وجوہات بتاتی ہے، اور علاج کے طریقے تجویز کرتی ہے۔ لیکن ایک مشین مریض کی آنکھوں میں چھپی بے بسی نہیں پڑھ سکتی۔ وہ اس ہاتھ کے لمس کو محسوس نہیں کر سکتی جو تیمارداری کے لمحے میں ایک تسلی بن جاتا ہے۔ انسان کی نرمی، اس کا درد محسوس کرنے کا سلیقہ، اس کی خاموش ہمدردی، یہ وہ خصوصیات ہیں جو کبھی کسی کوڈ یا پروگرام کا حصہ نہیں بن سکتیں۔

قانون اور انصاف کے میدان میں بھی مصنوعی ذہانت کو جگہ دی جا رہی ہے۔ عدالتوں میں الگورتھم کی مدد سے فیصلوں کی تیاری ہونے لگی ہے۔ یہ درست تجزیے پیش کر سکتی ہے، مگر انصاف صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں۔ عدل کا تعلق ضمیر سے ہوتا ہے، وہ ہمدردی اور انسانیت سے جنم لیتا ہے۔ اگر فیصلہ صرف ڈیٹا پر مبنی ہو تو وہ عدل نہیں رہتا، محض ضابطہ بن جاتا ہے۔ قانون کی روح دفعات میں نہیں، انسان کے احساس میں ہے۔

مالیاتی دنیا میں مصنوعی ذہانت نے حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ سرمایہ کاری، تجارت اور کرنسی کے فیصلے اب لمحوں میں ہو جاتے ہیں۔ مگر مشین یہ نہیں سمجھتی کہ ایک تجارتی فیصلہ کسی گھر کے چولہے کو بجھا سکتا ہے یا کسی خاندان کی امید جگا سکتا ہے۔ منافع اور نقصان کے درمیان جو انسانی کہانیاں پوشیدہ ہیں، وہ کسی نظام کے اعداد میں نہیں سماتی ہوتیں۔ مالی دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب حساب کتاب دل پر غالب آ جائے تو زندگی محض گنتی بن جاتی ہے۔

شخصی معلومات اور رازداری کے حوالے سے بھی مصنوعی ذہانت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ یہ نظام ہماری گفتگو، ہماری پسند، ہماری روزمرہ عادات حتیٰ کہ ہماری خاموشیوں تک کو محفوظ کر لیتا ہے۔ بظاہر یہ سہولت ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا جال ہے جو آہستہ آہستہ انسانی آزادی کو محدود کر دیتا ہے۔ جب ایک نظام انسان کے باطن تک پہنچنے لگے اور اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے تو یہ علم نہیں، بلکہ خطرہ ہے۔

اخلاقی پہلو یہاں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ایک مشین یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔ وہ صرف اتنا جانتی ہے جتنا اسے بتایا گیا ہے۔ جب کوئی نظام انسانی اقدار سے الگ ہو جائے تو ترقی، تباہی کا دوسرا نام بن جاتی ہے۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اگر فیصلہ دل کے بغیر ہو تو کیا وہ انسانوں کے لیے ہوگا یا مشینوں کے لیے؟

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ لیکن انسان کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی رہنما نہیں، مددگار ہے۔ انسان کی بصیرت، ضمیر اور دانش ہی اسے راستہ دکھا سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچ سکتی ہے، سوال یہ ہے کہ انسان کہاں رکنا جانتا ہے۔

دنیا کی تمام مشینیں مل کر بھی ایک ماں کے لمس، ایک شاعر کے جذبے یا ایک مفکر کے غوروفکر کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ ٹیکنالوجی روشنی ضرور پھیلاتی ہے، مگر روشنی میں بھی ایک سایہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ یہی سایہ انسان کا شعور ہے، جو ہر زمانے میں اپنے وجود کی یاد دلاتا ہے۔ شاید یہی وہ سایہ ہے جو انسان کو مشین بننے سے بچاتا ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چمک، شہرت اور تلخ حقیقت
  • قرب رسول کلام اعلیٰ 
  • سفر نامہ حجاز
  • محترمہ دعا کی جدوجہد اور قربانی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
علامہ اقبالؒ
پچھلی پوسٹ
خواب دیکھا تھا کسی مغرور کا

متعلقہ پوسٹس

دوست ہو گئے دشمن

جولائی 31, 2022

سو روپے 

اکتوبر 26, 2019

آنکھوں میں چھپا لیا گیا ہے

مارچ 4, 2020

ایران میں احتجاجی طوفان

جنوری 12, 2026

بے دم سا ترا لے کے میں احسان پڑا ہوں

نومبر 16, 2025

کبھی شاخوں پہ بیٹھیں گے

مئی 31, 2024

محمد بن سلمان

اکتوبر 6, 2025

زرد پتّوں کی اوٹ میں

مئی 31, 2020

ہزار طعنے سنے گا،خجِل نہیں ہو گا

مئی 4, 2020

محروم چئیو کھبی نہیں مرتی

جنوری 1, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میں سوکھا پیڑ اور اس کی...

جون 6, 2020

سیر عدم

جنوری 16, 2026

بڑھتے بڑھتے سوز ِدل آہ و...

ستمبر 19, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں