خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہماری تہذیب – ہماری شناخت، ہمارا فخر!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

ہماری تہذیب – ہماری شناخت، ہمارا فخر!

از سائیٹ ایڈمن اگست 1, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 1, 2025 0 تبصرے 40 مناظر
41

abid zameer salamurdu

جناب ڈاکٹر راجہ سجاد خان کے بطورِ ڈائریکٹر کشمیر کلچرل اکیڈمی چارج سنبھالنے کے بعدجہاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کے غیر قانونی قبضہ، خصوصی حیثیت کے خاتمے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالہ سے آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی کے زیر ِ اہتمام پینٹنگ مقابلہ جات، وادی سمیت آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں ثقافتی میلوں کا انعقاد کیا جارہا ہے تو دوسری جانب جہاں لوگ انتظار گاہوں میں بیٹھے رہتے تھے، وہاں کمیونٹی لائبریریز قائم کی جارہی ہیں، تاکہ لوگ اپنے وقت کو قیمتی بناتے ہوئے کتب سے استعفادہ حاصل کریں اور ان کا رحجان کتب کی طرف راغب ہو سکے۔ اسی سلسلہ میں مظفر آباد میں AIMSہسپتال میں شاندار کمیونٹی لائبریری قائم کی گئی ہے جس کا افتتاح وزیر ِصحت، جناب ڈاکٹر نثارانصر ابدالی نے کیا۔ کشمیر کلچرل اکیڈمی کی اس کاؤش کو عوام میں شاندار پذیرائی مل رہی ہے۔ لوگ کتب پڑھ رہیں ہیں۔ سوشیل میڈیا کے منفی رحجان سے کتب کی طرف لانے کا یہ ایک بہترین کارنامہ ہے۔ کیوں کہ نسل نو کو اس تہذیب سے روشناس کروانا ہے جو تہذیب اب نایاب ہوتی جارہی ہے۔
”نیلم ادبی و ثقافتی میلہ اور پینٹنگ مقابلہ کے انعقاد کے حوالے سے مشاورت کے دوران جناب ڈاکٹر راجہ سجاد خان ڈائریکٹر اکیڈمی، نے چوہدری خان ولی (صدر انجمن تاجران کیل)، شاہ نواز چشتی، سید قاسم سیلانی، سرور ساگر، پروفیسر عامر،راقم الحروف، اور محمد منیر خان (اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکیڈمی) سے دورانِ ملاقات بتایا کہ نیلم، اور دوسرے اضلاع میں ان کی مقامی زبان میں ثقافتی میلے، پینٹنگ، بانسری، اور دیگر کورسز کروانے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی تہذیب، ثقافت کو روشناس کروایا جائے نئی نسل کو اپنی تہذیب، ثقافت، روایات سے جوڑا جائے۔ اپنی زبان میں بات زیادہ جلدی سمجھ آتی ہے۔ اس کی شاندار مثال قرآن کریم ہے کہ وہ رحمت العالمین ﷺاور اہل عرب کی زبان میں نازل کیا گیا۔ دُنیا میں وہی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ انسانوں کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ باقی دُنیا فانی ہے اس کی ہر شے بھی فنا ہونے والی ہے۔ نام، عہدے، سٹیٹس یہ سب عارضی ہیں۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو قوم اپنی تہذیب سے دور ہو جاتی ہے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ہر قوم کی شناخت اس کی تہذیب سے ہوتی ہے، اور آزاد جموں و کشمیر کی تہذیب اس خطے کے خوبصورت قدرتی مناظر کی طرح دلکش، متنوع اور گہرے اثرات رکھنے والی ہے۔ یہاں کی روایات، زبانیں، میل جول، لباس، مہمان نوازی اور اجتماعی طرزِ زندگی ایک ایسی تہذیبی صورت گری کرتے ہیں جو نسلوں سے ہمارے ساتھ ہے اور ہماری شناخت کی بنیاد ہے۔
آزاد کشمیر کی تہذیب صرف ثقافتی مظاہر تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے خاندانی نظام، بزرگوں کے احترام، مذہبی ہم آہنگی، ملی وحدت اور جذب قربانی کا آئینہ دار ہے۔ چاہے وہ گوجری بولی کی مٹھاس ہو یا پوٹھوہاری روایتوں کی خوبصورتی، یہاں کی ثقافت میں محبت، خدمت اور خلوص نمایاں نظر آتا ہے۔مگر بدقسمتی سے موجودہ دور میں مغربی ثقافت کا بے جا اثر، سوشل میڈیا کا غیر محتاط استعمال اور مادّی دوڑ نے ہماری نسل نو کو اپنی جڑوں سے دور کر دیا ہے۔ ہم نے اپنی زبانوں، لوک گیتوں، روایتی لباس اور حتیٰ کہ تہواروں کو بھی نظرانداز کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی اصل کو کس جانب لے جا رہے ہیں۔قومیں اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی بقا اور توسیع کیلئے بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ زیادہ تر لڑی جانیوالی جنگیں دنیا میں اسی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے بچاو یا پھیلاؤکیلئے لڑی گئیں۔

کسی قوم کی بقا اور عظمت اس کی تہذیب اور ثقافت کی بقا سے وابستہ ہوتی ہے۔ دُنیا کی زندہ اور غیرت مند قومیں اپنے تہذیبی اور ثقافتی ورثہ سے محبت کرتی ہیں اور اسکے تحفظ کیلئے ہر طرح سے تیار رہتی ہیں۔ ہر قوم کی ایک مستقل شناخت ہوتی ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی۔ہم تہذیب و ثقافت کو انسانی زندگی کا بنیادی اصول سمجھتے ہیں۔ ثقافت یعنی ایک معاشرے اور ایک قوم کی اپنی خصوصیات اور عادات و اطوار، اس کا طرز فکر، اس کا دینی نظریہ، اس کے اہداف و مقاصد، یہی چیزیں ملک کی تہذیب کی بنیاد ہوتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی چیزیں ہیں جو ایک قوم کو شجاع و غیور اور خود مختار بنا دیتی ہیں اور ان کا فقدان قوم کو بزدل اور حقیر بنا دیتا ہے۔
تہذیب وثقافت قوموں کے تشخص کا اصلی سرچشمہ ہے۔ قوم کی ثقافت اسے ترقی یافتہ، با وقار، قوی و توانا، عالم و دانشور، فنکار و ہنرمند اور عالمی سطح پر محترم و با شرف بنا دیتی ہے۔ اگر کسی ملک کی ثقافت زوال و انحطاط کا شکار ہو جائے یا کوئی ملک اپنا ثقافتی تشخص گنوا بیٹھے تو باہر سے ملنے والی ترقیاں اسے اس کا حقیقی مقام نہیں دلا سکیں گی اور وہ قوم اپنے قومی مفادات کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔
اسلامی ثقافت ایک معیاری ثقافت ہے، جو ایک معاشرے کے لئے اور انسانوں کے کسی بھی گروہ اور جماعت کے لئے اعلی ترین اقدار و معیارات کی حامل ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے کو سربلند و سرفراز اور عزیز و با وقار بنا کر ترقی و کامرانی کی راہ پر لگا سکتی ہے۔ اُمت ِمسلمہ مختلف قوموں، نسلوں اور مکاتب فکر سے تشکیل پائی ہے۔ قدیمی ترین تہذیبیں اور وسیع ثقافتیں انہی علاقوں میں پھلی پھولی اور فروغ پائی ہیں جہاں آج مسلمان آباد ہیں۔ یہ تنوع، یہ رنگا رنگ انداز، کرہ زمین کے حساس علاقوں کی مالکیت امت مسلمہ کی اہم خصوصیات ہیں۔ تاریخ و ثقافت کی مشترکہ میراث اس امت کی طاقت میں اور بھی اضافہ کر سکتی ہے۔
اگر ہم اپنی تہذیب کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو اپنی زبان، تاریخ، شاعری، لوک کہانیوں اور قومی ہیروز سے روشناس کرانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔آزاد کشمیر کی تہذیب ہمارے لیے محض ماضی کا فخر نہیں، بلکہ مستقبل کی روشنی ہے۔ اگر ہم نے اپنی ثقافتی شناخت کو بچا لیا تو ہم ایک باشعور، مضبوط اور متحد قوم بن کر ابھریں گے تہذیب و ثقافت کو زندہ کرنے، نسل ِ نو کو سوشل میڈیا کی افراتفری سے نکال کر کتب کی جانب راغب کرنے، اپنے وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر ترقی کی راہیں ہموار کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر کشمیر کلچرل اکیڈمی جیسے اداروں کا معاون بننا ہو گا۔ یہ کسی فردِ واحد کا نہیں ہم کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر کتب سے دوری، اپنی تہذیب و ثقافت سے لگاؤ ختم ہوتا رہا تو مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔
آئیے! ہم سب عہد کریں کہ اپنی تہذیب کی خدمت کریں گے، اسے اپنائیں گے اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کریں گے۔ یہی ہماری اصل پہچان ہے، اور یہی ہماری بقا کی ضمانت۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کربل کے میداں میں
  • سیاسی اور انتظامی انجینیرنگ کہ بعد!
  • منبعِ وجود
  • یہی نہیں کہ ترا ضبط آزمانا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اللہ پاک بہت رحیم ھے
پچھلی پوسٹ
آنسوؤں میں بھیگی دھوپ

متعلقہ پوسٹس

موج رود غم ہستی کو سہارا کر کے

نومبر 11, 2025

بے چہرگی سے چہرہ چھپا کر کھڑا رہا

مارچ 11, 2022

انکی آنکھوں میں پا لیا خود کو

مئی 21, 2020

دیہات کے مسائل

جنوری 11, 2026

اپنے وطن میں امن و اماں

مارچ 19, 2025

مُخنّث

مئی 2, 2020

توبۃ النصوح – فصل دہم

اکتوبر 30, 2020

مسیحا

فروری 5, 2020

دل پہ تالہ نہ کوئی اور

مارچ 8, 2025

شکوۂ انسان بنامِ یزداں

نومبر 6, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تعلیم کا مقصد: شعور یا روزگار؟

نومبر 3, 2025

چندرو کی دُنیا

اکتوبر 25, 2019

گیلی ہجر کی قبریں

مئی 11, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں