خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابالہروں پر ڈولتی زندگی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

لہروں پر ڈولتی زندگی

از فرحین جمال جنوری 3, 2022
از فرحین جمال جنوری 3, 2022 0 تبصرے 47 مناظر
48

گھر کے در و دیوار میری آواز اور بابا کی خاموشی سے مانوس تھے _ یہ نہیں کہ بابا بولتے نہیں تھے ،ان کی ہر بات نپی تلی اور موزوں ہوتی لیکن الفاظ جذبات سے عاری لگتے _بابا ایک با رعب ،با وقار ،توانا جسم اور شخصیت کے مالک تھے _ ان کا تانبے جیسا صحت مند چہرہ ، سفید براق داڑھی انہیں سب میں ممتاز کرتا ،ہاتھ میں سنہری چھڑی ، جس کو بھی چھو لیتی سونا کر دیتی _ ماں تھی تو سہی پر بابا کی چھڑی انہیں سونا نہ کر سکی ،وہ مٹی ہی رہیں اس لئے مجھے جنم دینے کے بعد گہرے پانیوں میں اتر گئیں _ جب وہ صبح گھر سے باہر نکلتے توسب جھک جھک کر ان کی تعظیم کرتے _ گھر سے کچھ فاصلے پر ایک چبوترہ تھا جہاں بابا بیٹھتے تھے _ وہاں اکثر جھمگھٹا رہتا سب اپنے مسائل لے کر آتے ان پر بحث جاری رہتی اور بابا کا فیصلہ آخری ہوتا _ قریب ہی ماں کا خوبصورت سا مجسمہ آویزاں تھا جس کے رنگ نمی اور ہوا نے پھیکے کر دیئے تھے –

میرا گھر سمندر کنارے دونوں اطراف سے اونچے اونچے پہاڑوں میں گھرا ایک چھوٹا سا نیلے پانیوں کا پیالہ نما جزیرہ تھا ، قدرتی کٹاؤ نے ایک دائرے کی شکل میں اس جزیرے کو جنم دیا تھا _ جزیرے اور سمندر کے درمیان دھند نے ایک مہین سا پردہ ڈال رکھا تھا _ دن کو پانی سنہرا ، چاندنی راتوں میں چاندی ہو جاتا اور اماؤس کی کالی راتوں میں پانی پر مہیب سائے حرکت کرتے نظر آتے _ ہم سب کو ان راتوں میں باہر جانے کی اجازت نہیں تھی _ جزیرے پر سمندر کی طرح طوفان نہیں آتے تھے ، لیکن جھکڑ زور چلتے اور کبھی کبھی پیالہ چھلک جاتا مگر تہہ میں بیٹھی ریت کئی سر بستہ راز اپنے اندر چھپاۓ رکھتی _

میری دنیا تو یہ تاروں سے بھرا نیلا آسمان ،پانی پر تیرتی چاندنی اور پاؤں کے نیچے گیلی ریت تھی _ میرا رنگ و روپ ماں جیسا تھا ، اسی کی طرح رنگوں سے سجا ، اس کا رنگیں چولا میرے بدن کی زینت تھا،سنہرے بال اور چمکتی رنگت _صبح سے شام تک کسی آزاد پنچھی کی طرح اپنی ہم جولیوں کے سنگ پانی سے کھیلتی ، اٹکھیلیاں کرتی ، قریب کے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں پر بیٹھ کر سمندر کا نظارہ کرتی اور سیپیاں اکھٹی کرتی رہتی _ بابا کبھی کسی کام سے ادھر آ نکلتے تو مجھے خوش دیکھ کر مسکراتے ، اپنی چھڑی سے پانی کو چیر کر پانی کے نیچے چھپے خزانوں کی ایک جھلک دکھاتے – کبھی کبھی میں ضد کرتی تو اپنے کندھے پر بٹھا کر سمندر کے گہرے پانیوں کی طرف بھی لے جاتے _ مگر ایک گھمبیر سی خاموشی ان کا احاطہ کئیے رہتی _ایک نا معلوم سی اداسی ان کی آنکھوں میں تیرتی رہتی _

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ان کی پیشانی کی لکیروں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا _ پہلے پہل تو کوئی اکا دکا ماہی گیروں کی کشتی سمندر میں نظر آتی تھی_ پر عجیب بات یہ تھی کہ کچھ دنوں کے بعد کشتی کے نا خدا اسے چھوڑ کر غائب ہو جاتے _ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بڑے بڑے پہاڑ جیسے بحری جہاز سمندر کی سطح پر تیرنے لگے تو بابا زیادہ مضطرب ہوتے ان کے تفکر اور پریشانی میں اضافہ ہو جاتا _ ہمیں خاص حکم ہوتا کہ ساحل کی طرف نہ جائیں _ ان جہازوں پر سے نائیلون کے تاروں سے بنے جال سمندر کی تہہ میں ڈالے جاتے اور ریتیلی زمین میں چھپے خزانے ان میں سمیٹ لئے جاتے _ سب دور سے بیٹھے سمندر کولٹتے دیکھتے رہتے _ دیو ھیکل آہنی ہاتھوں نے مستقل گہرے پانیوں پر قبضہ کر لیا تھا _ ان کا شور اور رات وہاں سے آتی بہَت تیز روشنی ہمیں سونے نہیں دیتیں _ خوف نے جیسے ہم سب کو جکڑ رکھا تھا _ میں سوچتی کہ بابا اپنی سنہری چھڑی سے کام کیوں نہیں لیتے _ ایک دفعہ گھمائیں گے تو یہ پہاڑ بھر بھری مٹی بن کر جھڑ جائیں گئے _

میرا اکھلوتا دوست ، ہمدرد اور محافظ روز ہی کوئی نہ کوئی نئی خبر لے کر آتا اور خوب مرچ مصالحہ لگا کر مجھے سناتا _ وہ اکثر تیر کر سمندر کے قریب چلا جاتا تھا – میں بھی ضد کرتی ساتھ چلنے کی لیکن وہ بابا کی حکم عدولی نہیں کر سکتا تھا اور پھر میری چلبلی طبیعت سے بھی واقف تھا ،مجھے ہر نئے مقام اور شے کی کھوج چین سے بیٹھنے نہیں دیتی ،کبھی کبھی تو میں تیرتی دور نکل جاتی وہ حلق پھاڑ کر مجھے روکتا رہتا _ ” تم مجھے کسی دن مرواؤ گی _” ارررے کچھ نہیں ہوتا _” میں بابا سے تمہاری سفارش کر دوں گی _” میری اس بے نیازی پر وہ اپنی گول گول آنکھیں پھیلا کر مجھے دیکھتا اور سر کو نفی میں ہلاتا _

“تمھیں سردار کے غصے کا پتا نہیں ہے _ میری ٹانگیں چیر کر رکھ دیں گے _” اور میں تاسف سے اس کی پتلی پتلی انگنت ٹانگوں کی طرف دیکھتی اور اس سے شرط لگا کر آگے نکل جاتی ، وہ نا چار بڑبڑاتا ،پیچھے ہو لیتا _

مجھے لگتا جیسے جیسے میں بڑی ہو رہی ہوں یہ جگہ سکڑ تی جا رہی ہے _ سمندر کے اس پار جانے کی خواہش زور پکڑتی جا رہی تھی _ ایسا کیا ہے اس پار جس سے بابا اتنے خوف زدہ ہیں ؟ مجھے محسوس ہوتا کہ میری سوچیں جنگلی خود رو بیل ہیں جو خود بخود چاروں جانب بڑھتی اور پھیلتی جا رہی ہے _ دل و دماغ اس بیل کی شاخوں نے جکڑ رکھا ہے اور جلد ہی میرے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی او ر میں ان کے بڑھتے ہوے قدم روک نہیں پاؤں گی _

ایک اور بات جو مجھے ہمیشہ متجسس رکھتی تھی وہ کچھ گیت تھے جو اکثر چاندنی راتوں میں گا ئے جاتے اور ان کا سحر مجھے اپنی طرف کھینچتا اور میں کئی دنوں تک سحر زدہ رہتی ، اور میرا من اس لے پر رقصاں _ عجب قسم کی ھوک ،سوز و گداز ، اور پکار ہوتی _ اکثر چاندنی راتوں میں کنواریاں جزیرے کے اس پار گہرے پانیوں میں اترتی تھیں، چند محافظ لاٹھیاںلئے ان کے ساتھ کنارے تک جاتے _ گیت کی لے پانی پر تیرتی میرے دل میں اتر جاتی _ میں اکثر سوچتی کہ یہ کس لئے ان راتوں میں جاتی ہیں ،پر بابا کہتے ابھی میری عمر کم ہے ،سیانی ہو جاؤں تو سمجھ جاؤں گی _

وہ بھی مجھے کچھ نہیں بتاتا _ بس بابا کی طرح ٹال دیتا لیکن اس کے چہرے پر خوف کا سایہ سا لہرا جاتا _ میرے اندر بے چینی اور بے کلی بڑھتی جا رہی تھی – ایک آتش فشاں تھا جو پھٹ پڑنے کو تیار تھا _

”لو تم یہاں بیٹھی ہو _” اس کی آواز نے میری سوچ کا دائرہ قطع کر دیا _

“کیا ہے ؟”

“تمھیں بت کی طرح بیٹھے دیکھا تو ادھر چلا آیا ” سردار کے کام سے سمندر کی طرف جا رہا تھا _ میری آنکھوں کی چمک بڑھ گئی _ میں بھی ساتھ جاؤں گی _

“نہیں .! نہیں ..! تم میرے ساتھ نہیں جا سکتیں _” لیکن میں ہٹ دھرمی سے اپنی بات پر اڑ ی رہی _ بیچارہ چکرا گیا – مشکل سے راضی ہوا ،”تم ٹیلے کے پیچھے ہی رہو گی بس ! “ٹھیک ..! “.میں نے سر ہلا دیا _ وہ تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ میں بھی پیچھے ہو لی _ بحری جہاز سمندر کی سطح پر اپنے پنجے گاڑے کھڑا تھا _ تجسس کے مارے میرے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں _ وہ چیختا اور چلاتا رہا اور میں اس پر چڑھ گئی _ ایک نئی انجانی دنیا میری آنکھوں کے سامنے تھی _ قریب سے اتنا ہیبت ناک نہیں دکھ رہا تھا _ مضبوط چمکتے فرش جن پر پیر پھسل جائیں _ عجیب و غریب مخلوق جن کی بولی میری سمجھ میں نہیں آ رہی تھی _ وہ جب چلتے تو زمین پر پاؤں گھسیٹ کر یا اسے روند کر چلتے _ ان کا سر جسم سے کافی فاصلہ پر تھا ، انھیں جھک کر نیچے دیکھنا پڑتا _ وہ دیو ھیکل ہاتھ جو بنا رکے سمندر کی تہہ کو کھنگال رہے تھے ،جب پانی سے باہر آتے تو ان میں تڑپتے ہوۓ جسم ہوتے ،ان کی چیخ و پکار کا ان پر کوئی اثر نہ ہوتا _ اب مجھے بابا کی پریشانی کا اندازہ ہو رہا تھا _ ان گہرے پانیوں پر ان کا حکم نہیں چلتا تھا _ میں یہ سب دیکھنے میں اتنی مصروف تھی کہ مجھے اپنے دوست کی چیخیں دیر سے سنائی دیں_ مڑ کر دیکھا تو وہ ہوا میں جھول رہا تھا _ میری بھی چیخ نکل گئی _ تھوڑی دیر میں اسے فرش پر پٹخ دیا گیا _ جانے کتنے جسم اسی طرح تڑپ رہے تھے _ میں نے اپنی جگہ سے جست لگائی ، اس کی ٹانگ کو پکڑ کر کھینچا اور پانی میں چھلانگ لگا دی _ اس کے اوسان خطا تھے ،میری گرفت میں بری طرح چلا رہا تھا _ بڑی مشکل سے اسے پرسکون کیا _ وہ بار بار یہ ہی کہتا کہ آئیندہ میری باتوں میں نہیں آے گا _ واپسی کا سارا راستہ خاموشی میں گزرا ،وہ رہ رہ کر میری جانب دیکھتا اور خوف سے جھر جھری لیتا _

مجھے اس مخلوق کا بے رحمی سے شکار کرنا دکھی کر گیا _ یہ سرا سر ظلم ہے _ بابا کی باتیں اب میری سمجھ میں آنے لگی تھیں ،ان کا مضطرب اور متفکر رہنا ، رات کو گھنٹوں جاگنا اور ہمیں گہرے پانیوں میں جانے سے منع کرنا _ لیکن سمندر کے دوسرے کنارے کو دیکھنے کی چاہ کسی طرح کم نہ ہوتی تھی _ پر کیا کروں اپنے اس تخیل کا جو مجھے دن میں بھی کئی ان دیکھے جہانوں کی سیر کراتا _ خواب بنتے بنتے میں ان میں جینے لگی تھی _

اس رات چبوترے پر دیر تک مجلس رہی _ میں پوری طرح تو نہیں سمجھ پائی کہ کیا فیصلہ ہوا لیکن اتنی سن گن ملی کہ پورے چاند کی رات بابا کی معیت میں سیانوں کا ایک جتھا سمندر کی طرف جاۓ گا _ میں بھلا کب پیچھے رہنے والی تھی ،سو اگلی رات خاموشی سے پیچھے چل پڑی _ چاند پانی کی سطح پر ڈوبتا ،ابھرتا ساتھ ساتھ چل رہا تھا _ ماحول اتنا سحر انگیز تھا کہ میں اس میں کھو سی گئی _ چاندنی راتوں میں گا ئے جانے والے گیت کے بول میرے کانوں میں پڑے _ یہ گیت اس وقت ؟؟ .کس نے کنواریوں کو سمندر کی سمت جانے دیا ؟ میں ایک بڑے سے پتھر کی اوٹ سے جھانکنے لگی _ اس جہاز سے کشتیاں اتاری جا رہی تھیں اور ماہی گیر اس میں بیٹھے جیسے کسی سحر میں گرفتار ، سمندر میں گیت گاتی کنواریوں کا پیچھا کر رہے تھے اور گھاٹی کی جانب جا رہے تھے _ اس کے بعد کا منظر میرے ہوش اڑا گیا ! ماہی گیروں کو رسیوں سے باندھ دیا گیا تھا _ وہ خوبصورت کنواریاں اپنے نوکیلے خوف ناک دانت ان کی گردن میں پیوست کئے ان کا خون چوس رہی تھیں _ ان میں سے جو رسیاں تڑا کر بھاگنے کی کوشش کرتا اسے باقی ہر کارے چیر پھاڑ ڈالتے _ بابا ایک پتھر پر کھڑے ساری کاروائی دیکھ رہے تھے _ ان کے چہرے پر چھائی سفاکی ،ان کا یہ روپ دیکھ کر میرا دل دکھ اور کرب سے پھٹنے لگا _ تو یہ تھی اصل حقیقت .! بابا کہتے تھے تم سیانی ہو جاؤ تو سب سمجھ جاؤ گی _ یہ وہ جھانسا اور فریب تھا جس سے اس پار سے آنے والی مخلوق کا شکار کیا جاتا رہا _ میں منہ پر ہاتھ رکھے بڑی مشکل سے اپنی چیخوں اور سسکیوں کو روک رہی تھی _ مجھے کسی کے ہاتھ کا لمس اپنے کندھے پر محسوس ہوا ،گھبرا کر پیچھے دیکھا تو میرا دوست کھڑا تھا ،اس کی گول گول آنکھوں میں میرا کرب لرز رہا تھا _” تمھیں اسی لئے یہاں آنے سے منح کرتا تھا _” لیکن _ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ میرے بابا — اور ایسی بربریت ! مجھے یقین نہیں آتا _ اس رات مجھ پر اپنی ماں کا گھر چھوڑ کر چلے جانا سمجھ میں آیا _ تو کیا ؟؟ میں بھی سیانی ہو کر ایسی ہی خوں خوار اور وحشی بن جاؤں گی _ نہیں – نہیں مجھے اب یہاں نہیں رہنا _ کیا میرے بھی ایسے خوف ناک دانت ہوں گے ؟؟ ،یہ سوچ کر ہی مجھے جھر جھری آ گئی _

اپنی دنیا کو میں پرکھ چکی تھی ، مجھے دونوں دنیاؤں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا _ اس مخلوق کو قریب سے دیکھنے کی شدید خواہش مجھے سمندر کے اس پار جانے پر مجبور کر رہی تھی _ میں نے فیصلہ کر لیا کہ جب سمندر میں کھڑا جہاز یہاں سے کوچ کرے گا تو میں اس جگہ کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دوں گی _ ساری رات شش و پنچ میں گزری لیکن سورج کی پہلی کرن نمودار ہونے سے پہلے میں فیصلہ کر چکی تھی -اور گھر سے نکل پڑی _ میرا دوست مجھے روکتا رہا _ آنے والے وقت میں اپنا اتنا گھناونا روپ دیکھ کر مجھے خود سے نفرت سی ہونے لگی _ جہاز کئی دن کی مسافت کے بعد سمندر کے اس پار اترا _ اجنبی زمین پر پہلا قدم رکھا تو لڑکھڑا گئی ،یہاں کی زمین ٹھوس اور سخت ،فضا میں کثافت اور نا معلوم سی اداسی اور افسردگی پھیلی ہوئی تھی _، ہر چہرہ سپاٹ اور جذبات سے عاری تھا – ساحل کے کنارے خود کو کانسی کے مجسمے کی صورت ایک پتھر پر ایستادہ دیکھا تو چونک گئی _” کیا یہ میں ہوں بد رنگ ساکت ؟ “.تری سے خشکی کا سفر بہت کٹھن تھا _

میں اپنا ست رنگی لبادہ اور آواز پیچھے چھوڑ آئی تھی _ چاندنی راتوں کے گیت گونگے ہو چکے تھے _

سڑک کے کنارے سرمئی سیمنٹ اور پتھروں کی بنی سپاٹ اور سرد سی عمارت کی دس سیڑھیاں چڑھ کر وہ ، شیشے کے خود کار دروازے تک پہنچ گئی ، اس پار کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا _ اس خودکار دروازے کے بعد ایک اور دروازہ تھا جو استقبالیہ حصے میں کھلتا تھا _ دائیں جانب ایک چھوٹا سا استقبالیہ کاؤنٹر ، جدید طرز کے سرمئی کیو بیکل صوفے اور بائیں جانب آنے والوں کے اندراج کے لئے بنے چھوٹے چھوٹے کیبن ، جہاں شیشے کی دیوار کے دوسری طرف بیٹھی لڑکی ، سب کے کاغذات کی جانچ پڑتال کر کے انہیں مطلوبہ راستے کی نشان دہی کرتی _

اسے کلینک کا استقبالیہ حصہ خاص طور پر پسندتھا ، دائیں جانب کی پوری دیوار میں ایک فش ایکیوریم نصب تھا ،جس کے صاف و شفاف پانی میں مختلف اقسام کی مچھلیاں تیرتی رہتی تھیں ،اسے ایک ست رنگی مچھلی ( Molly ) سے خاص انسیت تھی جو چند لمحوں کے بعدایکیوریم کی دیوار کو آ کر چومتی جیسے اسے اپنے اس قید خانے سے بے حد پیار ہو _” چومتی تھی یا اس دیوار پر سر مارتی تھی -کیا وہ با ہر نکلنا چاہتی تھی “؟؟ ایکیوریم سے ناک چیپکاے وہ انہماک سے مچھلیوں کو دیکھ رہی تھی _ یہاں پانی پر سکو ن تھا _ بس آج وہ ست رنگی کہیں نظر نہیں آ رہی تھی _” کیا وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی ؟؟ اس خیال نے اس کے اندر ہلچل مچا دی _ _ سنا ہے ان مچھلیوں کی یاداشت تین سیکنڈ سے زیادہ کی نہیں ہوتی _ مگر تین سیکنڈ کی قید تین ہزار سکینڈ کی آزادی پر بھاری ہوتی ہے _ قید سے رہائی اس کی موت کا پروانہ بھی تو ہو سکتی ہے _

” ہائے سویٹی .! اب تمہاری باری ہے _” نرس کی آواز پر وہ چونک گئی _ آخری نظر مچھلیوں پر ڈالی اور لاسٹ اسٹیج کیمو تھراپی کے لئے چل پڑی

فرحین جمال

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیکھ کبیرا رویا
  • پھر یہ کیوں مستعار لی جائے
  • مائی جنتے
  • عشق لگتا ہے مجھکو گوہر سا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فرحین جمال

اگلی پوسٹ
میں اب آزاد ہوں
پچھلی پوسٹ
پچیس سال کی لیز

متعلقہ پوسٹس

قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے

اکتوبر 20, 2019

بلوچستان: واپسی کا سفر شروع

اکتوبر 24, 2021

سچی حکایات

اگست 11, 2024

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں

مئی 28, 2024

شجر شاخوں کو جب سے کھا رہے ہیں

جنوری 2, 2021

شکاری

مئی 10, 2020

گولی

جنوری 17, 2020

آزادی کی حنوط شدہ لاش!

اگست 22, 2022

بلونت سنگھ مجیٹھیا

جنوری 28, 2020

ختم کر دی رہی سہی تم نے

اپریل 23, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سپیرا

مئی 20, 2020

شامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی...

مارچ 5, 2023

سچی حکایات

اگست 11, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں