خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکچرے والا
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرعامر صدیقی

کچرے والا

از عامر صدیقی دسمبر 23, 2021
از عامر صدیقی دسمبر 23, 2021 0 تبصرے 31 مناظر
32

میری آنکھ عموماً اس کی تیز اور لگاتار دی جانے والی آوازوں سے کھل جاتی تھی۔
’’کچرے والا بھئی۔۔ کچرے والا۔‘‘
رات گئے تک لکھنے لکھانے کے کاموں میں مشغولیت اکثر و بیشتر دو ڈھائی بجا دیتی تھی۔ ایسے میں صبح صبح کچی نیند سے اٹھنا ذرا مسئلہ ہی لگتا تھا۔ مگر اٹھنا تو بہرحال پڑتا ہی تھا۔ کچرا دینا جو ضروری تھا۔ میری بیوی اور بچے اپنی نفاستِ طبع کے باعث کچرے کے ڈس بن اٹھاتے ہوئے کتراتے تھے۔ بیوی تو علم بغاوت بلند کرتے ہوئے یہاں تک کہہ چکی تھی کہ مجھ سے نہیں ہوتا یہ کام سویرے سویرے۔ اگر میں یہ کروں گی تو پھر سارا دن مجھے اس کی بدبو کے سوا کچھ اورسونگھنا محال ہو جائے گا۔ پھر نہ کہنا کہ سالن جل گیا یا مصالحہ صحیح طریقے سے بھنا نہیں۔ صبح سویرے در پیش اس مسئلے کا حل میں نے یہ نکالا کہ کچرے سے بھرے ڈس بن رات کو ہی گھر سے باہر رکھنا شروع کر دیئے۔ لیکن چند دنوں میں ہی کچرے میں موجود قابلِ استعمال اشیاء کیلئے ہونے والی آوارہ کتوں کی باہمی لڑائیوں اور شریر بلیوں کی چڑھائیوں نے ہمارے سمیت پوری گلی کی ہی نیندیں اڑا دیں۔ سامنے رہنے والے بیگ صاحب تو با قاعدہ تنتناتے ہوئے آن ٹپکے اور شکایتی انداز میں گویا ہوئے، ’’جناب آپ کا یہ کچرے کے ڈس بن رات کو گھر سے باہر رکھنا کچھ مناسب نہیں۔ کیا آپ کو پوری رات چلی پانی پت کی اس لڑائی کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ میرے پوتے تو ان آوازوں سے چیخیں مار مار کر اٹھ بیٹھتے ہیں۔ پھر پوری رات خود بھی جاگتے ہیں اور ہمیں بھی جگاتے ہیں۔‘‘
اب میرے پاس فقط معذرت خواہانہ انداز میں اپنی غلطی کی معافی مانگنے اور کچرا اندر رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
کچرے والا لڑکا، اپنے بوڑھے معذور باپ کے ساتھ ایک گدھا گاڑی میں آیا کرتا تھا۔ وہ آوازیں لگاتا، گھروں کی گھنٹیاں بجاتا اور کنڈیاں کھڑکاتا آگے آگے چلتا۔ اس دوران پیچھے پیچھے اس کا باپ گدھا گاڑی دھیمی رفتار سے آگے بڑھاتا رہتا۔
چودہ پندرہ سال کے اس کچرے والے افغانی لڑکے کی بلند آواز یں گلی میں داخل ہوتے ہی سنائی دینے لگتی تھیں اور میں کسمسا کر اٹھنے کی کوشش میں جٹ جاتا تھا۔ آخرکار اس کی بجائی گھنٹی پر اٹھ بیٹھتا اور ڈس بن اٹھا تا ہوا گیٹ کھولتا اور انہیں باہر رکھ دیتا، پھر ان کے خالی ہونے کے انتظار میں کھڑا ہو جاتا اور چپ چاپ اسے اور اس کے تیزی سے چلتے ہاتھ پیروں کو دیکھتا رہتا۔ اس کی حالتِ زار پرکڑھتا رہتا۔ مجھے اس پر بہت ترس بھی آتا تھا، یہی وجہ تھی کہ میں اکثر اسے رات کا بچا کھانا اور پرانے کپڑے وغیرہ اسے دیتا رہتا تھا۔ سامنے والے بیگ صاحب یہ دیکھتے تو کہتے۔
’’آپ کا یہ کھانا وغیرہ انہیں دینا ایک ایکدم بیکار ہے۔ یہ لوگ صاف ستھرے کھانے کے عادی نہیں۔ میں نے اس لڑکے کو خود کچرے میں سے بریانی کی بوٹیاں نکال کر کھاتے دیکھا ہے۔ اور آپ جو اسے ہر ہفتے اپنے پرانے کپڑے دے دیتے ہیں، کبھی آپ نے اسے پہنے دیکھا ہے۔ یقیناً یہ بیچ دیتے ہوں گے۔ میں نے خود صدر میں پرانے کپڑے بکتے دیکھے ہیں۔‘‘
میں بیگ صاحب کی بات پر ہمیشہ مسکرا کر رہ جاتا۔
اندرونِ سندھ سے آئے مہمانوں کی واپسی کے بعد سے میں محسوس کر رہا تھا رات کو اکثر میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا تھا۔ لگتا کہ جیسے کسی کیڑے نے کاٹا ہے، مچھر کی موجودگی کا امکان بھی، گلوب جلانے کی وجہ سے رد کرنا پڑا۔ پھراس مسئلے کا حل میں نے یہ نکالا کہ رات کو ایمرجنسی لائٹ لے کر بستر پر ساکت لیٹا رہا۔ بیس پچیس منٹوں کے بعد پیٹ پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا۔ آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر میں نے پیٹ کو چھوا اور اُس انجان چیز کو چٹکیوں کی گرفت میں لیتے ہوئے ایمرجنسی لائٹ جلا دی۔ یہ ایک کھٹمل تھا۔ ’’ یہ کہاں سے آ گیا۔‘‘میں نے اپنا سر ہی پیٹ لیا جلدی سے اپنی بیوی نائلہ کو اٹھا یا۔ وہ بھی اسے دیکھ کر ششدر رہ گئی۔
’’جب ہی تو میں کہوں، رات اتنی بے آرامی میں کیوں کٹ رہی تھی۔ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ ضرور آپ کے ان رشتے داروں کی ہی کرامت ہے۔ وہ ہی انہیں اپنے سامان کے ساتھ لائے ہوں گے۔‘‘
اس کی بات مناسب تھی، چنانچہ میں نے اثبات میں اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا، ’’بات تو یہی لگتی ہے پر اب اس کا جلد حل نہ نکالا گیا تو یہ اپنی تعداد میں اضافہ کر کے سارے گھر میں پھیل جائیں گے۔ کم بخت کھٹ۔۔ ۔‘‘
میرے منہ سے لفظ کھٹمل نکلنے سے پہلے ہی میری بیوی نے میرے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، ’’ان کا نام نہیں لینا چاہیے، ورنہ یہ مزید ہو جاتے ہیں۔‘‘
’’تم بھی کیا ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی کی بات کرتی ہو، ویسے یہ راز علم حیوانیات والوں کونہ بتا دینا۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے۔
نائلہ نے کچھ ایسے انداز میں میری طرف دیکھا، جیسے وہ میری لاعلمی کا ماتم کر رہی ہو، ’’ٹھیک ہے، اب اس ضمن میں، میں کیا کہہ سکتی ہوں ویسے یہ ٹوٹکہ لوگوں کا آزمودہ ہے اور ضروری تو نہیں کہ جو باتیں، سائنس کی کتابوں میں نہ لکھیں ہوں، وہ سب توہم پرستیاں ہی ہوں، ہو سکتا ہے کہ سائنس والے اپنے جہل کی بدولت ہی ان سب باتوں سے انجان ہوں اب تک۔ خیر میں صبح احسان بھائی کو فون کرتی ہوں، آپ کو تو شاید علم نہیں ہو گا، مگر چند ماہ پہلے ان کے گھر میں بھی یہی موذی اپنے درشن کروانے آ دھمکا تھا۔ وہ لوگ کافی پریشان رہے، کئی مشہور برانڈز کی کیڑے مار دوائیں اور اسپرے استعمال کئے، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، پھر احسان بھائی کے کسی زمیں دار دوست نے انہیں کوئی دوائی بھجوائی تھی، اس کے تیزاثرسے ہی یہ بلا ٹلی۔ شاید وہ دوا اب بھی ان کے پاس موجود ہو۔ میں معلوم کرتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے بول دو انہیں اس بارے میں، خیر ابھی تو سو ؤ۔‘‘میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
کہنے کو تو میں سونے لیٹ گیا، مگر پوری رات ہی بے چینی کے عالم میں گذری۔ ڈراؤنے ڈراؤنے خواب نظر آتے رہے، جس میں ڈائنوسار کی جسامت کے کھٹمل میرے اوپر حملہ آور ہوتے رہے۔
صبح کچرے والے کی گھنٹی پر میری آنکھ ذرا مشکل سے کھلی۔ جلدی جلدی بستر چھوڑا اور ڈس بن اٹھا کر کچرا دینے چل پڑا۔ وہ جب ڈس بن اٹھانے میرے پاس آیا تو میں نے اسے بہت بجھا بجھا اور نڈھال سا پایا۔ اس کی روایتی پھرتی بھی مفقود تھی۔
’’خیر ہے، کیا طبیعت خراب ہے؟‘‘میں نے استفسار کیا۔
’’ہاں صاحب، کل رات سے نزلہ زکام کھانسی ہو رہا ہے، شاید ابھی بخار بھی ہے۔‘‘اس نے ڈس بن گدھا گاڑی میں خالی کرتے ہوئے کہا۔
’’تو کوئی گولی وغیرہ کھائی یا ڈاکٹر وغیرہ کو دکھایا۔‘‘
’’کیا صاحب، یہ تو ذرا سا مسئلہ ہے۔ ویسے بھی دوا کی اپنی اوقات کہاں۔ لوٹ پوٹ کرخود ہی ٹھیک ہو جاؤں گا۔ آپ فکر مت کرو۔‘‘ اس نے لا پروائی سے کہا اور ڈس بن میرے پاس رکھتے ہوئے، اگلے مکان کی جانب بڑھ گیا۔ کہنے کو تواس نے کہہ دیا کہ فکر نہ کرو، مگر میں فکر مند تھا، کیونکہ مجھے اس کی خراب حالت دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ شدید نوعیت کے وائرل اٹیک کا شکار ہے، جس کا مطلب اسے کئی دن آرام کرنا چاہئے اور باقاعدگی سے دوا دارو بھی کرنا چاہئے۔
’’پھراس کی غیر حاضری میں اتنے دنوں تک گھر کے کچرے کا کیا ہو گا۔‘‘ ایک خود غرضانہ سوچ اندر سی ابھری۔ ’’چلو ہمیں کیا، وہ نہیں تو کوئی اور ہو گا اس کی جگہ، اس کا کوئی بھائی بند۔‘‘اپنے خیال کے کٹھور پن سے میں خود کانپ گیا۔ میں ڈس بن ہاتھ میں لئے کچھ دیر تک اسے کھانستا دیکھتا رہا، پھر اندر آ گیا۔
ناشتے وغیرہ کے بعد ایک مسودے کو نظرِ ثانی کیلئے لے کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ نائلہ آ گئی۔
’’میں احسان بھائی کو فون کر دیا ہے۔ ان کے پاس ابھی بھی وہ دوا بچی ہے۔ کہہ رہے تھے کہ کسی کے ہاتھ آج ہی بھجوا دیں گے۔ ساتھ انہوں نے اس کے استعمال کا طریقہ بھی سمجھا دیا ہے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے یہ بہت اثر دار دوا ہے۔ مگر ساتھ ہی شدید زہریلی بھی۔ بہت احتیاط سے استعمال کی جائے۔ ڈالتے ہوئے منہ پر لازمی کپڑا وغیرہ باندھ لیں۔ اور بعد میں اچھی طرح ہاتھ ضرور دھوئیں۔ ان شاء اللہ، ایک ہی بار ڈالنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے، جیسے ہی آئے مجھے بتا دینا میں ڈال دوں گا۔‘‘ میں نے کہا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
دوا شام آئی تک آ گئی۔ کھانسی کے شربت کی خالی بوتل میں وہ دوا موجود تھی۔ احسان بھائی نے نائلہ کو دوا ڈالنے کا مکمل طریقہ سمجھا دیا تھا۔ لہذا میں اس سے پوچھتا گیا اور ڈالتا گیا۔ اس سے فراغت پا کر میں نے ہاتھ وغیرہ اچھی طرح دھوئے اور شیشی کو ایک پلاسٹک شاپر میں ڈال کر ڈسٹ بن کے حوالے کر دیا۔ چند گھنٹوں کے انتظار کے بعد کمرہ، ایک پرسکون نیند لینے کیلئے ایکدم تیار تھا۔
کھٹملوں سے نجات ملی تو اس کے بعد کئی راتیں بہت سکون سے گذر گئیں۔ یہاں تک کہ میں صبح کچرا دینے بھی نہیں اٹھ سکا۔ اور یہ ذمے داری عارضی پر نائلہ نے اٹھا لی۔ اور جلد ہی مجھے اس بارے میں متنبہ بھی کر دیا۔
لاشعور سے شعور میں آنے کا سبب کچرے والے کی آواز ہی تھی۔ میں غنود گی کے عالم میں اٹھا اور ڈس بن لے کر باہر رکھ دیئے۔ کچرا سمیٹنے والا پرانا لڑکا موجود نہیں تھا۔ اس کی جگہ کوئی اور یہ کام کر رہا تھا۔ شاید اس کا کوئی چھوٹا بھائی وغیرہ تھا۔ میں نے گاڑی پر بیٹھے اس کے باپ کی طرف دیکھا اس کا چہرہ روندھا ہوا تھا۔ اسی وقت بیگ صاحب بھی اپنی ڈس بن لے کر باہر نکل آئے۔
’’السلام وعلیکم بیگ صاحب۔۔ صبح بخیر۔۔ ۔ سب خیریت ہے نا؟‘‘
’’میں تو ٹھیک ہوں، لیکن کیا آپ کو پتہ چلا، وہ جو لڑکا پہلے کچرا سمیٹنے آتا تھا، تین دن پہلے مر گیا ہے۔‘‘
’’کیسے بھئی، اچانک وہ تو بھلا چنگا تھا۔ آخری بار جب اسے دیکھا تو اسے بس نزلہ زکام ہی تھا۔‘‘
’’ہاں جی نزلہ زکام ہی تھا۔ وہ میں آپ کو کہتا نہیں تھا کہ یہ لوگ کچرے میں سے بھی چیزیں اٹھا کر کھا جاتے ہیں۔ بس کچرے چھانٹتے ہوئے اسے کھانسی کے شربت کی آدھی بھری شیشی مل گئی اور اس نے وہ پی ڈالی۔ بس جناب چند گھنٹوں میں ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔ نجانے کس نے وہ بوتل۔۔ ۔۔‘‘ بیگ صاحب کی بات جاری تھی۔ مگر میرے حواسوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔

عامر صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • توبۃ النصوح – فصل یازدہم
  • گہرے پانیوں والی آنکھیں !
  • منٹو پر فحاشی کا الزام
  • رمضان اور متزلزل ایمان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
عامر صدیقی

اگلی پوسٹ
چکن کا رشتہ
پچھلی پوسٹ
کیوں کہ میں نے اب سوچنا شروع کر دیا ہے

متعلقہ پوسٹس

رخ سے پردہ ہٹا کے دیکھیں گے

نومبر 4, 2025

کچھ بدلا ؟

مارچ 26, 2014

رشتہ ایسا ہونا چاہیے

نومبر 22, 2022

بازی وفا کی جیت کے ہارا نہیں کوئی

نومبر 4, 2025

پرند گھر پہ بلاتا ہوں

مئی 15, 2020

آشنائی کا اثاثہ بھی بہت

مارچ 8, 2025

یہ نہیں راستہ نہیں معلوم

جنوری 25, 2020

خراجِ تحسین

جنوری 12, 2025

درد

فروری 4, 2022

لیکن گومتی بہتی رہی

جنوری 3, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

روشن ستارہ

جون 28, 2020

مزدوری

جنوری 28, 2020

علامت کی پہچان

مئی 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں