خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسیاسی اور انتظامی انجینیرنگ کہ بعد!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

سیاسی اور انتظامی انجینیرنگ کہ بعد!

از سائیٹ ایڈمن اگست 23, 2020
از سائیٹ ایڈمن اگست 23, 2020 0 تبصرے 41 مناظر
42

سیاسی اور انتظامی انجینیرنگ کہ بعد!

کیا تحریک انصاف کی اعلی قیادت ایسا سوچ رہی ہے کہ کراچی کو پیپلز پارٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، تاکہ کراچی کی عوام دیکھ لیں کہ انکے مسائل کا حل انکے منتخب کردہ نمائندوں کے پاس نہیں۔موجودہ حالات انکی بے بس کی کھلی داستان سنا رہے ہیں اب عوام کو اگلی بار کچھ الگ سوچنا ہوگا،اور ویسے بھی عنقریب بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ کراچی کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم پاکستان کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ کراچی کو اسکا حق دلانے میں ناکام رہے ہیں، صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی کہ صوبائی حکومت نے انکے ہاتھ پیر باندھ رکھے ہیں یا انہیں مسائل کے حل کیلئے وسائل تک رسائی نہیں۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ایم کیوایم پاکستان تقسیم در تقسیم ہونے کے بعد کراچی کی عوام کے دلوں سے نکل رہی ہے؟ابھی اس بات کا حتمی تعین کرنا مشکل ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان شخصیت کے حصار سے نکل کر نظرئیے کی پیروی کرنے والوں کی جماعت بن چکی ہے، مرکز کی تبدیلی نے سب کچھ بدل دیاہے، کسی بھی قسم کے مفادات پر کوئی رکن سمجھوتا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کو سیاست میں جتنا رگڑا لگا ہے شائد ہی کسی سیاسی جماعت کو یہ اعزاز حاصل ہو۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ جناب فاروق ستار صاحب نے ایم کیوایم پاکستان کو چھوڑا ہے یا ایم کیوایم پاکستان نے انکی قیادت سے منہ موڑا ہے، تاحال وہ ایم کیوایم پاکستان سے ناراض ہیں لیکن زبان ایم کیو ایم پاکستان کی ہی بول رہے ہیں،دوسری طرف کراچی کا ایک اور سپوت جس نے ایم کیوایم پاکستان کی ترجمانی کرتے ہوئے بطور مئیر کراچی کراچی کا بہت حد تک نقشہ درست کیا اور دنیا انکی کارگردگی انکی اہلیت کی معترف ہوئی، سید مصطفی کمال صاحب کہ جنہوں نے نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر ایم کیوایم پاکستان کو خیر باد کہا اور پاک سر زمین نامی ایک اور سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالی جس میں ایم کیوایم سے کچھ اور لوگ نکل کر انکے ساتھ ہولئے۔ یہاں ایم کیو ایم کے سب سے پہلے اختلا ف کرنے والے آفاق احمد صاحب جنہوں نے ایم کیوایم (حقیقی)بنائی کا نام لینا سب سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ آج ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست واپس گھوم پھر کر وہیں آگئی ہے جہاں سے پہلا اختلاف ہوا تھا۔ جماعت اسلامی بھی کراچی میں اپنا بڑا اثر و رسوخ رکھتی ہے لیکن سیاسی طور پر اپنا استحکام واضح نہیں کرسکی ہے جبکہ ایم کیوایم پاکستان کے بعد اگر کوئی جماعت بلدیاتی انتخابات جیت چکی ہے اور اپنا مئیر بھی لا چکی ہے وہ جماعت اسلامی ہی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے مسلسل بر سر پیکار رہتی ہے۔ اس طرح ایم کیوایم پاکستان جو کراچی کی عوام کی طاقت سمجھی جاتی تھی تقسیم ہوتی چلی گئی، اس تقسیم سے جہاں ایم کیوایم پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا وہیں دیگر سیاسی جماعتوں نے فائدہ اٹھانے کی کوششیں شروع کردیں۔ جیساکہ ۸۱۰۲ کہ انتخابات میں دیکھا گیا کہ کراچی سے پاکستان تحریک انصاف، تحریک لبیک پاکستان اور پیپلز پارٹی نے اضافی نشستیں حاصل کیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی سیاست کا منظر نامہ تبدیل ہونے جا رہاہے، ممکن ہو کہ ایسا ہونے جا رہا ہو لیکن موجودہ صوبائی حکومت سندھ ایسا نہیں ہونے دینا چاہتی۔ اگر ہم گزشتہ کچھ عرصے سے جاری پیپلز پارٹی کی سیاست پر نظر ڈالیں تو انکا ہر قدم جو وہ اپنی سیاست مضبوط کرنے کیلئے اٹھا تے ہیں انکی سیاسی بساط اور کمزور کر دیتا ہے۔ حالیہ بارشوں میں پیپلز پارٹی کراچی پر پانی پھیرنے چلی تھی،وفاق اور اعلی عدلیہ نے انکے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ ایم کیوایم پاکستان کو وفاق میں حکومت کے ساتھ بیٹھنا بھی پیپلز پارٹی کیلئے ناگوار ہے جس کا بدلہ وہ کراچی کی عوام سے لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ایم کیو ایم کو وفاقی حکومت کا مشکور ہونا چاہئے کہ انہوں نے ہر طرح بحران میں انکی بروقت معاونت کی۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب کا کراچی کے دورے نا کرنا اس بات کی عکاسی ہے کہ انہیں کراچی جیسے شہر کی ابتر حالت دیکھ کر یقینا دکھ ہوتا ہوگا۔وزیر اعظم عمران خان ایک دوراندیش اور بصیر ت رکھنے والی شخصیت ہیں انہیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ مقامی انتظامیہ ہی مقامی مسائل کے حل کیلئے سب سے بہترین حل ہوسکتی ہے، کیونکہ جس نے رہنا نہیں ہے اس نے لگا نا بھی نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی انگریزوں کے طرز کی حکومت پر یقین رکھتی ہے کیونکہ اس جماعت سے وابستہ لوگوں کی اکثریت زمیندار اور وڈیرے ہیں، یہ عوام سے اپنے مفاد کی خاطرملتے ہیں اور انکے مفادات کیا ہیں یہ عرصہ دراز سے اخبارات اور اب سماجی ابلاغ پر دیکھ ہی رہے ہیں، کون کیا کرتا ہے اور کون کیا اس بحث میں ہم نہیں جاسکتے۔ آج تک اندرون سندھ کا تاثر کسی پتھر کے زمانے کے دور سے مشابہ ہے۔کراچی کی مزید تقسیم اس بات کا اعلان ہے کہ بلدیاتی انتخابات قریب آچکے ہیں، پیپلز پارٹی کراچی میں کبھی اپنا مئیر نہیں لاسکی اور جیسا کہ سیاسی انجینیرنگ نامی اصطلاح آجکل بہت استعمال کی جارہی ہے تو یہاں سندھ میں پیپلز پارٹی نے انتظامی انجینیرنگ کر کے کراچی میں اپنا مئیر لانے کی کوششوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ گزشتہ روز کراچی کے انتظامی ڈھانچے میں ایک بار پھر تبدیلی کی گئی اور ساتویں ضلع کا اعلان کردیا گیا۔ کراچی کو ضلعوں میں بڑی خوشی خوشی اور بغیر کسی سیاسی رائے شماری کے اضافہ کیا جاتا رہا ہے اور جب کبھی پاکستان میں صوبے بنانے کی بات ہوتی ہے تو یہی سیاسی جماعت کھلے عام مارنے اور مرنے کیلئے تیار ہوجاتی ہے۔ اب شہر کراچی میں کچھ وقت کیلئے حکومت سندھ کے اس اقدام پر احتجاج ہوگا کوئی قانون کا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور کوئی اسمبلی کے باہر عارضی دھرنا دے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ من مانیوں کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے اور کب قانون کی بالادستی قائم ہوتی ہے۔ ایم کیوایم پاکستان کی بقاء کیلئے ایک بار پھر کڑا امتحان شروع ہوچکا ہے کیونکہ ضلع کے اضافے کو تو ایم کیوایم پاکستان روک نہیں سکتی، لیکن کیا بلدیاتی انتخابات میں کراچی کی عوام اپنے ووٹ سے اس انتظامی انجینیرنگ کو شکست دے سکینگے۔ اس کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کو اپنی جماعت سے نکلنے والوں کیساتھ اتحاد بنانا پڑے گا،وگر نہ تقسیم سے پیپلز پارٹی بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

سب اپنے اپنے مفادات کی حفاظت پر کمر بستہ ہونے کیلئے تیار ہوجائینگے، کراچی پھر اسی طرح کچرے کا ڈھیر رہے گا، روشنیوں کا شہر اندھیرے میں ڈوبا رہے گا اور بارش ہوگئی تو پانی میں بھی ڈوب جائے گا۔ ضلع بنا کر مئیر بنا بھی لیا تو کراچی تو مزید کچراچی میں تبدیل ہوکر رہ جائے، پھر آنے والے وقتوں میں کراچی جو ایک شہر ہوا کرتا تھا پڑھایا جائے گا۔ اس مضمون کے اختتام پر اپنے تمام سیاست دانوں سے دلی درخواست کرنا چاہونگا کہ خدارا سیاسی مفادات پاکستان کے مفاد میں قربان کردیں، ہر وہ عمل جس سے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچتا ہے روک دیں، یہ اگست کا مہینہ ہے جو پاکستان کیلئے کسی دوسرے مبارک مہینوں سے کم اہمیت نہیں رکھتا۔ابھی صرف متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اسکے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کئے ہیں اور اسی دن سے اسرائیلی فوجی غزہ کو مٹانے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں آنکھیں کھولیں اپنا مقصد حیات جانیں، موت ہر لمحہ ہمارے ساتھ گھوم رہی ہے کسی بھی لمحے ساتھ لے جائے گی۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا
  • جوانی
  • آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں
  • ذرا یہ زلف جو کھولے تو تیرے ساتھ چلوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فکر میں وحشتِ عمل کیا ہے
پچھلی پوسٹ
تقسیم ہند اور کشمیر

متعلقہ پوسٹس

ہمیں دیتا ہے قرآن یہاں

مئی 11, 2024

آپ سے انس ہوا چاہتا ہے

مئی 3, 2020

موت سے پہلے

اکتوبر 13, 2025

زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے

اکتوبر 18, 2025

بیٹیاں نا قابل برداشت بوجھ !

جنوری 14, 2021

بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں

اپریل 18, 2020

گل بدن خاک نشینوں سے

جنوری 8, 2025

امیر شہر سے جب اختلاف کرتا ہوں

نومبر 20, 2019

ہورے کیڑی گل توں ڈریا ہویا اے

اکتوبر 25, 2025

ایک بار الکشن میں

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سید علی شاہ گیلانی کا ورثہ

ستمبر 19, 2025

منتظر ہے شام

مارچ 6, 2023

سنو اے شاہِ دل میرے

فروری 21, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں