520
بے وفا روبرو تجھے دیکھوں
ہے مری آرزو تجھے دیکھوں
عشق کی آنکھ میں لئے آنسو
درد زیرِ نمو تجھے دیکھوں
اے مرے زخم تو محبت ہے
کیوں بھلا میں رفو تجھے دیکھوں
ہے عبادت مری محبت میں
ہو کے میں با وضو تجھے دیکھوں
کتنا دلکش ملا مجھے دھوکہ
میں کہ بے آبرو تجھے دیکھوں
آسماں آئنہ بنا کے حسیب
خوش ہوں اب چار سو تجھے دیکھوں
حسیب بشر
