384
سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے
اس کہانی میں اضافی تذکرہ میرا بھی ہے
بے سبب آوارگی مصروف رکھتی ہے مجھے
رات دن بیکار پھرنا مشغلہ میرا بھی ہے
بات کر فرہاد سے بھی انتہائے عشق پر
مشورہ مجھ سے بھی کر کچھ تجربہ میرا بھی ہے
کیا ضروری ہے اندھیرے میں ترا تنہا سفر
جس پہ چلنا ہے تجھے وہ راستہ میرا بھی ہے
ہے کوئی جس کی لگن گردش میں رکھتی ہے مجھے
ایک نکتے کی کشش سے دائرہ میرا بھی ہے
بے سبب یہ رقص ہے میرا بھی اپنے سامنے
عکس وحشت ہے مجھے بھی آئنہ میرا بھی ہے
ایک گم کردہ گلی میں ایک ناموجود گھر
کوچۂ عشاق میں عاصمؔ پتہ میرا بھی ہے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
