472
کہیں سے آیا تمہارا خیال ویسے ہی
غزل کا ہونا ہوا ہے کمال ویسے ہی
ہمارے حسن نظر کا کمال کچھ بھی نہیں
تو کیا تمہارا ہے سارا جمال ویسے ہی
ترا وصال کہ جس طور میرے بس میں نہیں
ہوا ہے ہجر میں جینا محال ویسے ہی
ترا جواب مرے کام کا نہیں ہے اب
کہ میں تو بھول چکا ہوں سوال ویسے ہی
کہا یہ کس نے کہ اکتا گیا جنوں سے میں
پڑا ہوں دشت میں اب تو نڈھال ویسے ہی
اچھالتا ہے جزیروں کو جس طرح اے بحر
مری بھی لاش کو تہہ سے اچھال ویسے ہی
نکالتا ہے تو جس طور رات سے سورج
ہماری شب سے ہمیں بھی نکال ویسے ہی
زبیر قیصر
