701
یاد
یاد ایک بے رنگ بے مہک
مرجھایا ہوا گلاب
جس کے کانٹوں کی چبھن
باقی رہتی ہے صدا
یاد ماضی کی بنائی ہوئی
ایک دھندلی تصویر
میل نہیں کھاتا جس سے حال کا چہرہ
پھر بھی لگی ہے دل کی دیوار پر
یاد ٹوٹا پھوٹا ایک ایسا کھلونا
جس سے انسان دل بہلانا چاہے
بے کار ہونے کے باوجود
اسے پھینکنا نہیں چاہے
یاد ایک سراب
زیست کے ریگستان میں
جو اور بھی بڑھا دے
تھکے ہارے مسافر کی پیاس
ایلزبتھ کورین مونا
