562
نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر
کوئی نشان لگاتا ہے
اور راتوں رات تمام گھروں پر
وہی سیاہی پھر جاتی ہے
دکھ کا شب خوں روز ادھورا رہ جاتا ہے
اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے
میں اور میرا شہر محبت
تاریکی کی چادر اوڑھے
روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں
گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں
حد سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے
اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں
انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے
اب باری انگشت شہادت کی آنے والی ہے
صبح سے پہلے وہ کٹنے سے بچ جائے تو
پروین شاکر
