628
عشق سامان بھی ہے بے سروسامانی بھی
اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی
ہم بھی ویسے نہ رہے دشت بھی ویسا نہ رہا
عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی
وہ جو برباد ہوئے تھے ترے ہاتھوں وہی لوگ
دم بخود دیکھ رہے ہیں تری حیرانی بھی
آخر اک روز اترنی ہے لبادوں کی طرح
تن ملبوس! یہ پہنی ہوئی عریانی بھی
یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی
سعود عثمانی
