294
رنج درپردہ خیالات کا حاصل ہی نہ ہو
یعنی یہ زہر مری ذات کا حاصل ہی نہ ہو
رات سورج کی طرح تھا مری چوکھٹ پہ چراغ
یہ مری شب کی مناجات کا حاصل ہی نہ ہو
دیکھتا ہوں میں جو مہتاب تو شک ہوتا ہے
یہ کہیں تیرے جمالات کا حاصل ہی نہ ہو
خاک در خاک جو ہم بنتے بکھرتے ہیں یہاں
یہ ہنر ارض و سماوات کا حاصل ہیں نہ ہو
تم جسے رات کی رعنائی سمجھ بیٹھے ہو
وہ دیا شب کے مفادات کا حاصل ہی نہ ہو
خود سے بیزار خموشی کو پکارو کیسے
میرا آوازہ مری مات کا حاصل ہی نہ ہو
