359
کوئی ایسا سبب نہیں ہوتا
ذکر بھی تیرا اب نہیں ہوتا
زندگی منقسم سی رہتی ہے
تُو مرے پاس جب نہیں ہوتا
روح سے روح کا ہے سلسلہ عشق
اِس میں نام و نسب نہیں ہوتا
اُس کو بھی آرزو نہیں میری
مَیں بھی دستِ طلب نہیں ہوتا
ہر گھڑی دِل پکارتا ہے تجھے
تو تصور میں کب نہیں ہوتا
جس غزل میں نہ ذکرِ جاناں ہو
وہ ادب کچھ ادب نہیں ہوتا
لوگ اُلجھے ہوئے ہیں سورج سے
یعنی اب ذکرِ شب نہیں ہوتا
ساحل سلہری
