365
بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑا
ہمیں بھی داد کا مرہم گوارا کرنا پڑا
بہت ہوس تھی مجھے رزق شعر کی لیکن
جو مل رہا تھا اسی پر گزارا کرنا پڑا
کھڑی تھی میرے لئے آنسوؤں کی بارش میں
سو تیری یاد سے ملنا گوارا کرنا پڑا
میں اس سے کم پہ زمانہ مرید کر لیتا
خیال عشق میں جتنا تمہارا کرنا پڑا
ملا نہ ایک بھی آنسو درون چشم مجھے
سو منہ چھپا کے دکھوں سے کنارہ کرنا پڑا
جو خواب نیند سے بھی چھپ کے دیکھتا تھا میں
کسی کی آنکھ سے اس کا نظارہ کرنا پڑا
نگاہ یار نے کچھ ایسے عیب ڈھونڈھ لیے
تمام کار محبت دوبارہ کرنا پڑا
اب اس سفر کی صعوبت کا کیا کہیں جس میں
قدم قدم پہ ہمیں استخارہ کرنا پڑا
سنبھالی جاتی نہیں روشنی زمیں سے کبیرؔ
سپرد خاک یہ کیسا ستارہ کرنا پڑا
ڈاکٹر کبیر اطہر
