405
وہ عکس مجھ میں جنوں ساز رقص کرنے لگا
میں آئنے کی طرح ٹوٹنے بکھرنے لگا
شب الم ہے ستاروں سے ہم کلامی ہے
اسی بہانے سفر خیر سے گزرنے لگا
میں تم سے دور ہوا ہوں تو مصلحت ہے کوئی
یہ مت سمجھنا کہ مل کے نشہ اترنے لگا
نہیں رہی ترے نقش قدم کی باس یہاں
یہ راستہ تری یادوں سے اب سنورنے لگا
شمشیر حیدر
