362
اشک گرنے کی صدا آئی ہے
بس یہی راحت گویائی ہے
سطح پر تیر رہے ہیں دن رات
نیند اک خواب کی گہرائی ہے
ان پرندوں کا پلٹ کر آنا
اک تخیل کی پذیرائی ہے
عکس بھی غیر ہے آئینہ بھی
یہ تحیر ہے کہ تنہائی ہے
ان دریچوں سے کہ جو تھے ہی نہیں
اک اداسی ہے کہ در آئی ہے
دل نمودار ہوا ہے دل میں
آنکھ اک آنکھ سے بھر آئی ہے
اس کی آنکھوں کی خموشی عادلؔ
ڈوبتے وقت کی گویائی ہے
ذوالفقار عادل
