تمہارے ہوتے ہوئے جاں مری کو آیا دکھ

تمہارے ہوتے ہوئے جاں مری کو آیا دکھ
نہیں ہے اس سے کوئی بڑھ کے بھی خدایا دکھ

وہ کہہ رہا تھا کہ دکھ اس کا کچھ زیادہ ہے
تو میں نے کھول کے بٹوہ اسے دکھایا دکھ

میں اپنی ماں کو ہی دکھڑے سنایا کرتا تھا
سو اس کے بعد خدا کو نہیں سنایا دکھ

ہجوم_شہر میں اپنا نہیں ملا کوئی
ملا ہے دکھ تو گلے زور سے لگایا دکھ

یہ پیڑ چھوڑ کے جانے کا دکھ سمجھتے ہیں
سو میں نے پیڑ کو جا کر ترا بتایا دکھ

منیر انجم منیر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے