کون کہتا ہے بار بار ملے

کون کہتا ہے بار بار ملے
ایک لمحہ خوشی کا یار ملے

میرے ہونے کا مرثیہ لکھے
میرے رونے پہ اشک بار ملے

یار اک شخص اس جہان میں بھی
میرے ہونے کا دعویدار ملے

موت آنی ہے میں نے مانا پر
سانس لینے کا اختیار ملے

جس کو نفرت تھی مانگنے سے کبھی
اب وہ کہتا ہے کچھ ادھار ملے

آپ جیسا مجھے ملا ہی نہیں
میرے جیسے تو بےشمار ملے

منیر انجم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے