لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو
ممکن ہے خوبیوں پہ تمہیں کچھ سزا ہی ہو

دونوں امور ہم نے سپردِ خدا کیے
اب ہو وفا کسی کی تو چاہے جفا ہی ہو

چوکھٹ کبھی نہ چھوڑیں گے پروردگار کی
دل مبتلائے درد ہو چاہے شفا ہی ہو

دونوں ہی صورتوں میں وہ دل کو عزیز ہے
راضی رہے وہ مجھ سے تو چاہے خفا ہی ہو

مجھ کو تلاش کرنے دو ان نفرتوں کے بیچ
شاید محبتوں کا کوئی گل کھلا ہی ہو

دستک ہوئی ہے دل پہ جو خالدؔ تو کھول در
ممکن ہے تیرے درد کی اب کے دوا ہی ہو

اویس خالدؔ

Related posts

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں