کلام خاص نوجوانوں کے لیے

یوں پہلی نظر کا ملنا نہ سمجھ تو اسے بہانہ محبت کا
ہے عقل پر پردہِ عشق، باقی ہے فیصلہ قدرت کا

آغاز ہوا انجام سے غافل ، یہاں قیام عارضی تیرا
ہے امتحان ہر دن ، تو مسافر ہے چند لمحات کا

نہ ہوجاؤ عین جوانی میں ، ربِ کریم سے باغی تم
نشانہ ہے ابلیس کا نوجوان ، دکھا کر بہانہ الفت کا

ہے گمان تمہیں کہ کٹ جائیں گی زندگی یوں ہی
کھوئی ہے منزلِ آخرت تم نے و راستہ ھدایت کا

غفلتوں کے سبب ہوئے پست زمانے میں ہم حجازی
کرو واپسی تم اگر دین پر ، ہوگا ذریعہ یہ نجات کا

احمد حجازی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر