وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے
وہ اگر پاس بٹھائے تو خوشی ہوتی ہے

اس قدر زخم ملے ہیں مجھے خوابوں سے کہ اب
رات میں نیند نہ آئے تو خوشی ہوتی ہے

موسمِ دکھ میں اچانک کوئی اپنا آکر
مجھے سینے سے لگائے تو خوشی ہوتی ہے

چلتے چلتے کسی ویران سٹیشن پہ کوئی
دور سے ہاتھ ہلائے تو خوشی ہوتی ہے

صورتِ نثر ہمیشہ سے طبیعت اُس کی
وہ اگر شعر سنائے تو خوشی ہوتی ہے

جب بھی وہ میرا دیا پھول محبت سے صمیم
اپنے بالوں میں سجائے تو خوشی ہوتی ہے

سہیل احمد صمیم

Related posts

آمد

چلو چلیں

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا